بجرنگ دل نے چھتیس گڑھ میں لگایا ’خون کا بدلہ خون سے لیں گے‘ نعرہ

چھتیس گڑھ میں ماؤنواز کے حملوں میں کئی فوجی جوان شہید ہو گئے جس کے خلاف جموں میں بجرنگ دل نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران بجرنگ دل نے ’خون کا بدلہ خون سے لیں گے‘ جیسے نعرے بھی لگائے۔

علامتی، تصویر آئی اے این ایس
علامتی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

جموں: راشٹریہ بجرنگ دل نے پیر کے روز یہاں چھتیس گڑھ میں گزشتہ روز ہونے والے ماؤنوازوں کے حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بجرنگ دل کے کارکن 'خون کا بدلہ خون سے لیں گے' جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ اس موقع پر بجرنگ دل کی جموں و کشمیر اکائی کے صدر راکیش بجرنگی نے میڈیا کو بتایا کہ ماؤنواز لگاتار ہمارے جوانوں کا خون بہا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: 'ماؤ نواز لگاتار ہمارے جوانوں کو شہید کر رہے ہیں گزشتہ مہینے پانچ جوانوں کو شہید کر دیا اور کل ہمارے ملک کا بڑا نقصان ہوا جب بائیس جوانوں کو شہید کر دیا گیا، کئی لاپتہ ہیں اور بتیس سے زیادہ زخمی ہیں'۔

راکیش بجرنگی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’میرا مرکزی حکومت سے سوال ہے کہ یہ لوگ ہتھیار کہاں سے لاتے ہیں، وہاں ان کی کوئی فیکٹری نہیں ہے، کوئی نہ کوئی ان کو ہتھیار فراہم کر رہا ہوگا، حکومت کو چاہیے کہ ایسے ملک دشمن عناصر کو جلد ایکسپوز کرے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ سرکار حملوں کے بعد سخت کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرتی ہے لیکن زمینی سطح پر کچھ بھی نہیں ہوتا ہے۔


راکیش بجرنگی کا کہنا ہے کہ 'خون کے بدلے خون ہمارا مطالبہ ہے، ہمارے جوانوں کا خون بہایا جا رہا ہے ہمیں بھی ماؤنوازوں کے سر ملنے چاہیے'۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پیرا ملٹری فورسز کے علاوہ ان علاقوں میں فوج کو بھی تعینات کیا جانا چاہیے۔ بتادیں کہ چھتیس گڑھ کے ضلع بجا پور اور سکما کے جنگلات میں گزشتہ روز ماؤ نوازوں کے حملوں میں سیکورٹی فورسز کے کم سے کم 22 اہلکار ہلاک جبکہ زائد 30 زخمی ہوئے ہیں۔ کئی اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔