بی جے پی نے اپنی ’مافیا سیاست‘ سے ایک اور منتخب حکومت کو گرا دیا: کانگریس

پڈوچیری کانگریس کے انچارج دنیش گنڈو راؤ نے کہا ہے کہ ہماری حکومت نے مرکز کے عدم تعاون کے باوجود لوگوں کے لیے کام کیا۔ بی جے پی نے اپنی مافیا سیاست کے ذریعہ منتخب حکومت کو غیر مستحکم کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش کے بعد محض ایک سال کے اندر پڈوچیری کی بھی کانگریس حکومت گر گئی ہے۔ اتفاقاً دونوں ہی ریاستوں میں پارٹی کے کچھ اراکین اسمبلی کے استعفیٰ کے بعد اقلیت میں آنے کے سبب حکومتیں گریں۔ پڈوچیری کے حالیہ واقعہ کے بعد کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ مرکزی حکومت اس کی منتخب ہوئی ریاستی حکومتوں کو گرانے کے لیے قومی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہی ہے۔

پڈوچیری کانگریس کے انچارج دنیش گنڈو راؤ نے کہا کہ ’’بی جے پی حکمراں مرکزی حکومت نے سی بی آئی، انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ، ای ڈی جیسی ایجنسیوں کا استعمال کر ہمارے اراکین اسمبلی کو دھمکایا، انھیں بلیک میل کیا۔‘‘ اتنا ہی نہیں، پارٹی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کروڑوں روپے دے کر بی جے پی نے اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت کی۔

دنیش گنڈو راؤ نے آگے کہا کہ ’’وہ جانتے ہیں کہ ہماری حکومت نے مرکز کے عدم تعاون کے باوجود لوگوں کے لیے کام کیا۔ بی جے پی نے اپنی مافیا سیاست کے ذریعہ منتخب حکومت کو غیر مستحکم کیا ہے۔ ایسا انھوں نے ہندوستان کی کئی ریاستوں، مثلاً مہاراشٹر، کرناٹک، مدھیہ پردیش وغیرہ میں بھی کیا۔ بی جے پی جمہوریت کا احترام نہیں کرتی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ پڈوچیری میں پیر کو اسمبلی میں فلور ٹیسٹ سے پہلے ہی کانگریس کی قیادت والی حکومت کے وزیر اعلیٰ وی نارائن سامی نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’پڈوچیری میں جو ہو رہا ہے وہ سیاسی قحبہ گری ہے۔ لیکن سچائی کی جیت ہوگی۔‘‘

دوسری طرف پڈوچیری میں سیاسی اتھل پتھل کے تعلق سے کانگریس لیڈر اور سابق جنرل سکریٹری بی کے ہری پرساد نے کہا کہ ’’جن ریاستوں میں بی جے پی کو انتخاب میں اکثریت حاصل نہیں ہوئی، ان ریاستوں میں وہ حکومتیں گرا رہی ہے۔ اس کے لیے وہ ہر قسم کے ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہے۔ لیکن عوام سب دیکھ رہی ہے اور سمجھ رہی ہے اور وقت آنے پر اپنا جواب ضرور دے گی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


پسندیدہ ترین
next