بہار: مونگیر میں 'مورتی وِسرجن' کے دوران ہنگامہ، ایک شخص کی موت، کئی زخمی

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ "ہم لوگ مورتی وِسرجن کر رہے تھے لیکن پولس جلدبازی میں کرنے کو کہہ رہی تھی، نہیں کرنے پر ہم لوگوں کے ساتھ مار پیٹ اور گولی باری کی گئی جس میں ایک کی موت ہو گئی۔"

تصویر بشکریہ اے بی پی نیوز
تصویر بشکریہ اے بی پی نیوز
user

تنویر

بہار کے مونگیر ضلع میں اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا جب 'مورتی وِسرجن' کے لیے نکلے ایک جلوس کو پولس نے تیزی سے آگے بڑھانے کی گزارش کی تاکہ انتخابی ماحول میں کسی طرح کی بدنظمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پولس کی اس کوشش میں کچھ مقامی لوگ ناراض ہو گئے اور بات اتنی بڑھ گئی کہ کئی راؤنڈ گولیاں چل گئیں۔ اس گولی باری میں ایک شخص کی موت ہو گئی اور تقریباً نصف درجن لوگ زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ میں کوتوالی انچارج سمیت تین پولس جوان کے بھی زخمی ہونے کی خبریں ہیں۔

ہندی نیوز پورٹل 'اے بی پی' پر شائع ایک خبر کے مطابق مونگیر میں پہلے مرحلہ میں ہی تینوں اسمبلی حلقہ یعنی جمال پور، تارا پور اور مونگیر میں ووٹنگ ہونی ہے۔ اس وجہ سے انتظامیہ نے مورتی وِسرجن جلد کروانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس دوران شادی پور کی مورتی وِسرجن کے لیے دھیمی رفتار سے بڑھ رہے مجمع کو دین دیال چوک کے پاس پوجا سمیتی سے آگے بڑھانے کے لیے جب انتظامیہ نے زور دیا تو لوگ مخالفت کرنے لگے۔ اسی دوران حالات خراب ہو گئے جس کو قابو میں کرنے کے لیے پولس نے لاٹھی چارج شروع کر دی۔

بتایا جاتا ہے کہ پولس لاٹھی چارج کے دوران مقامی لوگوں نے پتھراؤ شروع کر دیا۔ اس دوران کچھ لوگ مشتعل ہو گئے اور گولیاں چلانے لگے۔ اس گولی باری میں کوتوالی تھانہ علاقہ کے لوہا پٹی باشندہ 22 سالہ انوراگ کمار کی موت جائے واقعہ پر ہی ہو گئی۔ اس گولی باری میں 7 دیگر لوگ زخمی ہیں جس میں ایک کی حالت سنگین بنی ہوئی ہے۔ اسے بہتر علاج کے لیے بھاگلپور ریفر کر دیا گیا ہے۔ دیگر 6 لوگوں کا علاج صدر اسپتال میں چل رہا ہے۔

ہنگامہ کے تعلق سے مہلوک کے اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے پولس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ "ہم لوگ مورتی کا وِسرجن کر رہے تھے لیکن پولس جلدبازی میں کرنے کو کہہ رہی تھی، نہیں کرنے پر ہم لوگوں کے ساتھ مار پیٹ اور گولی باری کی گئی جس میں ایک کی موت ہو گئی۔" اس تعلق سے مونگیر کی پولس سپرنٹنڈنٹ لیپی سنگھ کا کہنا ہے کہ "مورتی وِسرجن کے دوران شرارتی عناصر کے ذریعہ ہنگامہ کیا گیا ہے۔ گولی باری بھی شرارتی عناصر نے ہی کی ہے، جس میں ایک کی موت ہوئی ہے اور کئی دیگر زخمی ہیں۔" لیپی سنگھ کے مطابق کوتوالی تھانہ انچارج بھی زخمی ہیں اور پولس کے بھی تین جوان زخمی ہوئے ہیں، فی الحال حالات پرامن اور قابو میں ہیں۔

next