رافیل ڈیل پر تازہ ہنگامہ کے بعد کانگریس کا سوال ’کسے دیا گیا کروڑوں کا تحفہ؟‘

فرانس سے 36 رافیل خریدنے کے معاملے میں مبینہ بدعنوانی پر کانگریس نے مرکزی حکومت پر ایک بار پھر حملہ کیا ہے۔ رندیپ سرجے والا نے پریس کانفرنس کر مودی حکومت کو پرزور انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔

رندیپ سرجے والا، تصویر آئی اے این ایس
رندیپ سرجے والا، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

رافیل ڈیل میں بدعنوانی سے متعلق رپورٹ سامنے آنے کے بعد کانگریس نے مودی حکومت پر زوردار حملہ کیا ہے۔ دراصل فرانس کے پبلی کیش ’میڈیا پارٹ‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان—فرانس کے درمیان رافیل ڈیل کو لے کر ڈسالٹ ایوی ایشن نے ہندوستان میں ایک بچولیے کو 1.1 ملین یورو دیئے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ کانگریس پہلے بھی رافیل ڈیل میں بدعنوانی کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ اب اس رپورٹ کے آنے کے بعد ڈیل میں گڑبڑی کے اشارے مل رہے ہیں، جس کو لے کر کانگریس مودی حکومت پر سوال کھڑے کر رہی ہے۔ کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا نے سوال پوچھا ہے کہ 60 ہزار کروڑ روپے کی رافیل ڈیل میں 1.1 ملین یورو کا تحفہ کسے دیا گیا؟

غور طلب ہے کہ فرانس کے پبلی کیش میڈیا پارٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان-فرانس کے درمیان رافیل ڈیل کو لے کر ڈسالٹ ایوی ایشن نے ہندوستان میں ایک بچولیے کو 1.1 ملین یورو دیئے تھے۔ اس کا انکشاف فرانس کی اینٹی کرپشن ایجنسی نے کی ہے، ایجنسی نے ڈسالٹ کے اکاؤنٹ کا آڈٹ کیا تھا، جس میں اس کا انکشاف ہوا۔


کانگریس رافیل ڈیل کو لے کر پہلے ہی مودی حکومت پر بدعنوانی کا الزام لگاتی رہی ہے۔ اس رپورٹ کے آنے کے بعد پارٹی نے پریس کانفرنس کر مودی حکومت پر سوال اٹھائے ہیں۔ رندیپ سرجے والا نے کہا کہ ’’اس پورے لین دین کو گفٹ ٹو کلائنٹس کا نام دیا گیا۔ اگر یہ ماڈل بنانے کے پیسے تھے، تو اسے گفٹ ٹو کلائنٹس کیوں کہا گیا؟ کیا یہ چھپے ہوئے ٹرانجیکشن کا حصہ تھا۔ یہ پیسے جس کمپنی کو دیئے گئے، وہ ماڈل بناتی ہی نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’60 ہزار کروڑ روپے کے رافیل دفاعی معاہدہ سے جڑے معاملے میں سچائی سامنے آ گئی ہے۔ یہ ہم نہیں فرانس کی ایک ایجنسی نے انکشاف کیا ہے۔‘‘

فرانس کے پبلی کیشن میڈیا پارٹ کی رپورٹ کی بنیاد پر کانگریس نے مرکزی حکومت سے پانچ سوال بھی پوچھے ہیں، جو اس طرح ہیں...

(1) 1.1 ملین یورو کے جو کلائنٹ گفٹ ڈسالٹ کے آڈٹ میں دکھا رہا ہے، کیا وہ رافیل ڈیل کے لیے بچولیے کو کمیشن کے طور پر دیئے گئے تھے؟

(2) جب دو ممالک کی حکومتوں کے درمیان دفاعی معاہدہ ہو رہا ہے، تو کیسے کسی بچولیے کو اس میں شامل کیا جا سکتا ہے؟


(3) کیا اس سب سے رافیل ڈیل پر سوال نہیں کھڑے ہو گئے ہیں؟

(4) کیا اس پورے معاملے کی جانچ نہیں کی جانی چاہیے، تاکہ پتہ چل سکے کہ ڈیل کے لیے کس کو اور کتنے روپے دیئے گئے؟

(5) کیا وزیر اعظم اس پر جواب دیں گے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 05 Apr 2021, 4:29 PM