زرعی قوانین: مظاہرہ کر رہے سرجے والا کو پولیس نے 7 گھنٹے کے بعد رہا کیا

سرجے والا نے رہا ہونے کے بعد کہا کہ یہ تینوں قانون کسان مخالف ہیں۔ ان کی پارٹی ان قوانین کے خلاف احتجاج کرتی رہے گی اور حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ وہ ہتھکڑیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔

کانگریس لیڈر آر ایس سرجے والا / تصویر یو این آئی
کانگریس لیڈر آر ایس سرجے والا / تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کانگریس کے محمکہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا کو پیر کو دہلی پولیس نے حراست میں لیا اور قریب سات گھنٹے کے بعد رہا کیا۔ حراست سے رہا ہونے کے بعد سرجے والا نے کہا کہ یہ تینوں قانون کسان مخالف ہیں۔ ان کی پارٹی ان قوانین کے خلاف احتجاج کرتی رہے گی اور حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ وہ ہتھکڑیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ان کی پارٹی اس کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں معلوم ہے کہ ہم جو بھی آواز اٹھائیں گے مودی حکومت اس آواز کو دبائے گی لیکن اس حکومت کو یہ جان لینا چاہئے کہ یہ اگلی نسل، اگلی فصل کی لڑائی ہے۔ کاشت کاری کو 62 کروڑ کسانوں کے حقوق کو ہم مودی جی کو دو یا تین صنعت کاروں کو فروخت نہیں کرنے دیں گے۔ یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ جیل بھیج دیں، پھانسی پر لٹکا دیں لیکن جدوجہد راہل گاندھی کی سربراہی میں جاری تھی اور جاری رہے گی جب تک کالے قانون ختم نہیں ہوجائیں گے۔


سرجے والا اور دیگر کانگریس کارکنوں کو مندر روڈ پولیس نے صبح اس وقت حراست میں لیا تھا جب کانگریس کے کارکنان زراعت سے متعلق قوانین کو کسان مخالف بتاکر حکومت سے اسے واپس لینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ صبح پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی کسانوں کے اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے ٹریکٹر کے ذریعے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تھے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان میں دن بھر کو ئی کام کاج نہیں ہوا اور کئی بار ملتوی ہونے کے بعد تین بجے لوک سبھا کی کارروائی دن بھرکے لئے ملتوی کرنی پڑی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔