بھیما-کوریگاؤں تشدد: این آئی اے عدالت نے سدھا بھاردواج کو جیل سے رہا کرنے کا حکم صادر کیا

سدھا بھاردواج کی رہائی پر فیصلہ سناتے ہوئے اسپیشل جج ڈی ای کوٹھالیکر نے انہیں عدالت کے دائرہ اختیار میں رہنے اور بلا اجازت ممبئی چھوڑ کر نہیں جانے کی ہدایت دی۔

سدھا بھاردواج، تصویر آئی اے این ایس
سدھا بھاردواج، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ممبئی: بھیما کورے گاؤں تشدد معاملے میں تین سال سے جیل میں بند وکیل اور سماجی کارکن سدھا بھاردواج کو آج جیل سے رہا کیا جارہا ہے۔ غور طلب ہے کہ انہیں پہلے بامبے ہائی کورٹ نے ڈیفالٹ ضمانت دے دی تھی۔ جس کی قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کی ایک عدالت نے مخالفت کی تھی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کو این آئی اے نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر فیصلہ سناتے ہوئے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

بھاردواج کی رہائی پر فیصلہ سناتے ہوئے اسپیشل جج ڈی ای کوٹھالیکر نے انہیں عدالت کے دائرہ اختیار میں رہنے اور بلا اجازت ممبئی چھوڑ کر نہیں جانے کی ہدایت دی۔ بامبے ہائی کورٹ نے یکم دسمبر کو بھاردواج کی ڈیفالٹ ضمانت کی عرضی منظور کرلی تھی۔ تاہم عدالت نے این آئی اے کی خصوصی عدالت کو ان کی ضمانت کی شرائط اور رہائی کی تاریخ پر فیصلہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔


بھاردواج کو اگست 2018 میں غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ کی دفعات کے تحت ایلگار پریشد ماؤ نوازوں سے ربط کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے منگل کو بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی قومی جانچ ایجنسی کی اپیل کو خارج کردیا تھا۔ ماؤ نوازوں سے تعلقات کے معاملے میں گرفتار کیے گئے 16 کارکنان اور ماہرین تعلیم میں محترمہ بھاردواج واحد فرد ہیں جنہیں ڈیفالٹ ضمانت دی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔