’سکھ فار جسٹس‘ پر پابندی جاری رکھنے کا اعلان، پابندی میں 5 سال کی توسیع کا فیصلہ

2019 میں پہلی بار ’سکھ فار جسٹس‘ پر پابندی لگائی گئی تھی، وزارت داخلہ نے تب نوٹیفکیشن جاری کر اس تنظیم کو ملک کی حفاظت کے لیے خطرہ بتایا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>گرپتونت کی فائل تصویر، سوشل میڈیا</p></div>

گرپتونت کی فائل تصویر، سوشل میڈیا

user

قومی آوازبیورو

ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے سبب مرکزی وزیر داخلہ نے ’سکھ فار جسٹس‘ (ایس ایف جے) پر عائد پابندی کو 5 سال کے لیے بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کے اتحاد و سالمیت پر حملہ کرنے کی وجہ سے اس تنظیم کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ یہ تنظیم الگ خالصتانی ملک بنانے کی سمت میں فعال ہو چکا ہے، یہ تنظیم لگاتار ملک مخالف سرگرمیوں کو انجام دے رہا ہے۔

واضح رہے کہ 2019 میں پہلی بار سکھ فار جسٹس پر پابندی لگائی گئی تھی۔ وزارت داخلہ نے تب نوٹیفکیشن جاری کر اس تنظیم کو ملک کی سیکورٹی کے لیے خطرہ بتایا تھا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ ریفرنڈم کی آڑ میں یہ تنظیم لگاتار شورش پسندی اور علیحدگی پسندی کے نظریات کو مشتہر کر رہا ہے۔ ہندوستان میں ایس ایف جے کے خلاف کئی معاملے بھی درج ہیں جن کی جانچ جاری ہے۔


دراصل یہ ایک شدت پسند تنظیم ہے جو پنجاب کو لگاتار ایک خالصتانی ملک بنانے کی سمت میں سرگرم ہے۔ اس کے لیے یہ تنظیم کئی ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہ چکا ہے۔ اس تنظیم کا قیام گروپتونت سنگھ پنو نے 2007 میں کیا تھا۔ وہ پیشے سے ایک وکیل ہیں۔ اس تنظیم کا ہیڈکوارٹر امریکہ میں ہے۔ الگ خالصتانی ملک بنانے کی سمت میں یہ تنظیم لگاتار کئی ممالک میں ریفرنڈم منعقد کروا چکا ہے۔ ایس ایف جے پر اس سے پہلے بھی کئی طرح کے الزامات لگ چکے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔