آندھرا پردیش میں یرغمال بنائے گئے جھارکھنڈ کے 16 مزدوروں کو ملی آزادی

جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو جب مزدوروں کو یرغمال بنائے جانے کی جانکاری ملی تو انھوں نے محکمہ محنت کے افسران کو فوری کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

آندھرا پردیش کے آئس جزیرہ میں یرغمال بنا کر رکھے گئے جھارکھنڈ کے 16 مزدوروں کو آزاد کرا لیا گیا ہے۔ ان سبھی کو ایک ٹھیکہ دار اچھا کام دلانے کا وعدہ کر آندھرا پردیش لے گیا تھا، لیکن وہاں مزدوری دیے بغیر ان سے 15 سے 18 گھنٹے تک جبراً کام لیا جا رہا تھا۔ اس کی جانکاری ملنے پر جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے ریاست کے محکمہ محنت کے افسران کو فوری کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔

بعد ازاں ریاست کے مہاجر کنٹرول روم نے آندھرا پردیش کے افسران کے ساتھ رابطہ قائم کیا۔ آندھرا پردیش پولیس اور وہاں کے محکمہ محنت کی ٹیم نے چھاپہ ماری کر سبھی مزدوروں کو آزاد کرایا۔ ریاستی مہاجر کنٹرول روم کی پیش قدمی پر مزدوروں کو 15 دنوں کا مجموعی محنتانہ 48 ہزار روپے کی ادائیگی بھی کرا دی گئی ہے۔


آزاد کرائے گئے سبھی مزدور پولیس سیکورٹی میں وجے واڑا اسٹیشن لائے گئے، جہاں سے سبھی 2 دسمبر کی صبح ٹرین سے جھارکھنڈ کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ مزدوروں نے ایک ویڈیو کے ذریعہ سے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور ریاستی حکومت کے تئیں اظہارِ شکر کیا ہے۔ آزاد کرائے گئے سبھی مزدور چائباسہ کے رہنے والے ہیں۔

ان سبھی مزدوروں کو آئس جزیرہ میں ماہی پروری کے کام میں لگا دیا گیا تھا۔ مزدوروں کے مطابق ان سے رات میں بھی کام کرایا جاتا تھا۔ کام پر نہیں جانے پر ان کے ساتھ سلوک اور مار پیٹ کی جاتی تھی۔ کام کی جگہ پر پینے کا صاف پانی بھی نہیں ملتا تھا۔ سبھی کو گندہ پانی پی کر رہنا پڑتا تھا۔ کھانا بھی ٹھیک سے نہیں ملتا تھا۔ تنگ آ کر مزدوروں نے اس حالت میں کام نہیں کرنے اور واپس جھارکھنڈ لوٹنے کی بات کہی تو برا سلوک کرتے ہوئے انھیں یرغمال بنا لیا گیا۔ ان کی مزدوری بند کر دی گئی۔ یہاں تک کہ کھانا بھی بند کر دیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔