رابڑی دیوی کو سرکاری بنگلہ خالی کرنے کا حکم، آر جے ڈی کا این ڈی اے حکومت پر انتقامی سیاست کا الزام
بہار میں رابڑی دیوی کو سرکاری بنگلہ خالی کرنے کے حکم پر سیاسی تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ آر جے ڈی نے این ڈی اے حکومت پر انتقامی سیاست کا الزام لگاتے ہوئے معاملے کو عدالت میں لے جانے کے اشارے دیے ہیں

بہار میں سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کو سرکاری بنگلہ خالی کرنے کے حکم کے بعد سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے اس فیصلے کو این ڈی اے حکومت کی انتقامی سیاست قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ حکومت اپوزیشن کو دبانے اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
پٹنہ کے 10 سرکلر روڈ واقع سرکاری بنگلے میں اس وقت رابڑی دیوی اور ان کا خاندان مقیم ہے۔ حال ہی میں بہار حکومت میں ماہی پروری و حیوانی وسائل کے وزیر نند کشور رام کو یہ رہائش گاہ الاٹ کی گئی ہے۔ اس سے قبل انہیں 21 ہارڈنگ روڈ پر واقع ایک سرکاری بنگلہ بھی دیا جا چکا تھا۔
آر جے ڈی کے پرنسپل نیشنل جنرل سکریٹری عبدالباری صدیقی نے حکومت کے اقدام پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن کا بنیادی کردار حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں پر سوال اٹھانا ہے، لیکن بہار میں حکمراں اتحاد تنقید برداشت کرنے کے بجائے مخالف جماعتوں کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست غربت، قرض اور دیگر بنیادی مسائل سے دوچار ہے، مگر حکومت عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہی ہے۔
صدیقی نے وزیر اعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ اور نائب وزیر اعلیٰ کے لیے مختص بنگلے کو ملا کر بنائے گئے ’’لوک سیوک آواس‘‘ پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ دونوں رہائش گاہوں کو یکجا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کا نام لوک سیوک آواس کیوں رکھا گیا۔
آر جے ڈی کے ریاستی صدر منگنی لال منڈل نے کہا کہ سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ طے شدہ ضابطوں کے مطابق ہونی چاہیے، لیکن بہار میں ان اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پٹنہ ہائی کورٹ ماضی میں بھی سرکاری بنگلوں کی الاٹمنٹ کے معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا چکی ہے۔
منڈل نے الزام لگایا کہ حکومت کا اصل مقصد لالو پرساد یادو اور ان کے خاندان کو سیاسی طور پر نشانہ بنانا اور انہیں عوامی سطح پر شرمندہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی 10 سرکولر روڈ والا بنگلہ خالی کرنے کے حکم کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے پر غور کر رہی ہے۔
آر جے ڈی کے سینئر دلت رہنما شیوچندر رام نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ نند کشور رام کو پہلے ہی ایک سرکاری رہائش گاہ الاٹ کی جا چکی تھی، اس کے باوجود چند ہفتوں بعد دوسری رہائش گاہ دینے کی ضرورت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اصل عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اس معاملے کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔
عبدالباری صدیقی نے مزید دعویٰ کیا کہ این ڈی اے کے کئی رہنما عہدے چھوڑنے کے باوجود سرکاری رہائش گاہوں میں مقیم ہیں، لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر دیگر سابق وزرائے اعلیٰ سرکاری رہائش گاہوں میں رہ سکتے ہیں تو رابڑی دیوی اور لالو پرساد یادو کے معاملے میں الگ معیار کیوں اپنایا جا رہا ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
