الٰہ آباد یونیورسٹی کے ایک ہاسٹل کا نام بدلنے کا مطالبہ، بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے لکھا خط

بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے خط میں الٰہ آباد سنٹرل یونیورسٹی کے ہالینڈ ہال ہاسٹل کا نام بدلنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کچھ اہم باتیں مرکزی وزیر تعلیم کے سامنے رکھی ہیں۔

الٰہ آباد یونیورسٹی، تصویر آئی اے این ایس
الٰہ آباد یونیورسٹی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

اتر پردیش میں کئی شہروں اور ریلوے اسٹیشنوں کے نام بدلے جا چکے ہیں، اور کئی شہروں کے نام بدلنے کے لیے مطالبات بھی لگاتار ہو رہے ہیں۔ اس درمیان الٰہ آباد سنٹرل یونیورسٹی کے ہالینڈ ہال ہاسٹل کا نام بدلنے سے متعلق سیاست شروع ہو گئی ہے۔ یہ مطالبہ کوشامبی سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ونود سونکر نے کیا ہے۔ انھوں نے ہالینڈ ہال ہاسٹل کا نام بدلنے کی سفارش کرتے ہوئے گزشتہ 18 مئی کو ایک خط بھی مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو لکھا ہے۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے خط میں الٰہ آباد سنٹرل یونیورسٹی کے ہالینڈ ہال ہاسٹل کا نام بدلنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کچھ اہم باتیں مرکزی وزیر تعلیم کے سامنے رکھی ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ولیم ہالینڈ الٰہ آباد یونیورسٹی سوسائٹی 1974 سے 1995 تک اس کو چلاتی رہی۔ 1995 میں اس سوسائٹی کا وجود ختم ہو گیا۔ لیکن اس وقت ہالینڈ ہال ہاسٹل کسی بھی سوسائٹی اور یونیورسٹی کے ماتحت نہیں ہے۔ ایسے حالات میں اس کی دیکھ بھال، اس کے رکھ رکھاؤ کی ذمہ داری کسی کی نہیں رہ گئی ہے۔ اس وجہ سے ہاسٹل میں رہنے والوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رہنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہاسٹل کی حالت بھی خراب ہو رہی ہے۔ ہاسٹل میں بنے کمرے مخدوش ہو رہے ہیں۔


بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے اس ہاسٹل کا نام بدل کر پنڈت دین دیال اپادھیائے میموریل ہاسٹل رکھے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے مرکزی وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ ہالینڈ ہال ہاسٹل اور اس سے جڑی زمین کو مرکزی حکومت کے ذریعہ حاصل کر یونیورسٹی کو سونپ دیا جائے۔ خط میں ہالینڈ ہال ہاسٹل کے اوپر جتنے بھی بقایہ جات اور قرض ہیں، انھیں معاف کیے جانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، پھر سے ہالینڈ ہال ہاسٹل کی باز آبادکاری اور سجاوٹ کا مطالبہ خط میں کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔