عرصہ بعد عوام سے مخاطب ہوئے لالو پرساد، مودی حکومت کی بخیا ادھیڑ دی

لالو پرساد نے کہاکہ نریندر مودی نے سال 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں تشہیر کے دوران وعدہ کیا تھا کہ ملک کو بکنے نہیں دوں گا، لیکن آج ریلوے اور دیگر عوامی اداروں کو اونے پونے داموں پر فروخت کیا جا رہا ہے

لالو یادو کی فائل تصویر 
لالو یادو کی فائل تصویر
user

یو این آئی

پٹنہ: چارہ گھوٹالہ میں ضمانت پر رہا ہونے کے بعد راشٹریہ جنتادل (آرجے ڈی) صدر لالو پرساد یادونے آج اپنے پہلے سیاسی خطاب میں مرکز کی نریندر مودی حکومت پر جم کر نشانہ لگایا اور کہاکہ اس کی غلط پالیسیوں اور کورونا وبا سے صحیح طریقے سے نہیں نمٹنے کی وجہ سے ملک ہزارو ں سال پیچھے چلا گیا ہے۔ لالو یادو نے پیر کو یہاں آرجے ڈی کے ریاستی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پارٹی کے 25 ویں یوم تاسیس تقریب کو نئی دہلی سے ورچوئل طریقے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نریندر مودی حکومت نے اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو ہزاروں سال پیچھے دھکیل یا۔ انہوں نے کہاکہ یہ بس اشیاءاور سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) لاگو کرنے اور نوٹ بندی سے شروع ہوجوا بھی جاری ہے۔ اس کی وجہ سے ملک ابھی بیحد ہی خراب حالت میں پہنچ گیا ہے۔

آرجے ڈی صدر نے کہاکہ نریندر مودی نے سال 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں تشہیر کے دوران وعدہ کیا تھا کہ ملک کو بکنے نہیں دوں گا، لیکن آج ریلوے اور دیگر عوامی اداروں کو اونے پونے داموں پر فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ سبھی جانتے ہیں کہ ریل گاڑی کا استعمال عام لوگ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انتخابی تشہیر کے دوران 10 کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کاوعدہ کیا تھا، لیکن یہ بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ لالو یادو نے کہاکہ پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہواہے اور بیروزگاری مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے مہنگائی بھی بڑھی ہے اور اس کا سیدھا اثر غریب عوام پر پڑرہاہے۔ مہنگائی او ربے روزگاری نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوںنے کہاکہ جب وہ بہار کے وزیراعلیٰ تھے تب پٹرول اور ڈیژل کی قیمتیں بڑھنے پر عوام کوپیغام دینے کیلئے خود سائیکل سے اپنے آفس گئے تھے۔ اڈیشہ کے وزیراعلیٰ کے طور پر بیجو پٹنائک نے بھی اسی طرح کا پیغام دیا تھا۔


آرجے ڈی صدر نے کہاکہ ملک کوایک طرف جہاں معاشی بحران کا سامنا ہے وہیں دوسری جانب اقتدار کیلئے سماجی تانے۔ بانے کو بھی منتشر کیاجارہاہے۔ اب کبھی۔ کبھی اجودھیا کے بعد متھرا کا نعرہ سنائی دے رہاہے۔ آخر یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ اقتدار کیلئے کچھ بھی کریںگے۔ انہوں نے آر جے ڈی لیڈران اور کارکنان سے اپیل کی کہ وہ سماجی تانے بانے کو مضبوط کرنے کیلئے کام کرتے رہیں۔ لالو یادو نے کہاکہ مرکز کی نریندر مودی اور ریاست کی نتیش حکومت دونوں ہی کورونا وبا سے نمٹنے میں پوری طرح سے ناکام رہی ہے۔ کورونا کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیںگئی ہیں جس کی گنتی کرپانا بھی مشکل ہے۔ انہوں نے کہاکہ بہار میں سب سے زیادہ کورونا کے شکار لوگ دار الحکومت پٹنہ میں ہی ہوئے ہیں اور حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔

آرجے ڈی صدر نے کہاکہ لاک ڈاﺅن ہونے پر تارکین وطن جب بہار لوٹ رہے تھے تب حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی تھی۔ حکومت نہ تو ان لوگوں کیلئے کھانے کا انتظام کر سکی اور نہ ہی روزگار کا۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت آرجے ڈی کے کارکنان سڑکوں پر آئے اور لوگوں کی مدد کی۔ لالو یاد ونے راشٹریہ جنتادل کی تشکیل سے لیکر ابھی تک جدوجہد کے بارے میں نئے کارکنان کو تفصیل سے بتاتے ہوئے کہاکہ رام کرشن ہیگڑے کے مشورے سے پارٹی کانام راشٹریہ جنتادل رکھا گیا تھا۔ پارٹی کی یوم تاسیس سے لیکر اب تک مسلسل جدوجہد جاری ہے۔ انہوں نے پارٹی کے کارکنان سے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور کہاکہ ”تیجسوی کو فکر نہیں کرنی چاہئے۔ آرجے ڈی کا مستقبل روشن ہے۔ ہم آئندہ ملک کی قیادت بھی کریںگے۔“


آرجے ڈی صدر نے اپنی غیر حاضری میں پارٹی سنبھالنے کیلئے اپنے بیٹے تیجسوی یادو کی تعریف کی اور کہاکہ تیجسوی نے پورے بہار میں گھوم کر عوامی حمایت حاصل کی۔ انہیں امیدنہیں تھی کہ تیجسوی بہار میں آرجے ڈی کو اتنی سیٹ دلا دیںگے۔ کم عمر میں تیجسوی نے بہار جیسی ریاست میں پارٹی کو اتنی بڑی جیت دلائی وہ قابل تعریف ہے۔ اور بہار کے لوگوں نے بھی انہیں اپنا لیڈر تسلیم کیا۔ لالو یادو نے کہاکہ جب انتخاب ہورہا تھا تو وہ یہاں آنا چاہتے تھے لیکن وہ رانچی میں تڑپ رہے تھے۔ اس وقت ان کی تیجسوی سے بات ہوتی تھی تب وہ کہتے تھے ”پاپا فکر مت کیجئے ہم سب سے نمٹ لیںگے۔“ انہوں نے کہاکہ،” تیجسوی اور رابڑی دیوی نہیں ہوتیں تو رانچی میں ہی میں ختم ہوجاتا۔ دونوں نے مجھے دہلی ایمس میں داخل کرایا اور اب میں ٹھیک ہورہاہوں“۔

آرجے ڈی صدر نے کہاکہ ” میں جلد ہی بہار آﺅںگا اور ہر ضلع کا دورہ کروں گا۔ میں لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم مٹ جائیںگے لیکن جھکیںگے نہیں۔“ انہوں نے کہاکہ ان کے خلاف افواہ او رجھوٹ پھیلایا جاتا ہے۔ جب بہار میں آرجے ڈی حکومت تھی تو اسے جنگل راج بتایا گیا جبکہ اصل میںوہ جن راج تھا۔ غریبوں کی حکومت برداشت نہیں ہوئی اس لئے اسے بدنام کیا گیا۔


لالو یاد ونے کہاکہ چرواہا اسکول کے پیچھے بھی ایک فکر تھی کہ پیٹ کے ساتھ تعلیم کا بھی انتظام ہو۔ اس ملک میں بکری چرانے والے، بھینس چرانے والے، گائے چرانے والے لاکھوں لوگ ہیں انہیں بھی اسکول بھیجنے کی فکر تھی، تاکہ مویشی پروری کے ساتھ بڑھائی لکھائی بھی کرسکیں۔ بیر ون ملک اس طرح کے اسکول ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج بہار میں ہر دن چار پانچ قتل ہورہے ہیں لیکن اب اسے جنگل راج نہیں کہا جاتا ہے۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے کہاکہ آرجے ڈی ایم وائی کی نہیں بلکہ اے ٹو زیڈ کی پارٹی ہے۔ کارکنا ن کے دم پر آرجے ڈی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ انہوںنے کہاکہ آرجے ڈی کو بھی توڑنے کی تمام کوششیں کی گئیں لیکن یہ لالوجی کی پارٹی ہے جو کر پوری ٹھااور جے پی جے نظریات کو لیکر بنی ہے۔ اسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔ انہوں نے بدعنوانی، بے روزگاری اور مہنگائی پر بھی نتیش حکومت پر نشانہ سادھا۔ تقریب کو پارٹی کے ریاستی صدر جگدانند سنگھ، سابق وزیر عبد الباری صدیقی، شیوانند تیواری، تیج پرتاپ یادو اور رکن پارلیمنٹ منوج جھا سمیت کئی لیڈران نے بھی خطاب کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔