میرٹھ میں انگریزوں کے مقلدوں کی شرمناک کرتوت

اس فعل کی اصل وجہ میڈیا اور واٹس اپ یونیورسٹی سے پروسا جانے والا زہریلا مواد ہے، جس نے معاشرہ کے اندر اتنی خلیج پیدا کردی کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔

تصویر شاہد صدیقی علیگ
تصویر شاہد صدیقی علیگ
user

شاہد صدیقی علیگ

عشق آباد یعنی میرٹھ جسے عروس الاحرار اور تغیر آزادی سے بھی پکارا جاتا ہے، جہاں سید احمد شہید کی مخلص سرفروش ٹولی نے عوام کو جھنجوڑ کر ایک وہابی مرکز قائم کیا تھا جو خاموشی سے اپنے مقصد پر عمل پیرا ہوگیا تھا۔ ان کے بعد مولوی احمداللہ شاہ نے بھی 1856 کے آخری ایام میں کچھ عرصہ ٹھہر کر وہاں دیسی سپاہیوں کو سیاسی آزادی کے بارے میں وعظ دیا تھا۔ اسی اثنا میں نانا صاحب اور ان کے مشیر عظیم اللہ مارچ یا اپریل 1857 میں میرٹھ آئے تھے۔ علاوہ ازیں بابو کنور سنگھ نے بھی اپنے سپہ سالار شہید قاضی ذوالفقار علی خاں کو میرٹھ کا سفر کرنے لیے ہدایت کی تھی۔

ان سب مجاہدین کی بے لوث جانفشانیوں اور کاوشوں کا نتیجہ 10؍مئی1857 کو منظر عام پر آیا جب 85 دیسی سپاہیوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف بغاوت کا ناقوس پھونکا۔ ان سپاہیوں میں 49؍مسلمان اور 36؍ہندو تھے۔ وہاں گزشتہ دنوں تحریک آزادی کے عظیم مجاہدین کے ساتھ ایک ایسی شرمناک حرکت کی گئی جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔


میرٹھ میں چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور سر چھوٹے رام انجینئرنگ کالج سے منسلک دیواروں پر 1857 کے انقلابیوں کی تصاویر بنوائی گئی تھیں لیکن کچھ شرپسندوں یا یوں کہا جائے انگریزوں کے حامیوں کی اولادوں نے مسلم مجاہدین کے چہروں کو مسخ کر دیا اور اپنے آقاؤں کی زبان انگریزی میں لکھ دی کہ No Freedom Fighter۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ اس پر اب تک کسی کا کوئی مذمتی بیان تک سامنے نہیں آیا۔

اس فعل کی اصل وجہ میڈیا اور واٹس اپ یونیورسٹی سے پروسا جانے والا زہریلا مواد ہے، جس نے معاشرہ کے اندر اتنی خلیج پیدا کردی کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہی وجہ کہ ایک گروہ جسے اپنی خودی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ وہ اب ان مجاہدین کی بھی بے حرمتی کرنے میں پیچھے نہیں ہٹ رہا ہے۔ جن کی رہنمائی میں بلا تفریق قوم وملت نے انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑی اور جو وطن عزیز کی آزادی کی خاطر پھانسی کے پھندوں پر چڑھ گئے تھے۔ ایسے متعصب لوگوں کی عقل اتنی ماؤف ہوگئی کہ وہ انقلابیوں کو ہندو مسلمان کے خانوں میں تقسیم کرکے پوری دنیا کے سامنے اپنی جگ ہنسائی کرا رہے ہیں اور ملک کی شبیہ خراب کر رہے ہیں۔

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے

تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔