پیگاسس جاسوسی معاملہ کی تفتیش کے لیے بنے گی ماہرین کی کمیٹی، مرکز کا اعلان

مرکزی حکومت نے اپنے حلف نامے میں کہا کہ ہماری طرف سے کوئی جاسوسی یا غیر قانونی نگرانی نہیں کی گئی ہے، مرکز نے درخواست گزاروں کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کردیا۔

علامتی تصویر، آئی اے این ایس
علامتی تصویر، آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: مرکزی حکومت مبینہ پیگاسس جاسوسی کیس کی تحقیقات کے لئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دے گی۔ یہ اطلاع مرکزی حکومت کی جانب سے وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعہ عدالت عظمیٰ کے سامنے دائر کردہ حلف نامے میں دی گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے تاہم اس سے انکار کیا کہ اس نے کسی کی جاسوسی کرائی ہے۔ مرکز نے اپنے حلف نامے میں کہا کہ ہماری طرف سے کوئی جاسوسی یا غیر قانونی نگرانی نہیں کی گئی ہے۔ مرکز نے درخواست گزاروں کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کردیا۔

درخواست گزاروں میں سینئر صحافی این رام، ششی کمار، سی پی آئی (ایم) کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے رکن جان برٹاس، صحافی پرنجے گوہا ٹھکوراتا، ایس این ایم عابدی، پریم شنکر جھا، روپیش کمار اور اپشا شتاکشی، سماجی کارکن جگدیپ چھوکر، نریندر کمار مشرا اور ایڈیٹرزگلڈ اور سپریم کورٹ کے وکیل منوہر لال شرما شامل ہیں۔ شرما نے اس معاملے میں سب سے پہلے پٹیشن دائر کی تھی۔ گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک ڈویژن بنچ نے کہا تھا کہ اگر میڈیا رپورٹس درست ہیں تو یہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔