یہ کیسی شراب بندی! بہار میں زہریلی شراب نے پھر 4 لوگوں کی لی جان

پندرہ دن قبل مظفر پور کے سریا تھانہ علاقہ میں کم از کم سات لوگوں کی مبینہ طور پر زہریلی شراب پینے سے موت ہوئی تھی، ریاست میں گزشتہ 15 دنوں میں 40 سے زائدلوگوں کی جان مبینہ طور پر شراب نے لی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بہار میں شراب بندی کے باوجود شراب پینے سے موت کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس تعلق سے منگل کے روز بھی ایک دردناک خبر سامنے آئی۔ مظفر پور کے کانٹی میں چار لوگوں کی موت ممکنہ طور پر زہریلی شراب پینے سے ہوئی، جب کہ 5 سے 7 لوگ بیمار بتائے جا رہے ہیں۔ بیمار لوگوں میں تین کی حالت سنگین بتائی جا رہی ہے۔

ایک پولیس افسر نے منگل کو بتایا کہ کانٹی تھانہ علاقہ کے سرسیا اور بریارپور گاؤں میں منگل کی صبح اچانک کچھ لوگوں کی طبیعت بگڑ گئی۔ کچھ لوگوں نے پیٹ میں درد کی شکایت کی، جب کہ کچھ لوگوں نے دکھائی نہیں دینے کی بات کہی۔ آناً فاناً میں سبھی لوگوں کو اسپتال لے جایا گیا، جہاں تین لوگوں کی موت ہو گئی۔


حالانکہ غیر مصدقہ خبروں کے مطابق مرنے والوں کی تعداد چار بتائی جا رہی ہے۔ مظفر پور کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ جینت کانت نے بتایا کہ تین لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ مزید ایک شخص کی موت کی بات کہی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کے اسباب کا پتہ چل سکے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں تھانہ انچارج کندن کمار، چوکیدار ناگیندر پاسوان، چوکیدار محمد اسلام کو معطل کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ متاثرہ گاؤں میں جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ جینت کانت نے بتایا کہ سریا میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آئے ہیں، اس لحاظ سے علاقے میں چھاپہ ماری چل رہی ہے اور پورے واقعہ پر پولیس کی نظر بنی ہوئی ہے۔

غور طلب ہے کہ پندرہ دن قبل ضلع کے سریا تھانہ حلقہ میں کم از کم سات لوگوں کی مبینہ طور پر زہریلی راب پینے سے موت ہو گئی تھی۔ ریاست میں گزشتہ 15 دنوں میں 40 سے زیادہ لوگوں کی موت مبینہ طور پر شراب پینے سے ہو گئی ہے۔ اپوزیشن لگاتار اس معاملے پر نتیش حکومت پر حملہ آور ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔