اتر پردیش: بی جے پی اور یوگی کے مفت راشن-تیل پر الیکشن کمیشن نے لگائی پابندی

اتر پردیش میں مفت سامانوں کے بھروسے ووٹ حاصل کر لینے کا بی جے پی کا داؤ الٹا پڑتا معلوم پڑ رہا ہے، اس قسم کے منصوبے مثالی ضابطہ اخلاق کے پینچ میں پھنس گئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

کے. سنتوش

یوگی حکومت نے اتر پردیش کے 15 کروڑ سے زیادہ انتودے اور پاتر گرہستی کے کارڈ ہولڈروں کو ایک لیٹر ریفائنڈ تیل، ایک کلوگرام چنا دال اور نمک دینے کا اعلان کیا تھا۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہولی یعنی مارچ مہینے تک اس کی تقسیم کی جائے گی۔ مفت راشن پر ریاستی حکومت کو ہر مہینے 1200.42 کروڑ روپے خرچ کرنا تھا۔ یعنی چار مہینے میں حکومت کے خزانے سے 4801.68 کروڑ روپے خرچ ہوتے۔ دسمبر سے ہی ان کی تقسیم ہونی تھی لیکن فراہمی میں تاخیر سے 15 کروڑ میں سے 5 کروڑ لوگوں کے درمیان بھی ان کی تقسیم نہیں ہو سکی۔ اب انتخابی کمیشن نے ریفائنڈ، چنا اور نمک کے پیکٹوں پر پی ایم مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی تصویر ہونے کے سبب اس کی تقسیم پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حال یہ ہے کہ جنھیں ریفائنڈ تیل اور چنا دال نہیں ملا ہے وہ کوٹہ داروں سے بحث کر رہے ہیں۔ گونڈا میں گرام پنچایت بالپور جاٹ میں لوگوں کا تیل اور چنا نہیں دینے کو لے کر ہوئے تنازعہ کے بعد ضلع مجسٹریٹ کو کوٹہ ہی معطل کرنا پڑا۔

اسی طرح یو پی کے 49 اضلاع کے 24 لاکھ 77 ہزار 8 طلبا نے ٹیبلٹ اور موبائل کے لیے رجسٹریشن کرایا تھا لیکن 1.53 فیصد کو بھی گیزٹ نہیں ملے اور اب ضابطہ اخلاق کے پینچ میں لاکھوں ٹیبلٹ اور موبائلس پھنس گئے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے پہلے مرحلہ میں 38 ہزار 140 طلبا کو لیپ ٹاپ-ٹیبلٹ کی تقسیم کی تھی۔ بقیہ طلبا و طالبات کی امیدیں مثالی ضابطہ اخلاق لگتے ہی ختم ہو گئی ہیں۔ بغیر مودی-یوگی تصویر کے راشن والے بیگ تو دوبارہ حکومت تیار کر رہی ہے لیکن ٹیبلٹ-موبائل پر ان کی تصویر لگی ہوئی ہیں اور انھیں ہٹا کر تقسیم کروانا مشکل ہو رہا ہے۔


لکھنؤ میں بی ٹیک طالب علم منیش مشرا کا کہنا ہے کہ ’’حکومت جانتی تھی کہ انتخابات کے اعلان کے بعد تقسیم ممکن نہیں ہوگی۔ اس کے بعد بھی وقت پر اقدامات نہیں کیے گئے۔‘‘ اتنا ہی نہیں، ٹیبلٹ تقسیم کرنے کے چکر میں کالجوں کے پرنسپل کو مقدمہ تک جھیلنا پڑ رہا ہے۔ 7 جنوری کو بستی کے اے پی این کالج کے پرنسپل ڈاکٹر اے پی سنگھ کے خلاف طلبا و طالبات کو ٹیبلٹ-موبائل تقسیم کرنے کے الزام میں مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج ہو گیا۔

سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد ہی سہی یوگی حکومت نے مزدوروں کے اکاؤنٹ میں ہرجانہ بھتہ کے نام پر 500-500 روپے دینے کا اعلان کیا۔ انتخاب سے ٹھیک پہلے لوگوں کو 1000-1000 روپے دینے کے سرکاری دعوے کے بعد صوبے کے 7 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے ای-شرم پورٹل پر رجسٹریشن کرا لیا۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کا رجسٹریشن ہو سکے، اس کے لیے بی جے پی لیڈروں نے کیمپوں کا انعقاد کیا۔ عوامی انفارمیشن سنٹر اور آن لائن درخواست کرنے والوں نے ایک ایک درخواست دہندہ سے رجسٹریشن کے نام پر 50 سے 200 روپے تک وصول کیے۔ اب لوگ بینکوں سے لے کر گاہک سروس سنٹر پر لمبی لائن لگا کر یہ پتہ کر رہے ہیں کہ روپے آئے کہ نہیں!


بارابنکی میں بینک پر لائن لگانے کے بعد مایوس لوٹی 35 سالہ سویتا راجبھر نے بتایا کہ ’’دو گھنٹے لائن میں لگنے کے بعد پاس بک میں انٹری ہوئی، روپے نہیں آئے ہیں۔ درخواست اور کرایہ میں 200 روپے خرچ ہو گئے، ایک روپے بھی نہیں ملا۔‘‘

لکھنؤ کے سینئر صحافی اتکرش سنہا کہتے ہیں کہ ’’سوال حکمت کی نیت پر ہے۔ سماجوادی پارٹی نے بجلی بل کو لے کر بات کی تو یوگی حکومت کی طرف سے بھی ہاف بل کا سیاسی اعلان ہو گیا۔ یہ بھی نہیں دیکھا کہ یہ فیصلہ نافذ ہو بھی پائے گا بھی یا نہیں۔ اسمارٹ فون یا پھر فری ریفائنڈ تیل تقسیم کا فیصلہ انتخابی نہیں ہوتا تو اسے پہلے ہی شروع کرنا چاہیے تھا۔ حکومت کی منشا پر سوال ہے۔‘‘


سماجوادی پارٹی لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ کنور اکھلیش سنگھ کہتے ہیں کہ ’’انتخاب کے چند دنوں پہلے مودی-یوگی کی تصویر لگے راشن، ٹیبلٹ-موبائل کی تقسیم بتاتی ہے کہ ان کی منشا غریبوں کو فائدہ دینا نہیں، انتخابی رشوت دے کر لبھانے کی ہے۔‘‘

گورکھپور یونیورسٹی میں ہندی ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر چترنجن مشرا مفت خوری کے سیاسی ٹرینڈ پر کہتے ہیں کہ ’’کورونا بحران میں مدد کرنا غلط نہیں لیکن انتخاب کے چند دنوں پہلے والی مفت خوری جمہوریت میں فکر بڑھانے والی ہے۔ سبھی سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ ووٹروں کو مفت خوری کی طرف لے جانے کے چلن سے بڑا طبقہ مایوس ہے۔ غیر اخلاقی چلن کو لے کر انتخابی کمیشن کو مداخلت کرنی ہوگی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔