’چینی کے بعد اب پیاز بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر‘، اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمت پر کانگریس فکر مند
جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’دودھ، تیل، پھل اور راشن سب عام انسان کی پہنچ سے باہر ہو رہے ہیں۔ ’اچھے دنوں‘ کا دعویٰ کرنے والی مودی حکومت بتائے کہ غریب اور متوسط طبقہ آخر کیسے گزارا کرے؟‘‘

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں چینی کی قیمت 45 روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر 70 روپے تک پہنچ گئی ہے، اور اب پیاز کی قیمت میں بھی 76 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مودی کے دور حکومت میں آج مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔ ایک طرف بے روزگاری ہے تو دوسری طرف سالوں سے ملازمت کر رہے لوگوں کے روزگار چھوٹ رہے ہیں۔ اس دوران مہنگائی کا بم مسلسل پھوٹ رہا ہے۔‘‘
کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’چینی کے بعد اب پیاز بھی عام آدمی کے پہنچ سے باہر ہو رہی ہے۔ مہینے بھر میں پیاز کی قیمت میں 76 فیصد تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ریاستوں میں ہول سیل قیمت دوگنے ہو چکے ہیں اور حکومت کا بفر اسٹاک خالی پڑا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ’’دودھ، تیل، پھل اور راشن سب عام انسان کی پہنچ سے باہر ہو رہے ہیں۔ ’اچھے دنوں‘ کا دعویٰ کرنے والی مودی حکومت بتائے کہ غریب اور متوسط طبقہ آخر کیسے گزارا کرے؟‘‘
کانگریس لیڈر نے اپنی پوسٹ میں ایک اخبار کا تراشا بھی پوسٹ کیا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ناسک منڈی میں گزشتہ ایک ماہ میں پیاز کی قیمت میں 76 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ساتھ ہی کئی ریاستوں میں 23 جولائی اور 23 اگست کی قیمتوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ اترپردیش میں گزشتہ ماہ 23 جولائی کو پیاز کی قیمت 40-30 فی کلو تھی اور 23 اگست کو قیمت 50-45 روپے فی کلو ہو گئی۔ اسی طرح جھارکھنڈ، دہلی، پنجاب، اتراکھنڈ، ہریانہ، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں پیاز کی قیمت بالترتیب 30-26 سے 55-40، 30-25 سے 50-45، 25 سے 40، 18 سے 40، 35-25 سے 60-50، 22-20 سے 45-42 اور 20 سے 40 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔
اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق چینی کے معاملے میں حکومت کے پاس کئی متبادل موجود ہیں، لیکن پیاز کے معاملے میں فوری راحت کے لیے صرف ’بفر اسٹاک‘ ہی واحد ذریعہ ہے۔ ایسے میں تقریباً ڈیڑھ مہینہ مشکلات بھرپور رہ سکتا ہے۔ حالانکہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پیاز کی پیداوار گزشتہ سال کے برابر ہی ہے۔ گزشتہ سال 307.67 لاکھ ٹن پیاز کی پیداوار ہوئی تھی، جبکہ رواں سال 307.37 لاکھ کی پیداوار کا اندازہ ہے۔ اس لیے پیداواری سطح پر کوئی بحران نہیں ہے، لیکن منڈیوں میں پیاز کی آمد میں کمی کا اثر قیمتوں پر صاف نظر آ رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
