وکاس دوبے کے گرفتار شدہ ساتھی ششی کانت نے ‘کانپور انکاؤنٹر’ سے اٹھایا پردہ

گھر کی چھت سے ہوئی فائرنگ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ششی کانت نے کہا کہ “ہمیں آناً فاناً میں ایسا کرنے کا حکم ملا اور وہ حکم وکاس دوبے نے ہی دیا تھا۔”

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کانپور انکاؤنٹر معاملہ میں ہسٹری شیٹر وکاس دوبے کے ساتھی ششی کانت نے پولس کے ذریعہ کی گئی پوچھ تاچھ میں کئی باتوں کا انکشاف کیا۔ اس نے کانپور انکاؤنٹر کے بارے میں پوری تفصیل پولس کے سامنے رکھی اور کہا کہ وکاس دوبے کی ہدایت پر ہی 3-2 جولائی کی شب 8 پولس اہلکاروں پر گولی چلائی گئی تھی۔ ششی کانت عرف سونو پانڈے نے یہ بیان ایک خبر رساں ادارہ کے ذریعہ پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بھی اس وقت دیا جب پولس اسے گرفتار کر کے لے جا رہی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ "8 پولس اہلکاروں کو بڑی بے رحمی سے مارا گیا۔ یہ سب کچھ وکاس دوبے کی ہدایت پر ہوا۔"

گھر کی چھت سے ہوئی فائرنگ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ششی کانت نے کہا کہ "ہمیں آناً فاناً میں ایسا کرنے کا حکم ملا اور وہ حکم وکاس دوبے نے ہی دیا تھا۔" پولس کے ذریعہ کی گئی پوچھ تاچھ میں ششی کانت نے واقعہ کے بعد اپنے فرار ہونے کے تعلق سے بھی جانکاری دی۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ واردات کے بعد وہ گھر سے کیوں بھاگا اور اپنا سر کیوں منڈا لیا، تو اس نے کہا کہ "میری ماں نے مجھے بھگا دیا تھا۔ میرے والد کی موت ہو چکی ہے اس لیے میں نے اپنا سر منڈا لیا تھا۔" پھر جب اس سے یہ سوال کیا گیا کہ واردات کے دوران پولس افسر دیویندر مشرا کا قتل کس نے کیا تھا، جواب ملا کہ "میں نے مشرا کا قتل نہیں کیا۔"

قابل ذکر ہے کہ ششی کانت کو منگل کے روز گرفتار کیا گیا تھا اور اس دوران پولس نے اس کے پاس سے واردات میں پولس سے لوٹی گئی دو رائفل بھی برآمد کی ہے۔ اس طرح اب پولس سے لوٹے گئے سبھی اسلحے برآمد کر لیے گئے ہیں۔ ایڈیشنل ڈی جی پی (نظام قانون) پرشانت کمار نے اس سلسلے میں بتایا کہ ششی کانت عرف سونو پانڈے پر 50 ہزار روپے کا انعام تھا۔ وہ کانپور کے بکرو گاؤں میں گزشتہ 3-2 جولائی کی شب وکاس دوبے کے ساتھیوں کے ذریعہ گھات لگا کر کیے گئے حملے میں 8 پولس اہلکاروں کے قتل واقعہ کا ملزم ہے۔ اس نے کانپور انکاؤنٹر میں شامل ہونے کی بات بھی قبول کر لی ہے۔

Published: 15 Jul 2020, 5:40 PM
next