مودی-شاہ کے گجرات ماڈل پر کانگریس کا پھر حملہ، کہا ’کتنا بے وقوف بنائیں گے؟‘

کانگریس لیڈر رندیپ سرجے والا نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے’’مودی/شاہ کا گجرات ماڈل- خود بے داغ دِکھنے اور اپنی چوطرفہ ناکامیوں کو چھپانے کے لیے روپانی کابینہ کے سبھی 22 وزراء کابینہ سے باہر۔‘‘

رندیپ سرجے والا، تصویر آئی اے این ایس
رندیپ سرجے والا، تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

گجرات میں بی جے پی کی ایک نئی حکومت نے اپنی باگ ڈور سنبھال لی ہے، اور اس کے ساتھ ہی اپوزیشن کانگریس کا مودی-شاہ کے گجرات ماڈل پر ایک بار پھر حملہ تیز ہو گیا ہے۔ دراصل گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی کی کابینہ میں شامل 22 وزراء کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے کانگریس کو مودی-شاہ ٹیم کو تنقید کا نشانہ بنانے کا موقع مل گیا ہے۔ کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے اپنے ایک ٹوئٹ میں گجرات کی نئی حکومت کو ’بے وقوف‘ بنانے والا عمل قرار دیا ہے۔

سرجے والا نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے جو ٹوئٹ کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ ’’مودی/شاہ کا گجرات ماڈل- خود بے داغ دِکھنے اور اپنی چوطرفہ ناکامیوں کو چھپانے کے لیے روپانی کابینہ کے سبھی 22 وزراء کابینہ سے باہر۔‘‘ ٹوئٹ میں یہ سوال بھی کیا گیا ہے کہ ’’مودی جی، اگر وہ سب ناقابل تھے تو انھیں زیر کیوں بنایا، اور قابل تھے تو کابینہ سے نکالا کیوں؟‘‘ ٹوئٹ کے آخر میں سرجے والا نے یہ بھی لکھ دیا کہ ’’کتنا بے وقوف بنائیں گے؟‘‘


واضح رہے کہ آج وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل کی کابینہ میں شامل وزراء کا چہرہ سامنے آیا جس میں گزشتہ حکومت کا کوئی چہرہ شامل نہیں ہے۔ آج بھوپیندر حکومت کے 24 وزراء کو گورنر آچاریہ دیوورَت نے عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا۔ یہ حلف برداری بدھ کے روز ہی ہونے والی تھی، لیکن پارٹی میں کچھ اندرونی ناراضگی کے سبب حلف برداری تقریب کو ایک دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔