بہار انتخاب: ووٹ شماری سے قبل کانگریس لیڈروں کی میٹنگ، کئی اہم ایشوز زیر غور!

سخت مقابلہ کی صورت میں بی جے پی ’ہورس ٹریڈنگ‘ کی کوشش کر سکتی ہے، اس لیے فاتح کانگریس امیدواروں کو ریسورٹ میں منتقل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

رندیپ سنگھ سورجے والا
رندیپ سنگھ سورجے والا
user

تنویر

بہار اسمبلی انتخاب کے پیش نظر تیسرے اور آخری مرحلے کے لیے ووٹنگ کا عمل گزشتہ 7 نومبر کو ہی ختم ہو گیا اور اب سبھی امیدواروں کو بے صبری سے ووٹ شماری کے دن یعنی 10 نومبر کا انتظار ہے جب ای وی ایم میں بند ان کی قسمت کا فیصلہ سامنے آئے گا۔ ووٹ شماری کے پیش نظر سبھی پارٹیوں کے ذمہ داران نے آئندہ کے منصوبوں کو لے کر میٹنگیں بھی شروع کر دی ہیں۔ پیر کے روز کانگریس کے سرکردہ لیڈران نے بھی میٹنگ کی جس میں رندیپ سرجے والا، مدن موہن جھا اور بہار کانگریس سے منسلک سرکردہ لیڈران شامل ہوئے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق کانگریس لیڈران نے میٹنگ کے دوران ووٹ شماری کے بعد کی پالیسی پر گفت و شنید کی۔ بتایا یہ بھی جا رہا ہے کہ کانگریس نے ووٹنگ کے دن سبھی کانگریس امیدواروں کو پٹنہ میں جمع ہونے کی ہدایت دی ہے۔ کانگریس کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر مہاگٹھ بندھن اور این ڈی اے میں مقابلہ کانٹے کا ہوا تو بی جے پی ’ہورس ٹریڈنگ‘ کی کوشش بھی کر سکتی ہے، اس لیے فاتح پارٹی امیدواروں کو ریسورٹ میں منتقل کرنے کی تیاری بھی کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ کانگریس قومی ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا لگاتار پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور بہار کے سرکردہ لیڈروں سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ راہل گاندھی اور اکھلیش پرتاپ سنگھ کے رابطہ میں بھی ہیں تاکہ کسی بھی مشکل حالات میں بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ ویسے تو کانگریس بہار اسمبلی انتخاب میں 35 سے 40 سیٹیں حاصل کرنے کو لے کر پراعتماد ہے، لیکن کچھ ماہرین سیاست کا یہ بھی کہنا ہے کہ چراغ پاسوان کی سربراہی والی ایل جے پی نے جے ڈی یو کے ساتھ ساتھ کئی سیٹوں پر کانگریس کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے جس سے کچھ سیٹوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

بہر حال، پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بہار میں مہاگٹھ بندھن کی حکومت بننے کو لے کر وہ پوری طرح سے پرامید ہیں کیونکہ بہار میں بدلاؤ کی ہوا دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پارٹی کو امید ہے کہ حکومت سازی کے لیے ضروری سیٹوں سے بہت زیادہ سیٹیں مہاگٹھ بندھن کو ملنے جا رہی ہیں اس لیے کوئی پریشانی نہیں ہوگی، اور ووٹ شماری کے درمیان کانگریس مہاگٹھ بندھن میں شامل دیگر پارٹیوں کے ساتھ پٹنہ میں پریس کانفرنس بھی کر سکتی ہے۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخاب میں مہاگٹھ بندھن کی کارکردگی بہت اچھی ہونے جا رہی ہے اور امید کے مطابق سب کچھ رہا تو پھر فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ لیکن اگر این ڈی اے سے مقابلہ سخت رہا اور ایسا محسوس ہوا کہ مہاگٹھ بندھن کے فاتح امیدواروں کو خریدنے کی کوشش ہو سکتی ہے، تو ’پلان بی‘ بھی تیار ہے جس کے مطابق آگے کا قدم اٹھایا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔