مودی حکومت کی افغانستان معاملے پر خاموشی تشویشناک اور پراسرار ہے: کانگریس

رندیپ سنگھ سرجے والا نے پیر کو یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ افغانستان کی صورتحال نازک موڑ پر ہے اور وہاں سفارت خانہ کے عملے کے ساتھ ساتھ دیگر ہندوستانیوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ہیں۔

کانگریس لیڈر آر ایس سرجے والا / تصویر یو این آئی
کانگریس لیڈر آر ایس سرجے والا / تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ طالبان نے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں ہندوستان کی دولت پر خطرے کے ساتھ بے شمار ہندوستانی خطرے میں آگئے ہیں۔ لہٰذا وزیر اعظم نریندر مودی کو بتانا چاہیے کہ ان کی حکومت ہندوستانیوں کی محفوظ واپسی کے لئے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

کانگریس کے شعبہ مواصلات کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے پیر کو یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ افغانستان کی صورتحال نازک موڑ پر ہے اور وہاں سفارت خانہ کے عملے کے ساتھ ساتھ دیگر ہندوستانیوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ہیں۔ سیاسی صورتحال سے پیدا ہونے والے حالات کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو دیکھتے ہوئے حکومت کو ملک اور اپوزیشن کوپوری معلومات دینی چاہئیں۔


انہوں نے کہا کہ پی ایم مودی کو زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ ان کی خاموشی ہندوستانی شہریوں اور افغانستان سے متعلقہ فریقوں کے مفاد میں نہیں ہے، اس لیے جلد از جلد اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرتے ہوئے حکومت کو اپنے شہریوں، سفارت خانے کے عملے اور افغانستان کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔

ترجمان نے کہا کہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے پاکستان کی بدنام زمانہ آئی ایس آئی کے ساتھ براہ راست روابط ہیں۔ اسی طرح یہ سب جیش محمد ، لشکر طیبہ جیسی دہشت گرد تنظیموں سے متعلق ہیں جو کشمیر میں دہشت گردی پھیلانے میں ملوث ہیں، جس کے پیش نظر حکومت ہند کو ملکی مفاد میں اقدامات کرنے چاہئیں اور انہیں اس کے بارے میں ملک کو آگاہ کرنا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔