مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا کے بیٹے سمیت دیگر 15 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج

مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے آشیش مشرا سمیت دیگر 15 لوگوں کے خلاف تکونیا پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی ہوئی ہے۔

اجے مشرا ٹینی، تصویر آئی اے این ایس
اجے مشرا ٹینی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

لکھیم پور/ لکھنؤ: اترپردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری میں پرتشدد جھڑپ میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد کی ہلاکت کے سلسلے میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ حالات بگڑنے کے خدشے کے پیش نظر ضلع میں حکم امتناعی اور انٹرنیٹ خدمات متاثر ہیں۔ آج اسکولوں میں چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔ ضلع کی سرحدوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب لکھنؤ میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے جنرل سکریٹری ستیش مشرا کی رہائش گاہ کے باہر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی ہے، جبکہ عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رہنما سنجے سنگھ اور کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو سیتاپور میں پولیس کی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔


کسان رہنما راکیش ٹکیت آج صبح تقریباً 3.30 بجے لکھیم پور پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا اور ریاست کے اعلیٰ افسران کے ساتھ میٹنگ کی۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (لاء اینڈ آرڈر) پرشانت کمار اور دیگر اعلیٰ افسران کے ساتھ ایک میٹنگ میں رکیش ٹکیت نے پانچ مطالبات پیش کیے، جن میں مرنے والے کسان کے لواحقین کو ایک کروڑ کا معاوضہ، خاندان کے کسی فرد کو سرکاری نوکری، جوڈیشل انکوائری، اس واقعے میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کا استعفیٰ اور مجرموں کو سخت سزا شامل ہے۔

کسان لیڈر کے مطالبات پر غور کرنے کے بعد افسران نے اس پر جلد کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ میٹنگ کا دوسرا دور دوپہر 12 بجے ہونے کا امکان ہے۔ دریں اثنا مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے آشیش مشرا کے خلاف تکونیا پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے۔ ابھی تک اس واقعے میں دونوں جانب سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔


ایس پی صدر اکھلیش یادو کی لکھنؤ رہائش گاہ کے باہر ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکاروں سمیت بھاری پولیس فورس گزشتہ شب سے تعینات ہے۔ رہائش گاہ کے باہر ایک ٹرک کھڑا کیا گیا ہے۔ ایس پی آفس نے ٹوئٹ کیا ’’قومی صدر کو روکنے کے لیے ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے‘‘۔

دریں اثنا ’عآپ‘ کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ دیر رات لکھیم پور کے لیے روانہ ہوئے اور انہیں سیتا پور میں روک دیا گیا۔ رکن پارلیمنٹ کی مقامی تحصیلدار کے ساتھ طویل نوک جھونک ہوئی اور بالآخر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ سنجے سنگھ نے ٹوئٹ کیا ’’کیا کوئی وزیر جو ماضی میں 302 کا ملزم رہا ہو، جس نے 25 ستمبر کو کھلے عام کسانوں کو ٹھیک کرنے کی دھمکی دی ہو، اس کے وزیر رہتے غیر جانبدارانہ جانچ ہوسکتی ہے؟‘‘


دوسری طرف کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا جو کہ رات 12 بجے کے قریب لکھیم پور کے لیے روانہ ہوئیں تھیں کو سیتاپور ٹول پلازہ کے قریب روکا گیا۔ پارٹی کے میڈیا کوآرڈی نیٹر نسیم الدین صدیقی نے بتایا کہ پرینکا وڈرا کو پی اے سی کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے۔ سرکاری انتظامیہ کے افسران انہیں کوئی بھی معلومات فراہم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ دلت سیاست کرنے والے چندر شیکھر اور ان کے حامیوں کو لکھیم پور جاتے ہوئے سیتا پور میں پولیس نے حراست میں لے لیا۔ انہیں پولیس لائن میں رکھا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔