اقلیتیں اویسی کی بین پر ناچنا بند کریں... سید خرم رضا

اگر اقلیتوں نے اپنے اندر بیٹھے دشمنوں کو پہچان لیا تو یہ خود، ملک اور انسانیت کے لئے بہتر ہوگا، ورنہ دیوار پر لکھی عبارت صاف ہے۔ اقلیتوں کو ملک سے محبت ہے تو اویسی جیسوں کی بین پر ناچنا بند کرنا ہوگا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

بہار اسمبلی کے نتیجے آ گئے ہیں اور نتیجوں کو لے کر بہت سارے سوال کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بہار کے عوام نے نتیش کمار کی قیادت میں پھر سے حکومت تشکیل کرنے کا موقع دیا ہے۔ کانگریس کے تعلق سے دو تین باتیں بہت کہی جا رہی ہیں کہ کانگریس کی ان انتخابات میں کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے اور جتنی سیٹوں پر وہ میدان میں تھی اس کے تناسب میں اس نے جتنی سیٹیں جیتی ہیں وہ بہت کم ہیں یعنی پچھلی مرتبہ وہ 40 سیٹوں پر چناؤ لڑی تھی اور 27 سیٹیں جیتی تھیں اور اس مرتبہ 70 سیٹوں پر چناؤ لڑی اور محض 19 سیٹیں ہی جیت پائی۔ دوسرا یہ کہ کانگریس جس کے ساتھ اتحاد کرتی ہے اس کو نقصان ہوتا ہے جیسے اتر پردیش میں اکھیلیش کے ساتھ اور بہار میں تیجسوی کے ساتھ، کانگریس کی کارکردگی کے تعلق سے بہت کچھ کہا جا سکتا ہے اور کہا جا رہا ہے لیکن میں بہت ساری وجوہات میں سے صرف اویسی فیکٹر پر بات کروں گا۔

میں نے تقسیم ہند کے بارے میں نہ زیادہ پڑھا ہے اور نہ ہی اس دور کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے لیکن اپنے دور میں کھل کھیل کر زندگی گزاری ہے۔ ملک کے لئے درد اور ملک سے محبت کیا ہوتی ہے اسے خوب محسوس کیا ہے۔ کیسے قوم پرستی نے پہلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا اور پھر اس نے کیسے اپنے پیر ہندوستان میں پسارنے شروع کیے، اس سارے عمل کو دیکھا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمہ کے ساتھ سماجواد پر مبنی کمیونزم نظام بھی ’کوما‘ میں چلا گیا اور سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا میں اکلوتہ متبادل بن کر رہ گیا۔ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد سرمایہ دار اور سرمایہ ہوتی ہے جس میں وہ سب کچھ ہوتا نظر آتا ہے جس میں سرمایہ دار کا پیسہ بڑھتا ہے اور غریب کا کم ہوتا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ دار کے دو بڑے ہتھیار ہوتے ہیں ایک جعلی قوم پرستی اور دوسری مذہبی شدت پسندی۔ ان دو کے سوا سرمایہ دار کو کچھ نہیں چاہیے ہوتا، کیونکہ یہی وہ ہتھیار ہیں جن کے بل بوتے پر سرمایہ دار اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کرواتے ہیں اور پھر حکومتوں سے اپنی مرضی کے فیصلے کرواتے ہیں۔ جب بھی غریب اور ضرورت مند کے مسائل پر کوئی بات کرنے کی کوشش کرتا ہے اس وقت یا تو جعلی قومی پرستی کا مدا اٹھاکر اس میں الجھا دیا جاتا ہے یا پھر مذہبی شدت پسندی کو ہوا دے دی جاتی ہے۔ جعلی قوم پرستی کے لئے ایک دشمن ملک اور ایک کمزور قوم کی ضرورت ہوتی ہے۔ مذہبی شدت پسندی کے لئے ایک دوسرے کے سامنے شدت پسند مذہبی تنطیم یا سیاسی پارٹی کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

ہندوستان جیسے ملک میں یہ دونوں ہتھیار موجود ہیں اور سرمایہ دار اپنی پسند کی حکومتوں سے یہ ہتھیار استعمال کرواتا رہتا ہے اور اپنے مالی فائدوں میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ جن حکومتوں کی بیساکھیاں سرمایہ دار ہوں وہ اپنے آقاؤں کے لئے ان کے ماتحت ’الادین کے جن‘ کی طرح کام کرتے ہیں۔ مذہبی شدت پسندی کے لئے ایک گروہ اقتدار میں چاہیے ہوتا ہے اور دوسرا اپوزیشن میں۔ اپوزیشن میں مذہبی شدت پسندی کا کردار ایم آئی ایم کے اسد الدین اویسی بخوبی ادا کر رہے ہیں۔ ویسے تو مذہبی شدت پسندی کو پروان چڑھانے کے لئے اویسی کے کردار سے سب واقف ہیں۔ جب ان سے اس تعلق سے سوال کیے جاتے ہیں تو وہ ماہر اور قابل وکیل کی طرح فوراً کسی اور کی نہیں بلکہ کانگریس کی کمیاں اور خامیاں گنوانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے لئے وہ کانگریس کے دور میں مسلم کش فسادات، بابری مسجد کے تالے کھلوانے سے لے کر شیو سینا کے ساتھ اتحاد کرنے تک کی باتیں ایک ہی زبان میں گنوا دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ اقلیتوں کی اپنی طاقت پہچاننے کی بات کرتے ہیں۔

اویسی کی یہ ساری دلیلیں معصوم اقلیتوں کے دل میں اتر جاتی ہیں اور وہ ان بیچاروں کے ہیرو بن جاتے ہیں۔ جس کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ہوتا ہے اور بی جے پی مخالف قووتوں کو نقصان ہوتا ہے۔ ویسے تو اویسی کا دل جانتا ہے کہ ان کے کس قدم سے کس کو نقصان اور کس کو فائدہ پہنچتا ہے لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ان کو اور ان کی پارٹی کو خوب فائدہ ہوتا ہے۔ ان کو بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ راجیو گاندھی کس سوچ کے مالک تھے اور ان کے بچے کس سوچ کے مالک ہیں۔ جب وہ بابری مسجد کا تالا کھلوانے کی بات کرتے ہیں تو بہت خوبصورتی سے شاہ بانو کیس کو بھول جاتے ہیں، جس میں راجیو گاندھی نے اویسی جیسے رہنماؤں کے دباؤ میں عدالت کے فیصلہ کو ان لوگوں کو خوش کرنے کے لئے بدل دیا۔ اب جس برسر اقتدار پارٹی کی وہ پیچھے کے راستے سے مدد کرتے ہیں اور وہ حکومت طلاق ثلاثہ کو ختم کرتی ہے تو ان کو قبول ہو جاتا ہے۔ وہ اس کے خلاف احتجاجاً پارلیمنٹ کی رکنیت بھی نہیں چھوڑتے، کیونکہ پارلیمنٹ میں دیئے ان کے ہر بیان سے نہیں بلکہ ان کے لباس تک سے بی جے پی کو فائدہ ہوتا ہے۔ اویسی جیسی قوتوں نے اس وقت راجیو گاندھی پر دباؤ ڈال کر وہ فیصلہ بدلوایا۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ شاہ بانو کے فیصلہ کی وجہ سے راجیو گاندھی پر تالا کھلوانے کا دباؤ ڈالا گیا اور انہوں نے دباؤ کی وجہ سے یہ بات مان لی۔ شیوسینا کے ساتھ کانگریس کے اتحاد سے اویسی کی تکلیف بھی جائز ہے کیونکہ اگر کسی اتحاد سے بی جے پی کمزور ہوتی ہے تو وہ ان کا اور بی جے پی کا ذاتی نقصان سمجھا جاسکتا ہے۔

بہرحال بہار انتخابات سے صاف ہوگیا ہے کہ اویسی کس کے ساتھ ہیں۔ آج جو بر سر اقتدار اتحاد این ڈی اے میں جش کا ماحول ہے تو اس کے لئے این ڈی اے کو اویسی کا بھی شکر گزار ہونا چاہیے۔ اویسی جیسے قائد نئے نہیں ہیں ایسے قائد ہر دور میں رہتے ہیں بس ان کو پہچاننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر وقت پر پہچان لیا تو ملک اور قوم دونوں بچ جاتے ہیں اور وقت پر نہیں پہچانا تو ملک، قوم اور یہ قووتیں بھی برباد ہو جاتی ہیں، کیونکہ نفرت کی آگ سے کوئی بھی نہیں بچ پاتا۔ یہ لوگ نفرت بیچتے ہیں اور جس کو بھی مضبوط اور مستحکم کرنے کی بات کرتے ہیں اس کو ہی دراصل اسمیک پلا رہے ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی جیسی تنظیمیں اور اویسی میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے کیونکہ ان کے لوگوں نے بھی اس خیال کو فروغ دینے کی ہر ممکن کوشش کی کہ اقلیتوں کی علیحدہ سیاسی جماعت ہونی چاہیے اور ان کی اپنی طاقت ہونی چاہیے۔ انہیں جب بھی موقع ملا انہوں نے اور سیکولر قووتوں کو ایک دشمن کی طرح پیش کیا۔

سرمایہ دارانہ نظام ہر نئے دن کے ساتھ ان ہتھیاروں کے سہارے مضبوط ہوتا جا رہا ہے اور اگر ایسا ہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب سیکولر قووتیں تو ختم ہو ہی جائیں گی لیکن اویسی جیسے قائد پائڈ پائپر کی طرح اپنی بین (وکیلوں والے نفرت بھرے بیانات) بجا کر شہر کے سارے بچوں (معصوم اقلیتوں) کو لے کر برباد کر دیں گے۔ اگر اقلیتوں نے اپنے اندر موجود بیٹھے دشمنوں کو پہچان لیا تو یہ ان کے لئے، ملک کے لئے اور انسانیت کے لئے بہتر ہوگا، نہیں تو دیوار پر لکھی تعبیر بہت صاف ہے۔ اقلیتیں کو اگر ملک اور قوم سے محبت ہے تو انہیں اویسی جیسوں کی بین پر ناچنا بند کرنا ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next