محلہ کلینک کی غلط دوا سے 3 بچوں کی موت ہوئی، وزیر صحت استعفیٰ دیں: کانگریس

دہلی کانگریس صدر چودھری انل کمار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’دہلی حکومت کی لاپروائی کے سبب محلہ کلینکوں میں نااہل ڈاکٹروں کے ذریعہ غلط دوائی دینے سے 3 معصوم بچوں کی جان چلی گئی۔‘‘

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز
user

قومی آوازبیورو

’’وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی نگرانی میں دہلی کے محلہ کلینکوں میں کھلے عام مریضوں کی جان سے کھلواڑ ہو رہا ہے۔ ان کلینکوں میں رکھے گئے نااہل ڈاکٹروں کے ذریعہ بچوں کو دوائی دیے جانے کے بعد تین کی موت ہو گئی اور کلاوتی سرن اسپتال میں داخل 13 بچے اپنی زندگی کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔‘‘ یہ بیان دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انل کمار نے دیا۔ انھوں نے کہا کہ محلہ کلینکوں کی آڑ میں جھوٹی واہ واہی لوٹنے والے کیجریوال دہلی والوں کو کلینک میں دوائی کے نام پر موت پروس رہے ہیں۔ ایسا اس لیے کہا جا رہا ہے کیونکہ ڈیکسٹرومیتھورفن نامی دوائی جو 4 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو دی جانی چاہیے تھی، محلہ کلینک میں تقرر ڈاکٹر نے 3 سال کے بچوں کو دی تھی۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری انل کمار نے دہلی کی کیجریوال حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے 3 بچوں کی ہوئی موت کے لیے اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کیجریوال سے معافی مانگنے اور دہلی کے وزیر صحت سے فوراً استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ چودھری انل کمار نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مرنے والے بچوں کے سرپرست کو ایک کروڑ معاوضہ اور بیمار بچوں کے والدین کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے۔


اس موقع پر چودھری انل کمار نے کہا کہ وہ دہلی کانگریس کی طرف سے لیفٹیننٹ گورنر کو اس سلسلے میں اعلیٰ افسر سے جانچ کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ جانچ ہونی چاہیے کہ محلہ کلینکوں میں کس طرح گھٹیا دوائی دی جا رہی ہے۔ اس کا آڈٹ ہو، نااہل ڈاکٹر، میڈیکل اسٹاف کی تقرری کی مکمل جانچ ہو۔ یہ بھی جانچ کا موضوع ہے کہ دہلی کے اسپتالوں میں غلط دوا کی وجہ سے بیمار کتنے بچے داخل ہیں اور کتنے کی جان گئی ہے۔

دہلی میں محلہ کی کلینک کو بدحال قرار دیتے ہوئے چودھری انل کمار نے کیجریوال حکومت کے ذریعہ محلہ کلینکوں کو لے کر دنیا بھر میں جھوٹی تشہیر کیے جانے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ اروند کیجریوال جہاں پنجاب میں 16000 محلہ کلینک کھولنے کا وعدہ کر رہے ہیں، وہیں گزشتہ 7 سالوں کی حکومت میں کیجریوال نے دہلی میں صرف 505 بدحال محلہ کلینک کھولے ہیں۔ ان میں بیشتر کلینک سماج دشمن عناصر، جواریوں و جانوروں کا اڈہ بنے ہیں۔ حالانکہ 2013 میں کیجریوال نے 1000 کلینک کھولنے کا وعدہ کی تھا۔ چودھری انل کا کہنا ہے کہ 7 سالوں میں صرف 505 محلہ کلینک اس لیے کھلے کیونکہ عآپ اپنے کارکنان کو معاشی فائدہ پہنچانے کے لیے گنی چنی جگہوں کا کرایہ دے کر محلہ کلینک کھول رہی ہے، اور ان میں بدعنوانی پوری طرح موجود ہے۔

تصویر بذریعہ پریس ریلیز
تصویر بذریعہ پریس ریلیز

اس پریس کانفرنس کے دوران اسدالدین اویسی کی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین اور عام آدمی پارٹی کے کچھ عہدیداران نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ اس تعلق سے چودھری انل کمار نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے نظریات اور ہمارے لیڈر راہل گاندھی جی کی شخصیت سے متاثر ہو کر اویسی کی پارٹی اور عآپ کے عہدیداروں نے کانگریس کا دامن تھاما۔ دہلی پردیش کانگریس صدر نے مجلس اتحادالمسلمین کے کراول نگر ضلع صدر عبدالحق ملک، مصطفیٰ آباد کے ماسٹر ظفر سلمان، سکندر خان، ندیم، معصوم رضا تقوی، محمد شمیع اور شمیم سیفی کو کانگریس کا پٹکا پہنا کر انھیں پارٹی میں شامل کیا۔ اس موقع پر دہلی پردیش کانگریس کے نائب صدر علی مہندی، میڈیا کمیٹی نائب صدر انج آترے اور ضلع صدر آدیش بھاردواج بھی موجود تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔