بہار: 7 سیٹوں پر 1000 سے کم ووٹوں کے فرق سے ہارے مہاگٹھ بندھن امیدوار، ورنہ...

ہلسا اسمبلی سیٹ پر مقابلہ بہت دلچسپ رہا جہاں محض 12 ووٹوں کے فرق سے ہار-جیت ہوئی۔ یہاں جنتا دل یو کے پریم مکھیا نے 61848 ووٹ حاصل کیے، اور آر جے ڈی امیدوار شکتی سنگھ یادو کو 61836 ووٹ ملے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

بہار اسمبلی انتخاب کا نتیجہ برآمد ہونے کے بعد مہاگٹھ بندھن امیدواروں کو ان 7 سیٹوں پر کامیابی حاصل نہ کرنے کا ملال رہے گا جہاں 1000 سے بھی کم ووٹوں سے انھیں شکست ملی۔ اگر ان 7 سیٹوں پر فتحیابی نصیب ہوئی ہوتی تو بہار کا سیاسی منظرنامہ یقیناً بدلا ہوا ہوتا۔ آئیے جانتے ہیں کہ وہ 7 سیٹ کون سے ہیں جہاں مہاگٹھ بندھن امیدواروں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، اور کتنے ووٹوں کے فرق سے جیت ان سے دور ہو گئی۔

ہلسا:

ہلسا اسمبلی سیٹ پر مقابلہ بہت دلچسپ رہا جہاں محض 12 ووٹوں کے فرق سے ہار اور جیت ملی۔ اس سیٹ پر جنتا دل یو کے پریم مکھیا نے 61848 ووٹ حاصل کیے، اور دوسرے نمبر پر رہنے والے آر جے ڈی امیدوار شکتی سنگھ یادو کو 61836 ووٹ ملے۔ یہاں نوٹا (دیے گئے امیدواروں میں سے کوئی نہیں) کو ملے 1022 ووٹوں کو دیکھ کر شکتی سنگھ یادو کو ضرور افسوس ہو رہا ہوگا کہ اس کا کچھ حصہ انھیں کیوں نہیں مل گیا۔

بربیگھا:

بربیگھا سیٹ پر جنتا دل یو امیدوار سدرشن کمار نے کامیابی حاصل کی جنھیں 39878 ووٹ ملے۔ یہاں کانگریس امیدوار گجانند شاہی دوسرے مقام پر رہے جنھیں 39765 ووٹ حاصل ہوئے۔ ان دونوں امیدواروں کے درمیان جیت اور ہار کا فاصلہ محض 113 ووٹوں کا رہا۔ اس شکست سے کانگریس امیدوار حیران ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مہاراشٹر میں کانگریس کے ساتھ حکومت میں شریک پارٹی این سی پی کے امیدوار کو 834 ووٹ حاصل ہوئے۔ اگر یہ ووٹ نہیں کٹتے تو مہاگٹھ بندھن کو ضرور فائدہ ہوتا۔

مٹیہانی:

مٹیہانی اسمبلی سیٹ سے جنتا دل یو نے نریندر کمار سنگھ کو کھڑا کیا تھا جنھیں 61031 ووٹ ملے۔ اس سیٹ پر سی پی آئی ایم امیدوار راجندر پرساد سنگھ کو 60599 ووٹ ملے جو کہ جنتا دل یو امیدوار سے 432 ووٹ کم ہے۔ انھیں بھی اگر نوٹا کو ملے ووٹوں کا کچھ حصہ مل جاتا تو فتحیابی حاصل ہو جاتی، کیونکہ اس سیٹ پر نوٹا کو 6700 سے زائد ووٹ حاصل ہوئے۔

بھورے:

اس اسمبلی سیٹ پر بھی جنتا دل یو امیدوار کو فتح نصیب ہوئی ہے۔ جنتا دل یو امیدوار سنیل کمار نے 74067 ووٹ حاصل کیے ہیں، جب کہ مہاگٹھ بندھن میں شامل سی پی آئی (ایم ایل) امیدوار جتیندر پاسوان 73605 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ دونوں کے درمیان ووٹوں کا فرق 462 رہا۔ اس سیٹ پر نوٹا (یعنی دیے گئے امیدواروں میں سے کوئی نہیں) کو 8 ہزار سے زائد ووٹ پڑے۔ جتیندر پاسوان کو افسوس ہوگا کہ اگر نوٹا کو ملے ووٹوں کا چھوٹا حصہ بھی ان کی طرف آ جاتا تو فتح نصیب ہو جاتی۔

بچھواڑا:

اس اسمبلی سیٹ پر بی جے پی امیدوار سریندر مہتا کو 54738 ووٹ ملے، جب کہ سی پی آئی امیدوار اودھیش کمار رائے کو 54254 ووٹ حاصل ہوئے۔ بی جے پی امیدوار کو اس سیٹ پر 484 ووٹوں سے جیت ملی۔ اس سیٹ پر ووٹ شماری کے درمیان کافی سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا، لیکن بالآخر سی پی آئی امیدوار دوسرے مقام پر رہے۔

چکئی:

چکئی اسمبلی سیٹ پر آر جے ڈی امیدوار کو آزاد امیدوار کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ آزاد امیدوار سمت کمار سنگھ نے جہاں 45548 ووٹ حاصل کیے، وہیں آر جے ڈی کی ساوتری دیوی نے 44967 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ ہار اور جیت کے درمیان 581 ووٹوں کا فرق رہا۔ اس سیٹ پر نوٹا کو 6500 سے زائد ووٹ ملے تھے۔

پربتّا:

پربتّا اسمبلی سیٹ سے جنتا دل یو نے ڈاکٹر سنجیو کمار کو کھڑا کیا تھا جنھیں 77226 ووٹ حاصل ہوئے۔ آر جے ڈی امیدوار دگمبر پرساد تیواری نے انھیں سخت ٹکر دی، لیکن 76275 ووٹوں کے ساتھ دوسرے مقام پر رہے۔ ان دونوں کے درمیان جیت اور ہار کا فاصلہ 951 ووٹوں کا رہا۔ اس سیٹ پر نوٹا کو 1923 ووٹ حاصل ہوئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next