ٹیک فوگ ایپ سے بی جے پی خاتون صحافیوں کو بنا رہی ہے نشانہ: کانگریس

کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے کہا کہ ٹیک فوگ ایپ کو بی جے پی کی شہہ حاصل ہے اور بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ دیبانگ دبے اسے چلا رہے ہیں۔

کانگریس پارٹی / آئی اے این ایس
کانگریس پارٹی / آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) انٹرنیٹ پر ’ٹیک فوگ ایپ‘ کے ذریعے مخصوص فرقے، خواتین اور بالخصوص خاتون صحافیوں کے خلاف نازیبا تبصرہ کر کے انھیں نشانہ بنا رہی ہے اور نفرت پھیلانے کا کام کر رہی ہے۔ کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے یہاں خصوصی پریس کانفرنس میں کہا کہ اس ایپ کے ذریعے سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور ٹوئٹر وغیرہ کے ذریعے خاص فرقے کے خلاف فحش تشہیر ہوتی ہے اور خواتین اور بالخصوص خاتون صحافیوں کی بابت قابل اعتراض تبصرہ کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ایپ پر کئی افراد تبصرہ کرتے ہیں لیکن ان کی زبان ایک ہی جیسی ہوتی ہے۔

کانگریس ترجمان نے مرکزی حکومت سے اس بابت چپی توڑنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جب ایک معروف نیوز ایجنسی نے اس ایپ کے خطرناک کردار کا انکشاف کر دیا ہے تو حکومت کو سامنے آنا چاہیے۔ شرینیت نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ اس بابت حکومت کچھ نہیں کرے گی لہٰذا انہوں نے سپریم کورٹ سے اس معاملے میں از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔


سپریا شرینیت نے کہا کہ اس ایپ کو بی جے پی کی شہہ حاصل ہے اور بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ دیبانگ دبے اسے چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایپ کے آپریٹنگ میں سرور کا پتہ لگانا مشکل کام ہوتا ہے کیونکہ یہ مختلف سرور کے ذریعے سے آپریٹ کیا جا تا ہے۔ لاک ڈاؤن کے وقت جب مزدور چلچلاتی دھوپ میں پیدل اپنے گھروں کو جا رہے تھے تو اس وقت اسی ایپ کا جم کر استعمال ہوا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔