آندھرا پردیش: پراسرار بیماری سے دہشت میں اضافہ، ڈیڑھ مہینے میں 700 افراد بیمار

ریاستی وزیر صحت نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ گاؤں میں ایک میڈیکل کیمپ لگایا جا رہا ہے، علاوہ ازیں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم گاؤں پہنچ چکی ہے اور وہ حالات پر نظر رکھ رہے ہیں۔

جگن موہن ریڈی ایلور کے سرکاری اسپتال میں پراسرار بیماری کے شکار مریض سے ملاقات کرتے ہوئے
جگن موہن ریڈی ایلور کے سرکاری اسپتال میں پراسرار بیماری کے شکار مریض سے ملاقات کرتے ہوئے
user

قومی آوازبیورو

آندھرا پردیش میں پراسرار بیماری کی دہشت گزشتہ دنوں کچھ کم ہوئی تھی، لیکن ایک بار پھر یہ بیماری لوگوں میں تیزی کے ساتھ پھیلنے لگی ہے جس سے لوگوں کی دہشت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق آندھرا پردیش کے مغربی گوداوری ضلع واقع کومیرپلی اور آس پاس کے گاؤں میں گزشتہ ڈیڑھ مہینے کے اندر تقریباً 700 لوگ اس پراسرار بیماری کی زد میں آ چکے ہیں۔ ایک ساتھ تقریباً 22 گاؤں والوں میں اس بیماری کی علامات دکھائی دی ہیں۔

آندھرا پردیش میں پھیلی اس پراسرار بیماری کے تعلق سے انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ میں ایک رپورٹ بھی شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کئی نئے مریضوں کو ایلورو ضلع کے سرکاری اسپتال پہنچایا گیا ہے۔ ریاست کے وزیر صحت کالی کرشنا نے متاثرہ گاؤں کا دورہ کر حالات کے بارے میں جانکاری حاصل کی ہے۔ انھوں نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ گاؤں میں ایک میڈیکل کیمپ لگایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم گاؤں میں پہنچ چکی ہے اور وہ حالات پر نظر رکھ رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ایک ماہ قبل ڈبلیو ایچ او، ایمس، این آئی این، این آئی وی، این سی ڈی سی، آئی آئی سی ٹی سے منسلک ماہر ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی ٹیم نے ایلورو سے جو سیمپل اکٹھا کیا تھا، اس پر تحقیق کے بعد بتایا کہ مریضوں کے خون میں نِکِل کی مقدار زیادہ ہے۔ لیکن ڈاکٹر یہ نہیں بتا پائے کہ آخر کیسے یہ کیمیائی اشیاء مریضوں کے جسم میں پہنچا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next