ہاتھرس جیسے حادثات کے لئے ’جہالت‘ اور ’غربت‘ ذمہ دار

ایسے حادثات کے لئے سماج میں پھیلی ناخواندگی، غربت، بے روزگاری اور توہم پرستی ذمہ دار ہے۔ توہم پرستی کی سب سے بڑی اور ذائقہ دار غذا غربت ہوتی ہے اور غربت کو ہی یہ نام نہاد بابا استعمال کرتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>ہاتھرس ستسنگ کا مقام جہاں بھگدڑ میں ہلاکتیں ہوئیں / آئی اے این ایس</p></div>

ہاتھرس ستسنگ کا مقام جہاں بھگدڑ میں ہلاکتیں ہوئیں / آئی اے این ایس

user

سید خرم رضا

ہاتھرس  میں ’بھولے بابا‘ کے دوران بھگدڑ کے سبب دل دہلانے والا حادثہ پیش آیا اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 121 افراد اس جاں بحق ہو گئے۔ ویسے تو سماج کو ہلانے کے لئے ایک ہی موت کافی ہے لیکن یہاں تو 121 افراد نے اپنی جان گنوائی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ اس ستسنگ کی اس تقریب کے انعقاد میں شامل  کچھ لوگ گرفتار ہوئے ہیں اور چیف خادم نے خود سپردگی بھی کر دی ہے، جس کے بعد اسے 14 دن کے لئے عدالتی تحویل میں بھی بھیج دیا گیا ہے۔ تاہم، اس حادثہ کے مرکزی کرداروں کو اس معاملے سے علیحدہ رکھا گیا ہے۔

ایس آئی ٹی نے جو 119 افراد کے بیانات کی 300 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی ہے اس میں  منتظمین کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ اس میں ایک شخص کا یہ بیان بھی درج ہے کہ سورج پال عرف ’بھولے بابا‘ نے اپنے وعظ کے دوران کہا تھا کہ لوگ ان کے چرن یعنی پیروں کی مٹی یعنی دھول لے کر جائیں اور جیسے ہی بابا وہاں سے روانہ ہوئے ویسے ہی لوگ ان کے چرن کی دھول لینے کے لئے بھاگے اور اس بھگدڑ میں لوگوں کی موت ہو گئی، پھر بھی سب غلطی منتظمین کی اور بابا کی کوئی غلطی ہی نہیں!


اس معاملے پر کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی کے علاوہ نہ تو کوئی لیڈر ہاتھرس کے متاثرین سے ملنے گیا اور نہ ہی کسی نے بابا کے خلاف کوئی بیان دیا۔ ظاہر ہے اس کی وجہ سیاسی ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ بابا کے پاس اتنی بڑی تعداد میں مرید اور پیروکار ہیں کہ ان کو ناراض کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بابا یعنی سورج پال کا تعلق دلت سماج سے ہے اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کا اقدام دلت سماج کو اپنی بے عزتی محسوس ہوگا۔ شاید اسی لئے کانگریس کو چھوڑ کر حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ یہ معاملہ خود اپنی موت مر جائے۔ ظاہر ہے اتنی بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں اس لئے کارروائی تو کرنی ہی پڑے گی لیکن یہ کارروائی منتظمین کی حد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔

اصل میں اس سب کے لئے ذمہ دار سماج میں پھیلی ناخواندگی، غربت، بے روزگاری اور توہم پرستی ہے۔ توہم پرستی کی سب سے بڑی اور ذائقہ دار غذا غربت ہوتی ہے۔ غربت کو ہی یہ نام نہاد بابا استعمال کرتے ہیں۔ سورج پال جو پولیس میں تھا اور جس پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ جیل میں رہ چکا ہے اس نے عوام کی غربت ہی کا خوب فائدہ اٹھایا۔ اس کے پاس آج بے شمار پیسہ اور زمین ہے۔  اس ستسنگ کے تعلق سے بھی کہا جا رہا ہے کہ تقریباً ڈھائی لاکھ لوگوں نے اس  میں شرکت کی۔


اس ستسنگ میں زیادہ تعداد میں خواتین نے شرکت کی تھی۔ خواتین میں تعلیم کا فقدان ہوتا ہے اور وہ خوفزدہ بھی زیادہ ہوتی ہیں، اسی کا استعمال ایسے نام نہاد بابا کرتے ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جو کہا کہ ’ڈرو مت اور نہ ڈراؤ‘ دراصل اس پر عمل کرنے کے لئے بنیادی ضرورت عوام کو تعلیم اور پیسے کے ہتھیار سے لیس کرنا ہے۔ اگر عوام تعلیم یافتہ نہیں ہوئی تو نہ وہ غریبی سے لڑ پائے گی اور نہ ہی توہم پرستی سے۔ مذاہب کی تبلیغ  کے نام پر عوام کو جمع کرنا اور اس بھیڑ کو اپنے معاشی اور سیاسی فوائد کے لئے استعمال کرنا ملک کے لئے بڑا مسئلہ ہے۔

ویسے تو  بابا جیسے لوگ ہر مذہب میں موجود ہیں لیکن کم تعلیم یافتہ اور غریبی سے لبریز شمالی ہندوستان میں ان کا کچھ زیادہ ہی زور ہے۔ جہالت اور غریبی کو کچھ نام نہاد بابا اپنی طاقت کے لئے خوب استعمال کرتے ہیں۔ اس میں چاہے بابا رام رحیم ہوں، آسارام باپو ہوں یا نرمل بابا ہوں، ان کا نشانہ وہ سیدھے سادے عوام ہیں جن میں تعلیم کی کمی اور بھرپور غربت ہے۔ اگر اس سے لڑنا ہے تو بنیادی طور پر جہالت اور غربت سے لڑنا ہوگا۔ سیاست دانوں کو سیاسی مصلحت پسندی سے کام نہ لے کر حقیقی و ضروری مصلحت پسندی سے کام لینا ہوگا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو کھل کر ان نام نہاد باباؤں کے خلاف محاذ کھولنا ہوگا۔