بُلی بائی معاملے کے ملزم وشال جھا کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو، بھیجا گیا کوارنٹائن سنٹر

وشال کمار جھا کا جب کووڈ-19 ٹیسٹ کرایا گیا تو رپورٹ پازیٹو برآمد ہوا ہے، 21 سالہ وشال انجینئرنگ اسٹوڈنٹ ہے جسے ممبئی پولیس نے بنگلورو سے گرفتار کیا تھا۔

کورونا وائرس، تصویر یو این آئی
کورونا وائرس، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

بُلی بائی معاملے میں گرفتار ملزم وشال کمار جھا میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔ 21 سالہ وشال ایک انجینئرنگ اسٹوڈنٹ ہے جسے ممبئی پولیس نے بنگلورو سے گرفتار کیا تھا۔ جب اس کا کووڈ ٹیسٹ کرایا گیا تو رپورٹ پازیٹو برآمد ہوا ہے۔ بعد ازاں اسے بی ایم سی نے کوارنٹائن سنٹر بھیج دیا ہے۔ پولیس نے اس کے وکیلوں اور گھر والوں کو اس بات کی خبر دے دی ہے۔

تکنیکی جانکاری ملنے کے بعد اسے 3 جنوری کو ممبئی پولیس کی ایک ٹیم نے بنگلورو سے گرفتار کیا تھا۔ 4 جنوری کو ممبئی پولیس نے اتراکھنڈ باشندہ شویتا سنگھ کو بھی گرفتار کیا تھا جو کہ دوسری ملزم تھیں۔ بعد ازاں تیسرے ملزم مینک راول کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔ ممبئی پولیس کے علاوہ اس معاملے کی جانچ کر رہی دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے بھی دو گرفتاریاں کی ہیں۔ اسپیشل سیل نے بُلی بائی کے اہم ملزم نیرج بشنوئی اور سُلی ڈیل کے اہم ملزم اونکاریشور ٹھاکر کو گرفتار کیا ہے۔


یکم جنوری کو بُلی بائی ایپ، جو گِٹ ہب پر چلائی جا رہی تھی، نے صحافیوں، سماجی کارکنان، طلبا اور مشہور ہستیوں سمیت ایک خاص مذہب کی کئی خواتین کی تصویریں پوسٹ کی تھیں۔ یہ معاملہ سُلی ڈیل تنازعہ کے چھ مہینے بعد سامنے آیا۔ جھا بُلی بائی کے فالوورس میں سے ایک تھا جس نے پولیس ٹیم کو دیگر ملزمین تک پہنچایا۔

ہوسٹنگ پلیٹ فارم گِٹ ہب نے سُلی ڈیلس کو اپنے اسٹیج پر جگہ دی تھی اور اس بار بھی بُلی بائی کو گِٹ ہب پلیٹ پر ہی بنایا گیا تھا۔ بعد میں جب تنازعہ ہوا تو گِٹ ہب نے یوزر کو اپنے ہوسٹنگ پلیٹ فارم سے ہٹا دیا۔ لیکن تب تک بُلی بائی نے ملک گیر تنازعہ کھڑا کر دیا تھا۔ بُلی بائی ایپ کو ایک خالصتانی حامی کی ڈِسپلے تصویر کے ساتھ بُلی بائی نام کے ایک ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعہ مشتہر کیا جا رہا تھا۔ یہ ٹوئٹر ہینڈل بُلی بائی ایپ کی حمایت کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ خواتین کو ایپ سے بُک کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہینڈل ساتھ ہی ساتھ خالصتانی مواد کی تشہیر بھی کر رہا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔