’دل پہ دنیا کی خدائی نہیں چلتی‘، دہلی سے آئی ایک اجنبی چٹھی کا جواب

تقسیم کے 73 سال گزرنے کےبعد بھی تقسیم کا درد کم نہیں ہورہا ہے اوریہ درد اس سیاح لکیر کے دونوں طرف بہت شدت سے محسوس ہوتا نظر آ تا ہے۔

تصویر بشکریہ لائف پکچر کلشن
تصویر بشکریہ لائف پکچر کلشن
user

رعنا صدیقی زماں

پیاری دشمن!!

سچ ہی کہتے ہو پیاری دشمن!!

دشمن بہت پیارے ہوتے ہیں۔ اور ہم انھیں دشمن کہتے ہی اس لیے ہیں کہ انھیں بھولنا نہیں چاہتے۔

تو میرے پیارے دشمن، میرا سلام قبول کرو...

سچ کہتے ہو۔ آج 14 اگست ہے اور ہم جشن منا رہے ہیں۔ رات سے ہی جشن شروع ہو چکا تھا۔ اور اب، جب یہ چٹھی پڑھ رہی ہوں تو شام ہونے کو ہے۔ چند گھنٹوں کے بعد تمھارے ہاں جشنِ آزادی شروع ہو جائے گا۔

دیکھو، ایک رات کی بات ہے۔ جشن ہی تھا۔ اکٹھا بھی تو ہو سکتا تھا۔

آج میرے سفر کا دن تھا۔ اور میں بارڈر پر موجود رہی۔ صبح توپوں کی سلامی بھی ہوئی۔ اور دیکھو، سلامی، سلامتی کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر بارود کی بو نے اس گھرانے کی پہچان بدل دی ہے۔ یہ سوچتے ہوئے وہاں سے ہم زندگی کی طرح آگے بڑھے۔ تم سچ کہتے ہو، جشن ہوگا۔ یہ وہ جشن کا دن ہے جس دن ہم نے اپنے دادا جی اور ابا جی کی آنکھوں کو ہمیشہ نم دیکھا۔ اور ان دنوں اس نمی کے اضطراب میں کبھی گھر کے کسی کونے میں، تو کبھی کسی برآمدے میں اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کرتے تھے کہ کوئی دیکھ نہ لے۔ لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ عشق اور مشق چھپائے نہیں چھپتے، اور دادی جی کو ہمیشہ یہ کہہ کر نم آلود آنکھوں سے دیکھا کہ "بارہ بچوں میں بس یہ ایک ہی کالا پیدا ہوا اور اس کا نصیب بھی اس دیئے کی کالی سیاہی جیسا نکلے جس کی روشنی میں اس کا جنم ہوا تھا۔" اور وہ اپنے سفید دوپٹے سے اپنی آنکھیں پونچھ لیتیں، اور ان کے گال لال ہو جاتے۔

اگرچہ تقسیم سے قبل ہی اعلیٰ سرکاری افسر جو ہجرت کرنا چاہتے تھے ان میں سے چند کے تبادلے ہو چکے تھے اور دادا کا بھی تبادلہ بہاول نگر میں ہو چکا تھا، لیکن تقسیم کا سرخ رنگ دونوں جانب یکساں بکھرا تھا۔

خیر چھوڑیئے، وہاں سے ہم سیدھا کرتار پور چلے گئے۔ راستے میں شاہی مسجد کے باہر اقبال کا مزار ہے۔ امید کرتی ہوں کہ تم ان کو بھی دشمن جاں کہہ کر بھولنے کی ناممکن کوشش کرتے ہوں گے۔ مزار کے سامنے شاہی قلعہ بھی ہے۔ وہاں سے نکل کر ہم نے وہی راہ لی، جہاں سنا ہے محبت کی کوئی یادگار بنی ہے۔ ہم نے سوچا ہوا تھا کہ حالات وبا سے جان چھوٹتے ہی اس یادگار کے رنگ دیکھ کر آئیں گے کہ وہاں کن رنگوں نے ان میں رنگ بھرا ہے۔ سنا تو ہے کہ سب رنگ مل کر بہت روئے ہیں۔

بات کہاں تھی، نکل کہاں گئی۔ خیر، ہم وہاں پہنچے تو ایک بہت بڑے حسین دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی زمان و مکاں نے ایسا رنگ بدلا کہ اجنبی، تم کو کیا بتاؤں! سنہری اور سفید رنگ کا ہر سو راج ہے۔ ہریالی نہ جانے کیوں اتراتی پھرتی ہے۔ شاید خود میں نازاں ہے کہ میں کالی لکیر سے آزاد ہوں یا شاید ہم لکیروں کے فقیروں پہ ہنستی ہے۔

اور پھر جوں جوں میں آگے بڑھتی گئی، نئی سوچیں، نئے خیال مجھے گھیر رہے تھے کہ اچانک میرے قدموں میں ایک لفافہ ہوا کے کسی جھونکے کے ساتھ ٹھہر سا گیا۔ میں نے سوچا کہ شاید دوسرے جھونکے سے کسی اور کے پاس چلا جائے گا، مگر میں نے اسے اٹھا لیا۔ یہ سوچ کر کہ شاید میرے لیے ہی آیا ہو۔ چونکہ زمان و مکاں بدلا تھا۔ سوچ بھی ہوا کی طرح ہو گئی تھی۔

میں نے اسے اپنے بٹوے میں ڈال لیا کہ راستے میں دیکھوں کہ اس میں کیا راز چھپا بیٹھا ہے؟

آج یہاں موسم بہت اچھا ہے۔ بارش ہوئی ہے اور ہوا کی خنکی چاروں جانب ناچتی پھر رہی ہے۔ جیسے مور جنگل میں رقص کرتا ہے۔ یہ وصل کا موسم ہوتا ہے۔

اے اجنبی، واپسی ہے اور ہم خان پور نہر کے ایک ڈھابے پہ ٹھہرے۔ یہاں کی مچھلی اور نان پکوڑے بہت مشہور ہیں۔ یہاں بڑی بڑی لوہے کی کڑاہوں کے نیچے لگا الاؤ بھی یہاں کی خنکی کو متاثر نہیں کر سکتا۔ نہر کنارے سادہ سی دیسی کرسیاں اور میزیں ہیں اور ہم جب بھی جاتے ہیں، نہر کے بالکل ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہیں اور پانی سے دل کی باتیں کر لیتے ہیں۔ نہر کا تو رومان مت پوچھو۔ ہم جیسے حساس دل والوں کے لیے تو دشمن جاں ہی ہے۔ ہم نہر کے جنگلے کے پاس کھڑے اس سے باتیں کر رہے تھے کہ پانی کی کسی لہر نے یاد دلایا کہ تمھارے پاس ایک چٹھی ہے۔ ہم نے جھٹ سے اپنے بٹوے سے چٹھی نکالی اور پڑھنے لگے۔

ارے، یہ تو لاہور کی کسی دوشیزہ کے نام ہے!

چٹھی دہلی سے وہ خوشبو لا رہی تھی جو میرے دادا-دادی سے آتی تھی۔ 'چار آرام باغ' میرے پردادا کا گھر تھا جو انھوں نے اپنی آخری سرکاری پوسٹنگ کے بعد بنایا تھا۔ نہیں معلوم کہ اب وہاں کون رہتا ہے۔ وہ تو تقسیم کی خبر سے ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔

اے اجنبی، تم نے چٹھی میں جدائی کا کون سا رنگ بھر دیا ہے؟ لگتا ہے جیسے یہ چٹھی پچھلے کئی برسوں سے ہر سال کوئی لکھتا رہا ہے اور کالی لکیر کے پار نہیں آ رہی۔ یوں لگتا ہے جیسے 'چار آرام باغ' کی کسی شاہراہ پہ ہم متضاد سڑکوں پہ کسی جنم میں گزرے اور ایک دوجے کو دیکھ کر آگے بڑھ گئے تھے۔ اور اتنا آگے بڑھ گئے تھے کہ واپسی ممکن ہی نہ رہی۔

مجھے چارلس ڈکنز کی ناول 'ٹیل آف ٹو سیٹیز' نہ جانے کیوں یاد آ گئی۔

تم نے جس کاغذ کی بات کی ہے، جس دستاویز پر آنسو بہائے ہیں، یہاں تاریخ ہمیشہ بے بس رہی ہے۔ دنیا کی ہر ترقی اور ہر فلسفہ ان دستاویز کو نوکِ بندوق پہ ہار جاتا ہے، کہ دل پہ دنیا کی خدائی نہیں چلتی۔ ہمیشہ یہ کاغذ اور ان پر کیے گئے دستخط نقشوں پہ لکیروں کو بڑھا دیتے ہیں۔ مگر یاد رکھنا، نقشے میں جتنی لکیریں بڑھیں گی، دلوں سے اتنی مٹتی جائیں گی۔ یہی دستور فطرت ہے۔

یہ جو شہِ رگ ہوتا ہے نہ، یہ اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ یہ طاقت مانگنے لگتا ہے۔ اسی کی تو سجدے سے رام کرنا پڑتا ہے۔ مگر تاریخ یہاں ساون سے بھادوں میں بدل جاتی ہے۔

تم ظرف کی بات کرتے ہو۔ مان لیتی ہوں اجنبی! مگر میں نے جس طرح سے تاریخ کے گرد آلود کی ورق گردانی کی ہے، میں اس لفظ کے معنی اپنی لغت میں بدل چکی ہوں۔ اے اجنبی، ایک لغت حالات و واقعات کی بھی ہوتی ہے۔ ہم اس کے معنی نہ تو لکھتے ہیں، نہ ہی دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔

دیکھو اجنبی، مجھے دل کے قطب مینار نے ہمیشہ اپنی جانب کھینچے رکھا ہے۔ اور مجھے دشمن جاں کےلفظ نے ہمیشہ سرگوشی کی ہے کہ محبت کی راہوں کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔ مگر کیا کروں اجنبی، میں ایک خواب وصل تو بن سکتی ہوں، سو کب سے بن رکھا ہے۔ مجھے بچپن سے 'چار آرام باغ' کے برآمدے میں رکھی کرسیاں کہتی ہیں، کہاں ہو؟ مگر مجھے انھیں یہ بتاتے ہوئے اب حیا آتی ہے کہ 74 برس گزر چکے ہیں۔

یوں لگتا ہے جیسے یہ چٹھی میرے لیے ہی لکھی گئی تھی۔ اس لیے جواب دے رہی ہوں۔

اے اجنبی، مجھے یوں بھی لگتا ہے کہ جیسے میں کسی ایسی چٹھی کی منتظر تھی۔ مگر مجھے یہ پتہ تھا کہ مجھے اس مادہ پرست دور اور مادہ پرست دنیا میں محبت کی چٹھی کون لکھے گا؟ اس لیے اس دل کو میں نے کہا کہ محبت والی لغت کو بھی بدلنے کی کوشش کر۔ کم از کم متروک لفظ کے ہی کھاتے میں ڈال دے۔ مگر دل بھی ابھی تلک مانا نہیں، کہ یہ متروک کو بھی حصہ جاں تصور کرتا ہے۔ نادان جو ٹھہرا۔

اے اجنبی، اے دشمنِ جاں،

یہ چٹھی ہوا سے محبت کے قدموں میں آ ٹھہری تھی۔ جن نہروں میں یہ پیر رکھ کر محبت کے خیالوں کے پھول اگاتی ہے، وہی اب بادل بن کر آسمانوں کی طرف جاتے ہیں۔ تو ہواؤں کے سنگ یہ بادل ہر اس جا برستے ہیں جہاں محبت پیاس بنی بیٹھی ہوتی ہے۔ کاغذوں اور ان پہ دستخط کرنے والوں کے دل نہیں ہوتے۔ مگر فطرت ایک حساس اور کشادہ دل رکھتی ہے۔

بس ہمیں ہی علم نہیں ہوتا کہ آنکھ اٹھا کر بادلوں میں پرورش کا دیدار کر لیں۔ جو بادلوں کے سنگ کسی آوارہ روح کی مانند اڑے پھرتی ہے۔

اجنبی دیکھو، ساون آخری سانسیں لے رہا ہے۔ جس روز آسمان پہ قوسِ قزح مسکرائی، سمجھ لینا پری پوش ان بودنوں کے سنگ آئی تھی۔ جن زلفوں کی تم نے بات کی ہے، ان پہ مجھے جاں نثار اختر کا شعر یاد آیا-

مہکی مہکی تیری زلفوں کی گھٹا چھائی ہے

تو مجھے کون سی منزل پہ لے آئی ہے

زندگی دور بہت شورش آلام سے ہے

آج کی رات منسوب تیرے نام سے ہے

اجنبی مجھے تمھارے نام کا علم نہیں، نہ ہی پوچھوں گی، مگر مجھے 'محبت' کہتے ہیں۔

(15 اگست 2020، لاہور)

next