سونیا گاندھی نے مودی حکومت پر ’جمہوریت کو تاناشاہی‘ میں بدلنے کا لگایا الزام

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’حال ہی میں اختتام پذیر پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس نے پارلیمانی عمل اور عام اتفاق بنانے کے تئیں موجودہ (مودی) حکومت کے گھمنڈ کو ظاہر کیا۔‘‘

سونیا گاندھی، تصویر ویپن
سونیا گاندھی، تصویر ویپن
user

قومی آوازبیورو

کانگریس صدر سونیا گاندھی نے یومِ آزادی کی 75ویں سالگرہ پر ایک طرف ہندوستان کی آزادی میں قربانیاں دینے والوں اور ملک بنیاد قائم کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا، وہیں مرکز کی موجودہ نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر کئی طرح کے الزامات بھی عائد کیے۔ انھوں نے اپنے بیان میں مرکزی حکومت پر جمہوریت کو تاناشاہی میں بدلنے کی کوشش کا سنگین الزام بھی عائد کیا۔ یومِ آزاد کے 75ویں سال میں داخل ہوئے ہندوستان کے سامنے کئی چیلنجز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ اِدھر کچھ سالوں میں کئی محاذ پر ہمارے ملک کی ترقی الٹے راستے پر چلی گئی ہے۔

سونیا گاندھی نے اپنے بیان میں لکھا ہے کہ ’’اس سال کا یومِ آزادی ایک آزاد ملک کی شکل میں ہندوستان کے 75ویں سال کی شروعات کی علامت ہے۔ یہ قابل فخر جشن، گہرے فکر اور نئے سرے سے عزائم کا موقع ہے۔ یہ ان لوگوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع ہے جنھوں نے جدید ہندوستان کی بنیاد رکھی اور جنھوں نے ہمت کے ساتھ ایک خوشحال اور جمہوری قوم کا تصور کیا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’آج ہم اپنے قوم کے بانیوں کے تعاون کو یاد کرتے ہیں اور ان کی عزت افزائی کرتے ہیں۔ مہاتما گاندھی کی مضبوط اخلاقی قیادت اور سچائی، عدم تشدد، فرقہ وارانہ خیر سگالی، اور پھر ہماری جمہوریت، معیشت، عوامی اداروں کی تعمیر کے لیے جواہر لال نہرو کی کوششوں اور جن کی دعاؤں نے ہندوستان کو عالمی پلیٹ فارم پر ایک اعلیٰ مقام دلایا۔ سردار پٹیل کا 560 سے زیادہ ریاستوں کو جوڑ کر ایک قوم بنانے کا عزم، سبھاش چندر بوس کا قومی منصوبہ کمیٹی کی قیادت اور فوجی طاقت پر ان کا زور۔ بابا صاحب امبیڈکر کے ذریعہ ہمارے آئین کی تعمیر، انصاف، آزادی اور استحصال شدہ طبقوں کی آزادی کے لیے عزائم ہے۔ تین چوتھائی صدی میں ہم نے گہری جڑوں والی زندہ جمہوریت کو فروغ دیا ہے۔ ہم نے فوڈ پروڈکشن میں خود انحصاری حاصل کی ہے۔ ہم نے دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک کی تعمیر کی ہے اور دنیا میں سب سے بڑی تعداد میں لوگوں کو جمہوری طریقوں سے غریبی اور بیماری سے باہر نکالا ہے۔ ہم نے سب سے بڑی، سب سے مضبوط فوجی قوتوں اور ایک سرکردہ خلائی مشن میں سے ایک کی تعمیر کی ہے۔ پھر بھی، جیسا کہ ہم اپنی کامیابیوں کا جشن مناتے ہیں، ہمیں یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ ہمیں ہر محاذ پر کتنا آگے جانا ہے۔ بدقسمتی سے، حال کے سالوں میں کئی محاذ پر ہمارے ملک کی ترقی میں تبدیلی آئی ہے۔‘‘


بعد ازاں اپنے بیان میں سونیا گاندھی نے نریندر مودی حکومت کی ناکامیوں اور ملک کے پیچھے کی طرف دھکیلے جانے کی باتوں کا تذکرہ کیا ہے۔ گزشتہ دنوں ختم ہوئے مانسون اجلاس کے دوران پارلیمنٹ میں ہوئے ہنگامے پر بھی انھوں نے اپنی بات رکھی اور کہا کہ ’’حال ہی میں اختتام پذیر پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس نے پارلیمانی عمل اور عام اتفاق بنانے کے تئیں موجودہ (مودی) حکومت کے گھمنڈ کو ظاہر کیا۔ اپوزیشن کو بار بار قومی اہمیت کے ایشوز کو اٹھانے کے موقع سے محروم کیا گیا تھا۔ تباہ ناک زرعی قوانین، آئینی اعداد و شمار، سیاسی مخالفین، صحافیوں اور کارکنان سے جڑے ڈیوائس کو ہیک کرنے کے لیے فوجی گریڈ سافٹ ویئر کا استعمال اور بے روزگاری۔ گزشتہ 7 سالوں میں تیزی سے، ایوان میں بحث کے بغیر یا ایک کمیٹی کے ذریعہ جانچ کے بغیر قوانین کو پاس کیا گیا ہے، پارلیمنٹ کو ایک ربر اسٹامپ میں بدل دیا گیا ہے۔ عوام کے مینڈیٹ کی بے عزتی کرتے ہوئے جمہوری طور سے منتخب کی گئی ریاستی حکومتوں کو گرا دیا گیا ہے۔ میڈیا کو منظم طور پر دھمکایا گیا ہے، اور سچ بولنے کی اپنی ذمہ داری کو بھول جانے کے لیے مجبور کیا گیا ہے۔‘‘

کورونا وبا کے دوران مودی حکومت کی بدانتظامیوں اور ناکامیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ ’’کووڈ-19 وبا کے دوران بدانتظامی سے ہیلتھ کیئر سیکٹر میں اصلاح سے متعلق دہائیوں کی ترقی الٹ گئی ہے۔ گھمنڈ اور خراب منصوبہ کے نتیجہ کار زندگی اور روزگار کا شعبہ تباہ ہو گیا ہے۔ ہم ویکسین کو لے کر دنیا کے سب سے بڑے پروڈیوسر ہونے پر فخر کرتے ہیں، لیکن پھر بھی آبادی کے حساب سے کم لوگوں کو ہی ویکسین لگی ہے۔‘‘ ہندوستانی معیشت کے لگاتار زوال پذیر ہونے کو لے کر سونیا گاندھی نے کہا کہ ’’بدقسمتی سے ہم گزشتہ 75 سالوں میں سب سے زیادہ زوال پذیر معیشت کے گواہ بن رہے ہیں، یہاں تک کہ کووڈ-19 وبا نے جب ہندوستان پر حملہ کیا اس سے قبل بھی معیشت بدحالی کی شکار ہوئی۔ معاشی بحران ہمارے غریب خاندانوں کے لیے بھیانک نتائج لے کر سامنے آئی ہے۔ یہ بحران خود روزگار سے جڑے لوگوں کے لیے، چھوٹے اور درمیانے کاروبار سے جڑے، کسانوں کے لیے، روزگار تلاش کر رہے نوجوانوں کے لیے بھی، اور ہمارے ملک کے لاکھوں ایسے مرد و عورتوں کے لیے مشکلات بنی جو مزدوری کے لیے اپنی ریاست چھوڑ کر دوسری ریاستوں کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ تیزی سے آگے بڑھ رہا متوسط طبقہ بے روزگاری سے بری طرح متاثر ہوا ہے، غربت اور عدم تغذیہ کی حالت افسوسناک ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔