بجنور: عوام نے پرینکا گاندھی میں ’اندرا کا عکس‘ دیکھ لگائے ’اندرا-اندرا‘ کے نعرے

جب پرینکا گاندھی تقریر کے لیے مائک تک پہنچیں تو بھیڑ حیرت انگیز طور پر پوری طرح خاموش ہو گئی۔ پرینکا کی تقریر کو جمع بھیڑ غور سے سن رہی تھی اور ان کی باتوں کی گہرائی کو سمجھنے کی کوشش بھی کر رہی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آس محمد کیف

جب بجنور کے چاند پور میں بوقت دوپہر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی آمد کی دستک ہوئی تھی تو سہارپور کے لیڈر عمران مسعود اسٹیج سے تقریر کر رہے تھے۔ وہ پوری روانی کے ساتھ تقریر کر رہے تھے اور بھیڑ بھی انھیں بغور سن رہی تھی، لیکن جیسے ہی پرینکا گاندھی کی گاڑی آئی تو بھیڑ سب کچھ بھول کر پرینکا کی طرف دیکھنے لگی اور ان میں ایک الگ طرح کا جوش نظر آنے لگا۔ کرسیوں پر بیٹھے لوگ کھڑے ہو گئے۔ اسٹیج سے تو نعرے لگ ہی رہے تھے، عوام کے درمیان بھی نعرہ بازی دیکھنے کو ملی۔ بھیڑ سے ’اندرا-اندرا‘ کی آوازیں آ رہی تھیں اور سبھی جذباتی ہو گئے تھے۔

پرینکا گاندھی گاڑی سے اتر کر سامنے آئیں اور ہاتھ ہلا کر بھیڑ کا شکریہ ادا کیا۔ تالیوں کی گڑگڑاہٹ کے درمیان ’پرینکا گاندھی زندہ باد‘ کے نعرے لگنے لگے۔ پہلی بار بجنور پہنچی پرینکا گاندھی کو دیکھ کر سینکڑوں کی تعداد میں یہاں موجود لڑکیوں اور عورتوں نے ان کا کھڑے ہو کر استقبال کیا۔ پرینکا گاندھی بھی کافی دیر تک اس استقبال کے جواب میں ہاتھ ہلا کر شکریہ ادا کرتی رہیں۔ عالم یہ تھا کہ پرینکا گاندھی بیٹھ کر پھر سے کھڑی ہوئیں اور الگ الگ سمت میں ہاتھ ہلا کر لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

تصویر آس محمد کیف
تصویر آس محمد کیف

اس درمیان کانگریس لیڈر اور مقامی رہنما راشد علوی نے پرینکا گاندھی کو بتایا کہ بجنور ضلع کا چاند پور وہی قصبہ ہے جہاں کی دانشور شخصیت ’ابوالفضل‘ اکبر کے دربار کے نورتنوں میں شامل تھے۔ راجہ بھرت کا بھی جنم یہیں ہوا جن کے نام پر ہمارے ملک کا نام بھارت پڑا۔ گنگا کے دوسرے سرے پر واقع ہستناپور میں کورووں کی ناانصافی بہت زیادہ بڑھ گئی تو پانڈووں کو پہلا سہارا بجنور میں ہی ملا۔ یہیں وِدور کُٹی بھی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ چاند پور میں پنڈت جواہر لال نہرو بھی آ چکے ہیں اور ان کی دادی اندرا گاندھی بھی یہاں کا دورہ کر چکی ہیں۔ یہ سب باتیں راشد علوی بتا ہی رہے تھے کہ بھیڑ سے ’اندرا-اندرا‘ کی آوازیں آنے لگیں۔

پھر جب پرینکا گاندھی تقریر کے لیے مائک تک پہنچیں تو بھیڑ حیرت انگیز طور پر پوری طرح خاموش ہو گئی۔ پرینکا کی تقریر کو جمع بھیڑ غور سے سن رہی تھی اور ان کی باتوں کی گہرائی کو بھی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ سب سے دلچسپ بات یہ رہی کہ ان کی تقریر کے دوران وہاں تعینات پولس اہلکاروں بھی کافی متاثر نظر آئے اور وہ دھیان لگا کر ان کی باتوں کو سنتے دیکھے گئے۔ اس کسان پنچایت میں بڑی تعداد میں پہنچے لوگوں کے درمیان پرینکا گاندھی اپنا اثر چھوڑنے میں پوری طرح کامیاب رہیں۔

تصویر آس محمد کیف
تصویر آس محمد کیف

پابلی جٹ گاؤں سے یہاں پہنچے 60 سالہ کسان رویندر کمار نے بتایا کہ انھوں نے 30 سال سے کانگریس کو ووٹ نہیں کیا ہے۔ یہاں وہ ووٹ کے لیے بھی نہیں آئے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ وہ صرف پرینکا گاندھی کے لیے آئے ہیں جو بالکل اپنی دادی اندرا گاندھی جیسی دکھائی دیتی ہیں۔ میں نے انھیں سنا ہے، ان کی باتوں میں سچائی ہے۔ ایک ایل لفظ دل میں اتر رہا تھا۔ میں کسان ہوں، یہ ہماری لڑائی ہے۔ پرینکا جی اس مشکل وقت میں ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم شرمندہ ہیں، ہم ان کا شکریہ بھی ادا نہیں کر سکتے۔ وہ آج بھی کہہ رہی ہیں کہ وہ ہر مشکل میں ہمیشہ ہمارے ساتھ کھڑی رہیں گی۔

اپنی تقریر کے دوران پرینکا گاندھی نے دو بڑے اسباب سے یہاں پہنچے لوگوں کے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔ جیسے ہی انھوں نے کہا کہ وہ وعدہ کرتی ہیں اور قسم کھاتی ہیں کہ وہ ہر مصیبت میں ہمیشہ لوگوں کے ساتھ رہیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس پہلے دن سے کسانوں کے ساتھ ہے اور اس میں کوئی سیاسی مفاد نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پرینکا گاندھی کا کسانوں کی شہادت کے لیے دو منٹ کی خاموشی اختیار کرنا اور ’جے جوان، جے کسان‘ کے نعرے لگوانا بھی گہرا اثر چھوڑ گیا ہے۔ یہاں ڈیوٹی پر تعینات خاتون کانسٹیبل انجو ملک (بدلا ہوا نام) نے ہمیں بتایا کہ وہ ان کی بات سن کر بہت جذباتی ہو گئی تھیں۔ پرینکا جی کی بات بہت گہری جڑ چھوڑ گئی ہے۔

تصویر آس محمد کیف
تصویر آس محمد کیف

چاند پور کا یہ جلسہ کسان تحریک کی حمایت میں منعقد کیا گیا تھا اور آپسی بھائی چارے کا یہ عالم تھا کہ بین الاقوامی باکسر بجیندر سنگھ اپنے خطاب کے دوران اذان کی آواز سن کر خاموش ہو گئے تھے اور اذان مکمل ہونے کے بعد انھوں نے اپنی بات پوری کی۔ چاند پور کا یہ رام لیلا میدان پوری طرح ہورڈنگ سے بھرا ہوا تھا اور لوگوں میں الگ طرح کا جوش دیکھنے کو مل رہا تھا۔ یہاں پہنچے کرانہ کی دکان چلانے والے عبدالعزیز نے ہمیں بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ وہ کسان نہیں ہیں اور پرچون کی دکان کرتے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ آج کسان بھائیوں پر مصیبت آ گئی ہے اور وہ اس وقت ان کے ساتھ ہیں۔ اس کے علاوہ آنے والے وقت میں ان قوانین کی مار میں سب سے پہلے کسان اور مزدور آئیں گے، اور پھر مہنگائی بڑھنے پر عام آدمی بھی پس جائے گا۔ یعنی ایک نہ ایک دن ہمارا نمبر بھی آئے گا۔ آج کسانوں کو ہماری حمایت کی بہت ضرورت ہے۔

بجنور کسان پنچایت میں پہنچی خاتون بلقیس نے ہمیں بتایا کہ سچ یہ ہے کہ وہ صرف پرینکا گاندھی کی وجہ سے یہاں آئی تھیں، انھوں نے پرینکا گاندھی کو سنا اور ان کی باتوں کو پسند کیا۔ بلقیس نے کہا کہ وہ حیرت انگیز طور پر حساس ہیں اور اتنی صاف گوئی سے اپنی بات رکھتی ہیں کہ وہ دل میں اتر گئی ہیں۔ ان کی تقریر کے دوران بالکل شور نہیں ہوا، وہ بے جوڑ باتیں کہہ گئیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔