سری نگر میں عاشورہ کے جلوس اور جامع مسجد میں نماز جمعہ پر عائد پابندی ہٹائی جائے: آغا حسن

آغا حسن نے گزشتہ روز جاری ایک بیان میں کہا کہ تاریخی جلوس عاشورہ زمانہ قدیم سے اپنے روایتی مقام اور راستے آبی گزر سری نگر سے برآمد ہو کر علی پارک جڈی بل سری نگر میں اختتام پذیر ہوتا رہا ہے۔

آغا سید حسن الموسوی الصفوی، تصویر فیس بک
آغا سید حسن الموسوی الصفوی، تصویر فیس بک
user

یو این آئی

سری نگر: جموں و کشمیر کے شیعہ مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم 'انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر' کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے جلوس عاشورہ، مرکزی جامع مسجد سری نگر میں نماز جمعہ اور لال چوک سری نگر میں روایتی جلوس میلاد النبی (ص) پر عرصہ دراز سے قدغن کو اہل کشمیر کے دینی جذبات سے جڑے اہم معاملات قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان پابندیوں کو فوری طور پر اٹھایا جائے۔

آغا حسن نے گزشتہ روز جاری ایک بیان میں کہا کہ تاریخی جلوس عاشورہ زمانہ قدیم سے اپنے روایتی مقام اور راستے آبی گزر سری نگر سے برآمد ہو کر علی پارک جڈی بل سری نگر میں اختتام پذیر ہوتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ تاریخی جلوس، جس پر گزشتہ زائد از تین دہائیوں سے پابندی عائد ہے، کو صرف لال چوک تک محدود رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اس کی شان و اہمیت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔


انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مذکورہ جلوس پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ کرتی ہے اور جلوس کو اپنے روایتی مقام اور منزل تک لے جانے کی اجازت دیتی ہے تو انجمن شرعی شیعیان جلوس عاشورہ میں شامل ہوگی، اس صورت میں انجمن شرعی شیعیان اس امید کا اظہار کرتی ہے کہ جلوس عاشورہ کے روایتی راستے کے ارد گرد رہنے والے عوام اور دینی معززین بالخصوص میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق اور مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام حسب روایت قدیم اپنی گرانقدر خدمات اور تعاون شامل حال رکھیں گے۔

آغا حسن نے محرم تقریبات کے سلسلے میں صوبائی کمشنر کشمیر پو کے پولے کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں شیعیان کشمیر کی نمائندہ دینی تنظیموں کو حاشیہ پر رکھ کر 'غیر متعلقہ فرضی جماعتوں' کے ساتھ صلاح مشورے کو مضحکہ خیز اور بے معنی قرار دیتے ہوئے حکومت کے اس رویے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند فرضی گروپوں، جن کا زمینی سطح پر کوئی وجود، حیثیت اور اعتباریت نہیں ہے، کے ساتھ محرم تقریبات کے سلسلے میں مشاورت کشمیر کی شیعہ برادری کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے۔


بیان میں کہا گیا کہ اگر صوبائی انتظامیہ کسی پالیسی کے تحت دانستہ طور پر اس طرح کا طرز عمل اختیار کر رہی ہے تو ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے شیعیان کشمیر کی مسلمہ نمائندہ دینی و سیاسی جماعتوں کی سیاسی ساکھ اور اعتباریت و اہمیت متاثر نہیں ہو سکتی۔ آغا حسن نے کہا کہ جن فرضی گروپوں کا محرم جلوسوں کے انتظام و اہتمام کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں ان کے ساتھ مشاورت کرنا کسی بھی طور پر مناسب سوچ و اپروچ نہیں۔

آغا حسن نے کہا کہ انجمن شرعی شیعیان اور دیگر معروف انجمنیں جلوس عاشورہ پر 30 سال سے عائد حکومتی قدغن کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے پولیس تشدد کا سامنا اور گرفتاریاں پیش کرتی رہی ہیں۔ ان کا بیان میں مزید کہنا تھا کہ 'جن کاغذی جماعتوں کا اس احتجاجی مہم میں کہیں کوئی رول نہیں انہیں جلوس عاشورہ سے متعلق فیصلہ اور مشاورت کا کوئی اختیار نہیں ہے'۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔