اپوزیشن حکمراں 8 ریاستوں نے جی ایس ٹی شرحوں میں تخفیف کی حمایت کی، اس کا براہ راست فائدہ صارفین کو ملے: کانگریس
جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ 8 اپوزیشن حکمراں ریاستوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جب شرحوں میں تخفیف ہوگی، تو اس کا اثر ریاستوں کی آمدنی پر پڑے گا۔ اس لیے سبھی ریاستوں کو 5 سالوں تک معاوضہ دیا جائے۔

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے ہفتہ کے روز مطلع کیا کہ اپوزیشن حکمراں 8 ریاستوں نے جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی کو اپنی حمایت دی ہے۔ یہ ریاستیں کرناٹک، کیرالہ، پنجاب، ہماچل پردیش، تلنگانہ، مغربی بنگال، تمل ناڈو اور جھارکھنڈ ہیں۔ جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ان ریاستوں نے جی ایس ٹی کی الگ الگ شرحوں کو کم کرنے اور عام استعمال کی چیزوں پر لگنے والی شرحوں کو گھٹانے کے مطالبہ کی حمایت کی ہے۔ ساتھ ہی ان ریاستوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایک ایسا نظام تیار کیا جائے جس سے یہ یقینی ہو سکے کہ ان شرحوں میں تخفیف کا فائدہ براہ راست صارفین تک پہنچے۔
جئے رام رمیش کے مطابق ان 8 اپوزیشن حکمراں ریاستوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جب جی ایس ٹی شرحوں میں تخفیف ہوگی تو ریاستوں کی آمدنی پر اس کا اثر پڑے گا۔ اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے سبھی ریاستوں کو 5 سالوں تک معاوضہ دیا جائے۔ اس معاوضہ کو شمار کرنے کے لیے 25-2024 کو ’بنیادی سال‘ تصور کیا جائے۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ عیش پسندی کے سامانوں (مثلاً تمباکو اور شراب وغیرہ) اور لگژری اشیا پر مجوزہ 40 فیصد سے اوپر جو اضافی ٹیکس لگے گا، اس کا پورا پیسہ ریاستوں کو دیا جائے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کردہ پوسٹ میں جئے رام رمیش نے کہا کہ مرکزی حکومت اپنے مجموعی ریونیو کا تقریباً 18-17 فیصد الگ الگ ٹیکس (سیس) کے ذریعہ حاصل کرتا ہے، جسے ریاستوں کےس اتھ شیئر نہیں کیا جاتا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان ریاستوں کا مطالبہ پوری طرح سے جائز ہیں اور انھیں خود مرکزی وزارت مالیات کے تحت کام کرنے والے ادارہ ’این آئی پی ایف پی‘ کی حالیہ تحقیق کی حمایت بھی ملی ہے۔ اس کے مطابق کانگریس طویل مدت سے جی ایس ٹی 2.0 کا مطالبہ کر رہی ہے، جو صرف شرحوں کو کم ہی نہیں کرے بلکہ جی ایس ٹی کے پورے عمل کو آسان بنائے۔ خصوصاً ایم ایس ایم ای کے لیے۔ رمیش نے یہ بھی کہا کہ کانگریس مستقل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ سبھی ریاستوں کے مفادات کی پوری طرح سے حفاظت کی جائے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ہفتہ ہونے والی جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ صرف خبروں میں آنے والی نمائش نہیں ہوگی، جیسا کہ مودی حکومت اکثر کرتی ہے، بلکہ اس میں صحیح معنوں میں مثبت اقدام کیے جائیں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔