سنگھو بارڈر پر ایک اور کسان کی موت، پھندے سے لٹکی ہوئی لاش برآمد

پولیس نے کسان کی لاش کو قبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ معلوم ہوسکے گی۔

کسان سنگھو بارڈر، فائل تصویر / یو این آئی
کسان سنگھو بارڈر، فائل تصویر / یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

سونی پت: زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کی تحریک لگاتار جاری ہے۔ دریں اثنا، سونی پت کے کنڈلی سنگھو بارڈر پر بدھ کے روز مظاہرہ میں شامل ایک کسان کی لاش پھانسی کے پھندے سے لٹکی ہوئی ملی ہے۔ متوفی کسان کا نام گرپریت سنگھ بتایا جا رہا ہے۔ وہ پنجاب کے فتح گڑھ صاحب کا رہنے والا تھا۔

نیوز پورٹل ’آج تک‘ کی رپورٹ کے مطابق گرپریت سنگھ فتح گڑھ صاحب کے امروہ تحصیل کے رڑکی گاؤں کا رہائشی تھا اور بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) سدھ پور سے وابستہ تھا۔ تاحال یہ انکشاف نہیں ہوسکا ہے کہ کسان نے خود کشی کی ہے یا اس کا قتل ہوا ہے۔ کنڈلی تھانہ کی پولیس دونوں زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس نے لاش کو قبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ معلوم ہوسکے گی۔


خیال رہے کہ زرعی قوانین کے خلاف کسان تحریک کو ایک سال مکمل ہونے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر کسان تنظیموں نے 29 نومبر کو شروع ہونے جا رہے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس پر ٹریکٹر مارچ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کسان ایکتا مورچہ کے تحت کسان تنظیموں کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کسان تحریک کو لے کر آئندہ کی حکمت عملی پر بحث ہوئی۔ اس اجلاس میں راکیش ٹکیت، درشن پال سنگھ اور گرنام سنگھ سمیت کئی بڑے کسان لیڈران شامل ہوئے۔

کسانوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 29 تاریخ سے پارلیمنٹ میں سرمائی اجلاس شروع ہونے کے بعد ٹیکری اور غازی پور کے کسان احتجاجی مظاہرہ کرنے اور اپنے مسائل کو لے کرپارلیمنٹ کی جانب کوچ کریں گے۔ تاہم، دہلی پولیس کے ذرائع نے آج تک سے تصدیق کی ہے کہ ایسے کسی بھی مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔