ہماچل پردیش میں برف باری سے 1200 سے زائد سڑکیں بند، سرد لہر کے ایلرٹ سے شعبۂ سیاحت میں افراتفری

ہماچل پردیش حکومت مختلف حصوں میں جاری برف باری کو فصلوں اور پانی کی ری چارجنگ کے لیے فائدہ مند مان رہی ہے۔ انتظامیہ نے سیاحوں سے ذمہ داری سے سفر کرنے اور موسم کی وارننگ پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p> برف باری فائل فوٹو/ تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ملک کے کئی حصوں میں اچانک موسم کی تبدیلی کے دوران پیر کو ہماچل پردیش میں شدید برف باری اور بارش کی وجہ سے 1,250 سے زیادہ سڑکیں بند ہوگئیں۔ اس وقت ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں سیاح برف باری دیکھنے شملہ پہنچے ہوئے ہیں لیکن اب انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ہماچل کی وادیوں میں سیاحت سے لطف اندوز ہونے گئے لوگ سڑک بند ہونے کی وجہ سے پھنس گئے ہیں۔ اس دوران محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کے وزیر وکرمادتیہ سنگھ نے سڑکوں کی بحالی کے لیے تقریباً 3,500 مشینیں اور جے سی بی تعینات کی ہیں۔ لاہول اور اسپیتی کے تابو گاؤں میں درجہ حرارت صفرسے 10.2 ڈگری سیلسیس نیچے درج کیا گیا۔

محکمہ موسمیات نے منگل کے لیے کلو، کِنور، چمبہ اور لاہول اسپیتی میں بھاری برف باری کا ’اورنج الرٹ‘ جاری کیا ہے۔ شملہ، سولن اور کانگڑا سمیت دیگر اضلاع کے لیے بجلی اور تیز ہواؤں کے ساتھ ’یلو الرٹ‘ کا اعلان کیا گیا ہے۔ سیاحوں کو شدید ٹریفک جام اور پانی کی قلت جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حالانکہ حکومت اس برف باری کو فصلوں اور پانی کی ری چارجنگ کے لیے فائدہ مند مان رہی ہے۔ انتظامیہ نے سیاحوں سے ذمہ داری سے سفر کرنے اور موسم کی وارننگ پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔


پی ڈبلیو ڈی وزیر وکرمادتیہ سنگھ کے مطابق حکومت سڑکوں کو کھولنے کے لیے اپنی تمام ترکوششیں کر رہی ہے۔ ریاست کے کئی حصوں میں سنو بلورز اور جے سی بی مشینیں تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماچل میں مجموعی طورپر 3500 مشینیں کام کر رہی ہیں اور ضرورت پڑنے پران کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ وزیر نے کاشتکاروں اور باغبانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ برف باری آنے والی فصلوں بالخصوص پہاڑی علاقوں کے باغات کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

سڑکوں کے بند ہونے اور شدید سردی کے باوجود سیاح جوق در جوق علاقے میں آرہے ہیں۔ اس موقع پر دہلی کے ایک سیاح دانیال نے بتایا کہ ٹریفک اور برف باری کی وجہ سے انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ برف باری کا مزہ لے رہے ہیں۔ وہیں طیبہ نامی سیاح نے بتایا کہ صبح پینے کا پانی اور چائے تک ملنا مشکل ہوگیا تھا۔ سڑکیں پھسلن بھری ہیں اور ٹریفک جام کے حالات سنگین ہیں جس سے سیاح کافی پریشان ہیں۔


ان حالات میں شملہ کے محکمہ موسمیات نے منگل کو بھاری برفباری کی پیش گوئی کی ہے۔ کلو، کنور، چمبہ اور لاہول اسپیتی کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے، جہاں بھاری برفباری اور بارش متوقع ہے۔ وہیں شملہ، سولن، کانگڑا، منڈی، سرمور، بلاس پور، ہمیر پور اور اونا کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہواؤں، آسمانی بجلی اور سرد لہر کا امکان ہے۔