مودی حکومت نے منریگا جیسے انقلابی قانون کو بلڈوزر سے ختم کر دیا، جے رام رمیش کا الزام
جے رام رمیش نے منریگا کے 20 سال مکمل ہونے پر کہا کہ یہ دیہی غریبوں کا آئینی حق تھا، کوئی انتظامی وعدہ نہیں، مگر مودی حکومت نے نام اور اصول بدل کر اس قانون کو کمزور کر دیا ہے

کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے منریگا (مہاتما گاندھی رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ) کے نفاذ کے 20 سال مکمل ہونے پر مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنی پوسٹ میں منریگا کو ایک تاریخی اور انقلابی قانون قرار دیا اور کہا کہ اس نے دیہی ہندوستان کی سماجی و معاشی صورتِ حال کو گہرے طور پر متاثر کیا۔
جے رام رمیش نے کہا کہ آج سے ٹھیک بیس سال پہلے منریگا کا آغاز آندھرا پردیش کے ضلع اننت پور کے بدناپلی گاؤں سے ہوا تھا۔ ان کے مطابق ان بیس برسوں میں منریگا نے دیہی خاندانوں، خاص طور پر خواتین، کو 180 کروڑ کام کے دن فراہم کیے۔ اس دوران تقریباً 10 کروڑ سماجی اور کمیونٹی اثاثے تیار ہوئے، بحران کے وقت ہونے والی نقل مکانی میں بڑی حد تک کمی آئی، گرام پنچایتیں مضبوط ہوئیں اور دیہی غریبوں کی اجرت پر بات چیت کرنے کی طاقت میں فیصلہ کن اضافہ ہوا۔
جے رام رمیش نے مزید کہا کہ منریگا کے ذریعے مزدوری کی رقم براہِ راست بینک اور ڈاک گھر کے کھاتوں میں منتقل کرنے کا نظام شروع ہوا، جسے بعد میں ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کے طور پر اپنایا گیا۔ ان کے مطابق چھوٹے اور حاشیے پر کھڑے کسانوں کو اپنی زمین پر کنویں جیسے آبپاشی کے ذرائع قائم کرنے کا موقع بھی اسی قانون کے تحت ملا۔
اپنی پوسٹ میں جے رام رمیش نے واضح کیا کہ منریگا کوئی عام سرکاری اسکیم نہیں تھی بلکہ مانگ پر مبنی قانونی ضمانت تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک انتظامی وعدہ نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 41 سے جڑا ہوا ایک حق تھا۔ شہریوں کی مانگ پر کام فراہم کیا جاتا تھا اور دیہی ہندوستان کے کسی بھی حصے میں روزگار ممکن تھا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبوں کا فیصلہ مقامی گرام پنچایتیں کرتی تھیں اور چونکہ ریاستی حکومتوں کو کل لاگت کا صرف 10 فیصد برداشت کرنا پڑتا تھا، اس لیے انہیں بغیر بڑے مالی دباؤ کے روزگار فراہم کرنے کی ترغیب ملتی تھی۔ سماجی آڈٹ گرام سبھا کے ذریعے اور اعلیٰ سطحی آڈٹ سی اے جی کے ذریعے ہوتے تھے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ مودی حکومت نے نئے قانون نے اس پورے تصور کو بدل دیا ہے اور دہلی میں مرکزیت کو یقینی بناتا ہے۔ ان کے مطابق اب کام چند منتخب اضلاع میں مرکزی حکومت کے ذریعے طے کیا جائے گا، شہریوں کی مانگ کی بنیاد پر نہیں بلکہ بجٹ کی بنیاد پر۔ انہوں نے کہا کہ نئی اسکیم کے تحت سال کے دو مہینے، جب زرعی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہوتی ہیں، اس دوران کام مکمل طور پر بند رہے گا، جس سے مزدوروں کی اجرت پر گفت و شنید کی طاقت کو بڑا دھچکا لگے گا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پنچایتوں کو حاشیے پر ڈال دیا گیا ہے اور منصوبوں کا فیصلہ مرکزی حکومت اپنی ترجیحات کے مطابق کرے گی۔ ساتھ ہی ریاستوں پر لاگت کا 40 فیصد بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جو مالی تنگی کے سبب ممکن نہیں ہوگا اور نتیجتاً روزگار دینا بند ہو جائے گا۔
جے رام رمیش نے کہا کہ منریگا ایک تبدیلی لانے والا قانون تھا، جب کہ مودی حکومت کی نئی اسکیم، جس نے اسے بلڈوزر سے ختم کر دیا ہے، سنگین خامیوں سے بھری ہوئی ہے۔ انہوں نے پوسٹ میں 20 سال پرانی تصویر بھی شیئر کی، جس میں بدناپلی گاؤں کی دلت خاتون چیملا پیڈّکا نظر آ رہی ہیں جو منریگا کے تحت پہلی جاب کارڈ ہولڈر بنی تھیں۔
خیال رہے کہ مودی حکومت نے منریگا کا نام بدل کر وی بی گرام جی (وکست بھارت - گارنٹی فار روزگار اینڈ آجیویکا مشن گرامین) رکھ دیا ہے اور اس کے بنیادی اصولوں میں بھی تبدیلی کی ہے، جس کی کانگریس شدید مخالفت کر رہی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ مانگ پر مبنی روزگار کی قانونی ضمانت کو ختم کر کے اسے بجٹ پر منحصر اسکیم میں بدلا جا رہا ہے، جس سے دیہی غریبوں کے حقوق متاثر ہوں گے۔ پارٹی نے منریگا بچاؤ سنگرام کے نام سے ملک گیر تحریک شروع کی ہے، جس کے تحت احتجاج، عوامی رابطہ مہم اور گرام سبھاؤں میں بیداری پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت منریگا کو بتدریج ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے اور اس کے ذریعے دیہی مزدوروں، خواتین اور حاشیے پر کھڑے کسانوں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔