رام مندر کے نام پر بی جے پی لیڈران منافع کی لوٹ میں ملوث، 30 کروڑ کی چندہ چوری کے ثبوت بے نقاب: کانگریس

کانگریس پارٹی کے ذریعہ جاری کردہ پریس بیان میں کہا گیا کہ دو کروڑ کی زمین کو رام مندر نرمان ٹرسٹ کو 26 کروڑ 50 لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا۔ کیا مندر کے چندہ چوری کا اس سے بڑا کوئی ثبوت ہو سکتا ہے!

رام مندر، آئی اے این ایس
رام مندر، آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس پارٹی نے بی جے پی لیڈروں پر ایودھیا میں زیر تعمیر رام مندر کے چندے میں ہر پھیر کرنے اور مندر کے آس پاس کی زمین خرید میں گھوٹالہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہا گیا کہ بھگوان رام کے نام پر تمام اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے رام مندر کے چندے کی لوٹ کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بی جے پی لیڈران، ان کے دوست، رام مندر ٹرسٹ کے نمائندے یہ کھیل مودی اور آدتیہ ناتھ حکومتوں کی سرپرستی میں کھیل رہے ہیں۔

کانگریس پارٹی کے ذریعہ جاری کردہ پریس بیان میں کہا گیا کہ دو کروڑ کی زمین کو رام مندر نرمان ٹرسٹ کو 26 کروڑ 50 لاکھ روپے میں فروخت کیا گیا۔ کیا مندر کے چندہ چوری کا اس سے بڑا کوئی ثبوت ہو سکتا ہے! بیان کے مطابق 15 نومبر 2017 کو حویلی اودھ، باغ بجیسی ایوھیا کی 2.3 ہیکٹیئر زمین کو محفوظ عالم وغیرہ نے مفرور مجرم ہریش کمار پاٹھک عرف بابا ہری داس اور ان کی اہلیہ کسم پاٹھک کو دو کروڑ روپے میں فروخت کر دیا۔


بیان کے مطابق یہ زمین وقف کی جائیداد تھی، اس گھوٹالہ کے حوالہ سے ایودھیا کے پولیس اسٹیشن میں 2018 میں رپورٹ بھی درج کرائی گئی تھی۔ بعد میں 18 مارچ 2021 کو شام کو 6 بجے کے بعد 10370 مربع میٹر یعنی 1.037 ہیکٹیئر زمین 8 کروڑ روپے میں مندر ٹرسٹ کو فروخت کر دی گئی۔

اسی بابا ہریداس اور اس کی بیوی کسم پاٹھک نے 18 مارچ کی شام کو ہی 7 بج کر 10 منٹ پر اس میں سے 1.203 ہیکٹیئر زمین روی موہن تیواری اور سلطان انصاری کو 2 کروڑ روپے میں فروخت کر دی۔ اس کے بعد اسی دن 7 بج کر 15 منٹ پر یہ 12080 مربع میٹر زمین 18 کروڑ 50 لاکھ روپے میں مندر ٹرسٹ کو فروخت کرنے کا اقرار نامہ کیا گیا۔


تینوں ہی سودوں میں انیل مشرا اور رشی کیش اپادھیائے گواہ ہیں۔ انیل مشرا آر ایس ایس کے عہدیدار رہ چکے ہیں اور انہیں وزیر اعظم مودی نے مندر نرمان ٹرسٹ کا رکن بنایا ہے۔ جبکہ بی جے پی لیڈر رشی کیش اپادھیائے ایودھیا کے میئر ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے نزدیکی ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 18 مارچ 2021 کو شام 7.10 بجے اور 7.15 بجے یعنی پانچ منٹ میں زمین کے دام دو کروڑ روپے سے بڑھ کر 18.5 کروڑ ہو جاتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کوئی زمین 5 لاکھ 50 ہزار فی سیکنڈ کے حساب سے مہنگی ہوئی۔ اس قیمت کی ادائیگی اس رقم سے کی گئی جو لوگوں نے مندر تعمیر کے لئے چندے کے طور پر دی تھی۔


حیران کن بات یہ ہے کہ روی موہن تیواری اور سلطان انصاری کی جانب سے زمین خریدنے کے لئے ای اسٹامپ سرٹیفکیٹ زمین خریدنے سے قبل ہی جمع کر دیئے گئے تھے، جبکہ اس وقت تک نہ تو وہ زمین کے مالک تھے اور نہ ہی انہوں نے ای اسٹامپ خریدا تھا۔ رام مندر ٹرسٹ کے سکریٹری چمپت رائے کو پہلے ہی کس طرح معلوم تھا کہ دونوں 5.22 بجے پر زمین خریدنے کے لئے اسٹامپ خریدیں گے اور وہ شام کو 7.10 بجے پر رجسٹری کرائیں گے اور اس کے پانچ منٹ بعد دو کروڑ کی زمین 18.5 کروڑ روپے میں رام مندر ٹرسٹ کو فروخت کر دیں گے؟

آخر میں پریس بیان میں سوال کیا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ رام مندر تعمیر کے چندے کی اس لوٹ پر خاموش کیوں ہیں؟ کیا رام مندر تعمیر میں چندہ چوری کی جانچ ہوگی اور قصورواروں کو سزا ملے گی؟ کیا رام مندر ٹرسٹ کے سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انیل مشرا کی جانچ ہوگی؟ ایودھیا کے بی جے پی سے وابستہ میئر، بی جے پی کے ارکان اسمبلی اور پارٹی کے دوسرے لیڈران کی جانچ ہوگی۔ کیا سپریم کورٹ رام مندر ٹرسٹ میں ہو رہی چندے کی ہیرا پھیری پر نوٹس لے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔