بہار: لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کے بعد تیجسوی یادو نے بھی اپنی سیکورٹی لوٹا دی

آر جے ڈی کے ریاستی ترجمان شکتی سنگھ یادو نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی نے حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی سیکورٹی واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

بہار کے سابق وزرائے اعلیٰ لالو پرساد یادو اور رابڑی دی کے سیکورٹی انتظامات میں کمی کے بعد سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ سیکورٹی میں تبدیلی سے ناراض دونوں لیڈران نے اپنی سرکاری سیکورٹی واپس کر دی ہے۔ لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کے بعد بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد تیجسوی یادو نے بھی اپنی سرکاری سکیورٹی واپس کر دی ہے۔ تیجسوی نے ریاستی حکومت کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاسی بدنیتی سے متاثر قدم قرار دیا ہے۔ حالانکہ تیجسوی یادو کی سیکورٹی میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے۔

آر جے ڈی کے ریاستی ترجمان شکتی سنگھ یادو نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی نے حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی سیکورٹی واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں کو نشانہ بنا رہی ہے اور ان کی سیکورٹی کے ساتھ سمجھوتہ کیا جا رہا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ لالو یادو طویل عرصے سے قومی سیاست کے ایک اہم رہنما رہے ہیں اور انہیں فراہم کی جانے والی سیکورٹی میں اچانک کمی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔


دراصل جمعہ کے روز ہونے والے سیکورٹی جائزے کے بعد لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کو حاصل زیڈ پلس درجے کی سیکورٹی واپس لے لی گئی تھی۔ اس کے بعد ان کی سیکورٹی کی ذمہ داری بہار پولیس کے اہلکاروں کے سپرد کر دی گئی۔ حالانکہ آر جے ڈی اس انتظام سے مطمئن نظر نہیں آئی اور اس نے اسے دونوں رہنماؤں کی عزت و وقار اور سیکورٹی کے ساتھ کھلواڑ قرار دیا۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد تیجسوی یادو کی سیکورٹی انتظامات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ انہیں پہلے کی طرح وائی پلس درجے کی سیکورٹی ملتی رہے گی۔ سیکورٹی کمیٹی کا ماننا ہے کہ حزب اختلاف کے قائد کا عہدہ کابینہ وزیر کے مساوی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تیجسوی یادو مسلسل سیاسی پروگراموں، عوامی جلسوں اور مختلف اضلاع کے دوروں میں سرگرم رہتے ہیں۔ ان کی عوامی سرگرمیوں اور ہجوم والے پروگراموں کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ سیکورٹی انتظامات کو برقرار رکھا گیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ سیکورٹی جائزے کا اثر لالو پرساد یاد کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو پر بھی پڑا ہے۔ پہلے انہیں وائی درجے کی سیکورٹی حاصل تھی، لیکن اب ان کی سیکورٹی میں کمی کرتے ہوئے صرف ایک پرسنل سیکورٹی افسر (پی ایس او) یا محافظ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔