’پنجاب نے ملک ہی نہیں دنیا کو راستہ دکھایا ہے‘، لدھیانہ میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ سے راہل گاندھی کا خطاب

راہل گاندھی نے کہا کہ ’’بی جے پی ملک میں خوف، نفرت اور تشدد پھیلا رہی ہے۔ ایک مذہب کو دوسرے مذہب سے، دوست کو دوست سے اور بھائی کو بھائی سے لڑا رہی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>لدھیانہ میں عوام سے خطاب کرتے راہل گاندھی</p></div>

لدھیانہ میں عوام سے خطاب کرتے راہل گاندھی

user

قومی آوازبیورو

راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ پنجاب کے شہر لدھیانہ میں پہنچ چکی ہے۔ پنجاب میں یاترا کے دوسرے دن شام کے وقت کی یاترا نہیں ہوئی۔ اب بھارت یاتری لوہڑی کے لیے 13 جنوری کو وقفہ کریں گے اور پھر 14 جنوری کو لوڈووال سے صبح 7 بجے یاترا ایک بار پھر شروع ہوگی۔ 16 جنوری کو یاترا کے لیے ’یومِ خواتین‘ مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی اس دن صرف خواتین ہی راہل گاندھی کے ساتھ یاترا کر سکیں گی۔

پنجاب میں بھارت جوڑو یاترا کو لے کر لوگوں میں زبردست جوش دیکھنے کو مل رہا ہے۔ صبح جہاں جہاں سے یاترا گزر رہی تھی، بڑی تعداد میں لوگ سڑک کی دونوں جانب صف بندی کے ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے تھے۔ آج یاترا کے دوران خاص طور سے پانچ گروپ راہل گاندھی کے ساتھ چلا۔ پہلے گروپ میں کامن ویلتھ گیمز کے میڈلسٹ پہلوان راہل گاندھی کے ساتھ چلے۔ انھوں نے راہل گاندھی سے مذاقیہ لہجے میں کہا کہ ’’لگتا ہے جیسے آپ کی باڈی اسٹیل کی ہے۔ ہم پہلوانی کرتے ہیں پھر بھی ہمیں ٹھنڈ لگتی ہے، لیکن آپ کو نہیں لگ رہی ہے۔‘‘


دوسرا گروپ تعلیم کے شعبہ میں کام کرنے والے راؤنڈ ٹیبل این جی او اراکین کا تھا۔ انھوں نے راہل گاندھی سے کہا کہ تعلیم نفرت کو پھیلنے سے روکنے اور تنوع کا احترام کرنے کے لیے سب سے بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کم عمر سے ہی اگر بچوں کو مختلف ثقافتوں سے مطلع کرایا جائے تو وہ ان کا احترام کریں گے۔ اس پر راہل گاندھی نے اتفاق کا اظہار کیا اور اس این جی او کے اراکین کو ان کے کام کے لیے مبارکباد پیش کی۔ تیسرا گروپ آر ٹی آئی کارکنان کا تھا جنھوں نے اس قانون کی اہمیت پر بات کی۔ انھوں نے کہا کہ آر ٹی آئی کے ذریعہ سے ان لوگوں نے پنجاب کی عآپ حکومت کے کئی غلط کاموں کو ظاہر کیا ہے۔ چوتھے گروپ میں ’ایک ذریعہ‘ این جی او کے اراکین تھے جو طبی شعبہ میں کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے راہل گاندھی کو بتایا کہ وہ ڈونر اور ضرورت مندوں کے لیے ایک اسٹیج مہیا کرتے ہیں۔ پانچواں گروپ اتراکھنڈ ہمالیہ کے ایشوز پر گہری نظر رکھنے والے مشہور دانشوران کا تھا جنھوں نے چلتے ہوئے کافی دیر تک راہل گاندھی سے بات چیت کی۔ ان لوگوں نے اہم طور سے جوشی مٹھ کا ایشو اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ نہ صرف وہاں مقیم لوگوں کی باز آبادکاری ہونی چاہیے بلکہ ان کے روزگار کا بھی انتظام کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انھوں نے راہل گاندھی کو بتایا کہ کس طرح ترقی کے نام پر پہاڑوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور ہماچل کے نباتاتی تنوع کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ بات چیت کے دوران حکومت اور سرمایہ داروں کے درمیان سانٹھ گانٹھ کا بھی ایشو اٹھا۔ راہل گاندھی نے ان کی باتیں سنجیدگی کے ساتھ سنیں۔

آج جب بھارت جوڑو یاترا لدھیانہ کے سمرالا چوک پر ختم ہوا تو وہاں ایک نکڑ جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا کہ ’’پنجابی لوگ مدد کرنے والے ہیں۔ یہاں کے گروؤں نے محبت کرنا سکھایا ہے۔ گرو نانک جی نے صرف ملک ہی نہیں دنیا کو راستہ دکھایا۔ یہاں تشدد، نفرت اور خوف کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بھائی چارے، محبت اور عزت کا ملک ہے۔ دہلی کی حکومت خوف پھیلاتی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’مجھے بتایا گیا ہے کہ لدھیانہ تو مانچسٹر جیسا ہے، لیکن یہ غلط بات ہے۔ ایسا کہنا چاہیے کہ مانچسٹر شہر لدھیانہ جیسا ہے۔‘‘ پھر انھوں نے پنجابیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’پنجاب نے ملک ہی نہیں دنیا کو راستہ دکھانے کا کام کیا ہے۔‘‘


اپنے خطاب میں مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ ’’بی جے پی ملک میں خوف، نفرت اور تشدد پھیلا رہی ہے۔ ایک مذہب کو دوسرے مذہب سے، دوست کو دوست سے اور بھائی کو بھائی سے لڑا رہی ہے۔ اس نفرت کے بیچ ہم نے محبت کی دکان کھولی ہے اور اس یاترا میں حصہ لینے والے لاکھوں کروڑوں لوگوں نے اس محبت کی دکان کو کھولا ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔