بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے پھر اپنی ہی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا

ورون گاندھی نے کہا کہ اتر پردیش کے کسان سمودھ سنگھ گزشتہ 15 دنوں سے اپنی دھان کی فصل کو فروخت کرنے کے لیے منڈیوں میں مارے مارے پھر رہے تھے، جب نہیں بکا تو مایوس ہو کر اس میں آگ لگا دی۔

ورون گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
ورون گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کئی مواقع پر پارٹی لائن سے الگ رائے رکھنے والے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے ایک بار پھر کسانوں کے ایشوز کو لے کر اپنی ہی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ کر کہا ہے کہ اتر پردیش کے کسان سمودھ سنگھ گزشتہ پندرہ دنوں سے اپنی دھان کی فصل کو فروخت کرنے کے لیے منڈیوں میں مارے مارے پھر رہے تھے۔ جب دھان نہیں بک سکا تو مایوس ہو کر اس میں خود ہی آگ لگا دی۔ اس نظام نے کسانوں کو کہاں لا کر کھڑا کر دیا ہے؟ زراعتی پالیسی پر از سر نو غور کرنا اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے حکومت کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ انھوں نے پیلی بھیت میں زبردست بارش کے سبب آئے سیلاب کو لے کر اتر پردیش کی یوگی حکومت پر حملہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ اگر عام آدمی کو اس کے حال پر ہی چھوڑ دیا جائے گا تو پھر حکومت کا کیا مطلب ہے۔


جہاں تک کسان سمودھ سنگھ کا معاملہ ہے، ان کا تعلق لکھیم پور کھیری سے ہے۔ انھوں نے اپنے دھان کے ڈھیر پر پٹرول ڈال کر آگ لگا دی تھی۔ سمودھ سنگھ کا الزام تھا کہ وہ سرکاری منڈی پر گزشتہ 14 دنوں سے دھان فروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن کوئی دھان خریدنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس سے مایوس ہو کر انھوں نے یہ قدم اٹھایا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔