زرعی قوانین کسانوں کے لئے خطرناک: رام گووند چودھری

چودھری نے کہا کہ زرعی قوانین میں کسانوں کو کاروباری بتا کر انکم ٹیکس اکاؤنٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یعنی اب دودھ بیچنے والا، مویشی چارہ 'بھوسہ' کی خرید و فروخت کرنے والے ٹیکس کے دائرے میں آئیں گے۔

زرعی قوانین کسانوں کے لئے خطرناک: رام گووند چودھری
زرعی قوانین کسانوں کے لئے خطرناک: رام گووند چودھری
user

یو این آئی

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی (ایس پی) لیڈر و اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رام گووند چودھری نے مرکزی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے تین زرعی قوانین کو کسانوں، خردہ کاروباریوں، منڈی کمیٹیوں کے تاجروں اور آڑھتیوں کے لئے خطرناک بتایا ہے۔

رام گووند چودھری نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ بی جے پی کا یہ قدم چھوٹے کسانوں کو ختم کر کے پرائیویٹائزیشن کو بڑھانے والا اور بڑے کسانوں اور خردہ کاروباریوں کو انکم کے دائرے میں لاکر ان سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصولنے کی پالیسی کا مجاز ہے۔


رام گووند چودھری نے کہا کہ زرعی قوانین میں کسانوں کو کاروباری بتا کر انکم ٹیکس اکاؤنٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یعنی گاؤں میں بازاروں میں چھوٹے کسانوں سے ان کی پیداوار خریدنے والے ریٹیل کاروباری بھی انکم ٹیکس دینے والا ہوگا۔ دودھ بیچنے والا، مویشی چارہ 'بھوسہ' کی خرید و فروخت کرنے والے سبھی ٹیکس کے دائرے میں آئیں گے۔

رام گووند چودھری نے اس سے زراعت سے وابستہ چھوٹے چھوٹے کاروبار ختم ہوجائیں گے اور پھر مجبور ہوکر چھوٹے کسان پرائیویٹ اداروں سے جو کارپوریٹ سیکٹر کے ہوں گے ان سے قرار کرے گا اور اپنی ہی کھیتی میں مزدور بن کر رہ جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔