گئو رکشکوں کے ذریعے 20 سالہ نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل! محبوبہ مفتی نے متاثرہ کنبہ کے حق میں اٹھائی آواز

محبوبہ مفتی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ یہ جان کر دل دہل گیا کہ راجوری میں ایک 20سالہ نوجوان کو گئو رکشکوں نے پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ نوجوان نے اپنے پیچھے مفلوج والد، والدہ اور تین بہنوں کو چھوڑا ہے۔

مقتول اعجاز ڈار کا کنبہ / تصویر بشکریہ ٹوئٹر
مقتول اعجاز ڈار کا کنبہ / تصویر بشکریہ ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

سری نگر: جموں و کشمیر کے راجوری ضلع میں ایک 20 سالہ نوجوان اعجاز ڈار کو کچھ نامعلوم افراد نے اس وقت قتل کر دیا جب وہ اپنی بھینس لے کر جا رہے تھے۔ یہ واقعہ مراد نگر گاؤں کے نزیک پیر کے روز پیش آیا۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کنبہ کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے ایل جی منوج سنہا سے قصورواروں کو سخت سزا دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

محبوبہ مفتی نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’یہ جان کر دل دہل گیا کہ راجوری میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گئو رکشکوں نے پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ نوجوان نے اپنے پیچھے مفلوج والد، والدہ اور تین بہنوں کو چھوڑا ہے۔ جموں و کشمیر میں ماضی کے اس طرح کے معاملوں کی سماعت نہیں کی گئی۔ منوج سنہا سے درخواست ہے کہ قصورواروں کو سزا دی جائے اور کنبہ کا خیال رکھا جائے۔‘‘


قبل ازیں، پیر کے روز پیش آنے والے واقعہ کے حوالہ سے مقتول اعجاز ڈار کے اہل خانہ نے بتایا کہ اعجاز اور دو مزید افراد پر گئو رکشکوں نے حملہ کیا تھا۔ حملے میں دیگر دونوں نوجوان بری طرح زخمی ہوئے ہیں اور ان کا علاج چل رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تینوں پر اس وقت حملہ ہوا جب وہ نوشہرہ کے نزدیک واقع لام سے ایک گاڑی میں بھینس لے کر جا رہے تھے۔ جب وہ مراد پور گاؤں میں پہنچے تو مبینہ طور پر گئو رکشکوں نے ان کی گاڑی کو روک لیا اور ان پر پتھروں سے حملہ کرنا شروع کر دیا۔


شدید زخمی حالت میں تینوں کو جموں میں واقع گورنمنٹ میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا جہاں اعجاز ڈار نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔ دیگر دنوں افراد کی حالت مستحکم قرار دی جا رہی ہے۔ جموں و کشمیر پولیس نے اہل خانہ کی نشاندہی پر چار ملزمان کی شناخت کی ہے، جو فرار ہو گئے ہیں۔ ملزمان کو گرفتار کرنے کے لئے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

اس ہولناک واقعہ کے بعد علاقہ میں احتجاج شروع ہو گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اعجاز ڈار اپنے خاندان میں واحد کمانے والا شخص تھا اور اس نے اپنے پیچھے مفلوج والد، والدہ اور تین بہنوں کو چھوڑا ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ راجوری ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر جمع ہوئے اور ملزمان کی گرفتاری کے لئے نعرے بازی کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔