بہاراسمبلی انتخاب: ووٹوں کی گنتی شروع، سبھی کی دھڑکنیں تیز

اس بار ای وی ایم کی تعداد میں 40 فیصد کا اضافہ ہواہے۔ اس وجہ سے انتخابی نتائج آنے میں پہلے کے مقابلے تاخیر ہوگی۔ پہلے دوپہر تک پہلا انتخابی نتیجہ آجاتا تھا، لیکن اس بار رات تک آنے کا امکان ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

بہار کی 243 اسمبلی سیٹوں کے لیے گزشتہ دنوں ہوئی تین مراحل کی ووٹنگ کے بعد اب گنتی شروع ہو گئی ہے۔ اس ووٹ شماری کو لے کر صرف امیدواروں کی ہی نہیں بلکہ عوام کی دھڑکنیں بھی تیز ہو رہی ہیں۔ سبھی یہ جاننے کے لیے بے تاب ہیں کہ آئندہ پانچ سالوں کے لیے حکومت کس اتحاد کو ملے گی۔ لوگ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ مہاگٹھ بندھن اور این ڈی اے کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملے گا یا پھر وہ ایگزٹ پول صحیح ثابت ہوں گے جو تیجسوی بریگیڈ کو 150 سے 190 سیٹیں دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

چیف الیکشن افسر ایچ آر شری نیواس نے پیر کے روز بتایا کہ ووٹوں کی گنتی کے لیے سبھی ضروری تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ ریاست کے سبھی 38 اضلاع میں بنائے گئے 55 رائے شمار ی مراکز پر منگل کو صبح آٹھ بجے سے ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو جائے گا۔ سب سے پہلے بیلٹ پیپر سے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کی جائے گی، اس کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے ووٹوں کی گنتی کی شروعات ہوگی۔ رائے شماری سے منسلک افسران کے مطابق ای وی ایم سے ایک راؤنڈ کی گنتی کرنے میں 15 سے 20 منٹ کا وقت لگے گا اس لئے پہلا رجحان صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے آنے کا امکان ہے۔

کورونا کے مد نظر ووٹوں کی گنتی کے کام میں سوشل ڈسٹنسنگ پر عمل کیا جائے گا۔ انتخابی کمیشن کی ہدایت کے مطابق ایک ہال میں سات ٹیبل پر ہی گنتی کی جائے گی۔ ساتھ ہی دوسرے قریب کے ہال میں سات دیگر ٹیبل پر گنتی ہوگی۔ پہلے ایک ہی ہال میں 14 ٹیبل لگتے تھے لیکن کورونا کی وجہ سے دو ہال میں سات-سات ٹیبل رکھے جائیں گے۔ مین ہال میں الیکشن افسر اور دوسرے ہال میں اسسٹنٹ الیکشن افسر تعینات رہیں گے۔ ان کے علاوہ ہر ایک مرکز پر مائیکرو آبزرور بھی تعینات رہیں گے۔

ذرائع کے مطابق اس بار ای وی ایم کی تعداد میں 40 فیصد کا اضافہ ہواہے۔ اس وجہ سے انتخابی نتائج آنے میں پہلے کے مقابلے تاخیر ہوگی۔ پہلے دوپہر تک پہلا انتخابی نتیجہ آجاتا تھا، لیکن اس بار رات تک آنے کا امکان ہے۔ اس بار کے اسمبلی انتخاب میں مہا گٹھ بندھن کے سب سے بڑے حلیف اور اہم اپوزیشن آرجے ڈی نے سب سے زیادہ 144 سیٹوں پر انتخاب لڑاہے، اور اس کی معاون کانگریس نے 70، سی پی آئی-ایم ایل نے 19، سی پی آئی نے 6 اور سی پی آئی-ایم نے 4 امیدوار اتارے ہیں۔ اسی طرح این ڈی اے کی حلیف جے ڈی یو کے حصے میں 122 سیٹیں گئیں اور اس نے اپنے کوٹے سے سابق وزیراعلیٰ جیتن رام مانجھی کی پارٹی ہندوستانی عوام مورچہ کو 7 سیٹیں دی۔ جے ڈی یو نے 115 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔

اسی طرح این ڈی اے کی حلیف بی جے پی کو 121 سیٹیں ملیں اور اس نے اپنے کوٹے سے 11 سیٹیں دیگر حلیف وکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کو دی ہیں۔ اس طرح بی جے پی کے 110 امیدواروں نے انتخاب لڑا ہے۔ ان کے علاوہ این ڈی اے سے الگ لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) نے 135، راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) نے 99، این سی پی نے 81، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے 78 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے۔ اس بار مجموعی طور پر 1301 آزاد امیدوار وں نے بھی قسمت آزمائی کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سال 2020 کے اسمبلی انتخاب میں تین مراحل میں 28 اکتوبر، 3 نومبر اور 7 نومبر کو ہوئی ووٹنگ میں کل 3733 امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں قید ہے اور عوام نے کیا فیصلہ کیا ہے اس کا پتہ کل چل جائے گا۔ گزشتہ اسمبلی انتخاب (سال2015) میں وزیراعلیٰ نتیش کمار نے این ڈی اے سے ناطہ توڑ کر آرجے ڈی اور کانگریس کے ساتھ مہا گٹھ بندھن بناکر انتخاب لڑا تھا۔ اس انتخاب میں جے ڈی یو نے 101 سیٹوں پر انتخاب لڑا اور 71 سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔ اسی طرح آرجے ڈی نے 101 امیدوار کھڑے کئے تھے جن میں سے 80 کامیاب ہوئے اور کانگریس نے 41 سیٹوں پر انتخاب لڑ کر 27 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ وہیں بی جے پی نے 157 اسمبلی حلقوں میں اپنے امیدوار اتار ے اور ان میں سے 53 ہی کامیا ب ہوپائے تھے۔ علاوہ ازیں ایل جے پی 42 سیٹوں پر انتخاب لڑ کر محض دو سیٹیں ہی نکال پائی تھی۔

قابل غور یہ بھی ہے کہ مذکورہ بالا پارٹیوں کے علاوہ بی ایس پی نے 228، سی پی آئی نے 98، سی پی ایم نے 43، این سی پی نے 41 سیٹوں پر انتخاب لڑا تھا، لیکن ان کے امیدوار وں کا کھا تہ بھی نہیں کھل پایا تھا۔ سی پی آئی - ایم ایل نے 98 اسمبلی حلقوں میں انتخاب لڑا تھا اور تین امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ بی ایل ایس پی نے بھی 23 امیدوار کھڑے کئے تھے لیکن اسے محض 2 سیٹوں پر کامیابی مل سکی تھی۔ علاوہ ازیں 1150 آزاد امیدواروں میں سے چار کامیاب ہوئے تھے۔ اس طرح گزشتہ انتخاب میں کل 3693 امیدواروں کھڑے تھے۔

اس بار جن قدآوروں کی قسمت کا فیصلہ منگل کے روز ہونا ہے ان میں اسمبلی اسپیکر وجے کمار چودھری، سابق وزیراعلیٰ جیتن رام مانجھی، سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی پرساد یادو، ان کے بڑے بھائی اور سابق وزیر صحت تیج پڑتاپ یادو، نتیش حکومت کے وزیر سڑک تعمیرات نند کشور یادو، دیہی ترقیات کے وزیر شرون کمار، لیبر وسائل کے وزیر وجے کمار سنہا، دیہی ورکس کے وزیر شیلندر کمار، سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر جے کمار سنگھ، کان کنی کے وزیر برج کشور بند، نقل وحمل کے وزیر سنتوش کمار نرالہ، محصولات کے وزیر رام نارائن منڈل، وزیرتعلیم کرشن نندن پرساد ورما، سماجی فلاح کے وزیر رام سیوک سنگھ، وزیر توانائی بجندر پرساد یادو، وزیر قانون نریندر نارائن یادو، درج فہرست ذات۔ قبائل فلاح کے وزیر رمیش رشی دیو، منصوبہ اور ترقیات کے وزیر مہیشور ہزاری، شہری ترقیات کے وزیر سریش شرما قابل ذکر ہیں۔

ان کے علاوہ وزیر خورشید عرف فیروز احمد، لکشمیشور رائے، بیما بھارتی، مدن سہنی، پرمود کمار، ونود نارائن جھا، کرشن کمار رشی، آنجہانی ونود سنگھ کی اہلیہ نشا سنگھ، آنجہانی کپل دیو کامت کی بہو مینا کامت، مسٹر لالو یادو کے سمدجھی چندریکا رائے، کانگریس لیڈر شتروگھن سنہا کے بیٹے لوسنہا، آرجے جنرل سکریٹر اور سابق وزیر آلوک کمار مہتا، سابق رکن پارلیمنٹ لولی آنند، سابق رکن پارلیمنٹ راما سنگھ کی اہلیہ بینا سنگھ، اپوزیشن کے قد آور لیڈر عبد الباری صدیقی، اور رمئی رام، جن ادھیکار پارٹی سپریمو پپو یادو، ویکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے قومی صدر مکیش سہنی جیسے قدو آرووں کا فیصلہ بھی کل ہوجائے گا۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 10 Nov 2020, 12:14 AM
next