سنجے راؤت نے سابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ پر لگایا ملک سے غداری کا الزام

راؤت نے کہا کہ یہ انکشاف مہاراشٹر راج بھون کے ذریعہ مارچ میں دھیریندر اپادھیائے نامی کارکن کو سونپے گئے آر ٹی آئی کے ایک جواب میں ہوا ہے جو کریٹ سومیّا اور ان کے حامیوں کی ملک سے غداری کا ثبوت ہے۔

شیو سینا لیڈر سنجے راؤت / IANS
شیو سینا لیڈر سنجے راؤت / IANS
user

قومی آوازبیورو

شیوسینا رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ کریٹ سومیّا نے مبینہ طور پر ملک کے پہلے طیارہ بردار جہاز ’آئی این ایس وکرانت‘ کو بچانے کے لیے جمع کی گئی رقم میں 58 کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا۔ راؤت نے کہا کہ یہ انکشاف مہاراشٹر راج بھون کے ذریعہ مارچ میں دھیریندر اپادھیائے نامی کارکن کو سونپے گئے آر ٹی آئی کے ایک جواب میں ہوا ہے جو سومیّا اور ان کے حامیوں کی ملک سے غداری کا ثبوت ہے۔

کارکن نے 14-2013 میں ’وکرانت‘ کو بچانے کے لیے عوام، سبکدوش اور سروس انجام دے رہے دفاعی اہلکاروں اور افسران کے ذریعہ جمع کردہ رقم کی تفصیل طلب کی تھی۔ راؤت نے کہا کہ ’’سومیّا نے پیسہ اگاہی کرنے والوں کے ساتھ مدد کرنے کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا کہ جمع کی گئی رقم کو راج بھون میں مہاراشٹر کے گورنر کو سونپ دی جائے گی۔ راج بھون نے کہا ہے کہ انھیں ایسی کوئی رقم حاصل نہیں ہوئی۔‘‘


اس تعلق سے کریٹ سومیّا کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ ان کی بیوی اور دوستوں کے خلاف کارروائی ہونے کے بعد راؤت صرف ’ٹائم پاس‘ کر رہے ہیں۔ سومیّا نے یہ بھی کہا کہ ’’انھوں نے میری بیوی، میری فیملی اور مجھ پر کئی الزام لگائے۔ اگر ان کے پاس میرے خلاف کوئی ثبوت ہیں تو انھیں وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو سونپ دینا چاہیے۔‘‘

بہرحال، سنجے راؤت نے سومیّا کو ایک ’کیڑے‘ کے طور پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر حکومت ’وکرانت کو بچانے‘ کے لیے رقم کے غلط استعمال کی جانچ کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ سومیا ایک چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ ہیں جو جانتے ہیں کہ اس طرح کے پیسے کو کیسے ہضم کرنا ہے، اور مطالبہ کیا کہ مرکزی ایجنسیاں بھی اس معاملے کی غیر جانبداری کے ساتھ جانچ کرے۔


1997 میں آئی این ایس وکرانت کے بے کار ہونے کے بعد اسے 2012 تک ایک میوزیم کی شکل میں محفوظ کیا گیا تھا، جس کے بعد اسے بچانے کے لیے رقم کی ضرورت تھی۔ اس وقت سومیا نے پیسہ جمع کرنے والی مہم کی مدد کرنے کی پیشکش کی تھی جس میں ممکنہ طور پر 58-57 کروڑ روپے جمع کیے گئے تھے جو راجستھان کو سونپے جانے تھے۔ اب راؤت نے کہا کہ اتنے سالوں بعد آر ٹی آئی کے ذریعہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ راج بھون کو کبھی فنڈ ملا ہی نہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔