کب ہم محبت کی نظم لکھیں گے؟... شعیب شاہد

ملک کا بٹوارا ہوئے 70 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں اور آج بھی ایک بڑا طبقہ یہ امید لگائے ہوئے ہے کہ کوئی تو راستہ نکلے گا، کہیں سے تو امید کی کرن پھوٹے گی جب ہم محبت کی نطم لکھ سکیں گے۔

تصویر بذریعہ Getty Images
تصویر بذریعہ Getty Images
user

شعیب شاہد

اگست 1947 میں جب ہندوستان کا بٹوارا ہوا تھا اور ایک نیا ملک پاکستان وجود میں آیا تھا تو کئی دل ٹوٹ گئے تھے۔ اس دل پر لگے ہوئے زخم آج بھی تازہ ہیں اور یہ امید لگائے ہوئے ہیں کہ کب ماحول سازگار ہو اور کوئی ایسا راستہ نکلے کہ دونوں ملک کے عوام کھل کر ایک دوسرے سے مل سکیں۔ درج ذیل ‘افسانوی خط’ اسی پس منظر کو بیان کرتا ہے جس میں دلی جذبات کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔ خصوصاً اس خط میں پاکستان واقع کرتار پور جانے کا راستہ ہندوستانیوں کے لیے کھولے جانے پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور لکھا جاتا ہے کہ “مجھے تو یہ راستہ اصل میں محبت کا راستہ لگتا ہے۔” آئیے، اس خط کو پڑھیے اور بٹوارے کے درد کو محسوس کیجیے۔

پیاری دشمن (لاہور کی اُس دوشیزا کے نام ایک خط)

--

پیاری دشمن،

برسوں ہوئے تمھیں بچھڑے ہوئے۔ اتنے برسوں میں کبھی خط نہ لکھ سکا۔ کیا لکھتا؟ قلم کو جب بھی سیاہی میں ڈبوتا ہوں، تو اس کو لہو میں ڈوبا ہوا ہی پاتا ہوں۔ آج ہمت کر کے لکھ رہا ہوں۔ یا شاید لکھنے کو مجبور ہو گیا ہوں۔

حال احوال کا ذکر تو کیا کرنا، واقف حال تم بھی ہو اور میں بھی۔

آج تمھاری بستی میں بھی شامیانے لگے ہوں گے۔ جشن من رہا ہوگا۔ لوگ آزادی اور خوشیوں کے ترانے گنگناتے ہوں گے۔ جام و سبو کی محفلیں ہوں گی۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تمھارے سوا کون ہے جو رونق محفل کہلائے۔

لیکن تم کس طرح جان سکتی ہو کہ لکیروں کے ادھر دور ایک شہر میں دھڑکتا ایک جواں دل اب بھی تمھاری بات کرتا ہے۔ تمھیں یاد کرتا ہے۔ جس کی نگاہ ان لکیروں تک آ کر لوٹ جاتی ہے۔ مومن نے کہا تھا،

"میں وہی ہوں مومن مبتلا، تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو"

---

اے دشمن جاناناں ممکن ہے تم نے وہ کاغذ نہ دیکھا ہو، جس پر لکھی جاتی ہے قسمتیں۔ میری اور تمھاری۔ فراز نے لکھا تھا، "اپنے بندوں سے تو پندار خدائی لے لے" آج سوچتا ہوں کہ شاید اسی کاغذ کو 'پندار خدائی' لکھا تھا۔ کچھ خدائی کے دعویداروں کو دیکھتا ہوں کہ وہ کاغذ پر کچھ دفعات لکھتے ہیں اور دو قوموں کی قسمت کا فیصلہ ہوتا ہے۔

یہ سب کاغذوں والے مغرور لوگ ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ ان کاغذوں پر وہی سب کچھ لکھا ہے کہ جس سے ان کی حاکمیت بنی رہے۔ اور تاریخ ان کے ظالمانہ طرز عمل کو ایک عظیم اور متفخر واقعے کی طرح یاد رکھے۔

---

لیکن میں اب ان کاغذوں پر حیران نہیں ہوتا۔ میں نے لہو میں ڈوبے اس کاغذ کو بھی دیکھا ہے جس کے بیچ میں کھینچ دی گئی تھی ایک کالی لکیر۔ جیسے خنجر سے چیر دیا گیا ہو کلیجہ۔ اور ایک کاغذ پر بسنے والے لوگ اب دو الگ قومیں تھیں۔ کاغذ کے اس ٹکڑے پر میرے اپنے بلکتے رہے۔ لیکن مجھے تو فقط حکم ترک تعلق تھا، کہ اب کاغذ کے اُس ٹکڑے سے عداوت ہی میری وفاؤں کا معیار ہے۔ کسے پرواہ ہے کہ میں ایک حساس دل رکھتا ہوں جس کو کاغذوں کی ان حدود میں باندھنا ممکن نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اس کالی لکیر کے اس طرف کچھ بھی دیکھ پانا ممکن نہیں۔ لیکن خیالوں پر کس کا زور ہے؟ یہ کب کسی کے باندھے بندھتے ہیں؟ ان کو تو نکل جانا ہے ان آزاد ہواؤں کے ساتھ۔ یا ان آوارہ بادلوں کے ساتھ! اور برس جانا ہے اس پار کی چھتوں پر۔ ممکن ہے کسی روز تم اس ابر میں میرے آنسوؤں کو محسوس کرو۔ تم دیکھنا ایک دن یہی ابر اس کاغذ پر برسے گا، اور ساری سیاہی بہہ جائے گی! زندگی پھر کورے کاغذ کی طرح شروع ہوگی۔ اور تب ہم اس پر محبت کی ایک نظم لکھیں گے۔

---

سنا ہے سرحد پر کوئی نیا راستہ کھلا ہے، جو اس پار کے چاہنے والوں کو کرتار پور میں ان کے شوالے تک لے جاتا ہے۔ یقین نہیں آتا کہ کوئی ایسی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ وہ خطہ زمین تمھارے ملک میں ہی رہے اور میرے لوگ وہاں جا سکیں۔ مجھے تو یہ راستہ اصل میں محبت کا راستہ لگتا ہے۔ جسے ایک حد مدت کے بعد کوئی سرحد نہیں روک سکتی۔ جب کہ یہ راستہ جا ملتا ہو محبوب کے گھر سے۔

سنا ہے سرحدوں پر تشدد ہے، عداوتیں ہیں، تنی ہوئی بندوقیں ہیں، اور وہ کالی لکیر ہے کہ جس کے پیچھے میرا ماضی ہے۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ آج تمھارے ملک والوں کی اعلیٰ ظرفی کے سبب محبت کی ایک راہ جا نکلی ہے جس کا تعلق کچھ مذہبی عقائد سے ہوتا ہوا اسی مقام دلربائی سے جا ملتا ہے کہ جس کا اسیر میں بھی ہوں اور تم بھی۔

اگر عداوتوں میں محبت کے کچھ راستے نکل سکتے ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ کاش ایک راستہ ایسا بھی نکل آئے جو شہر یاراں کے اس حریم ناز تک جاتا ہو، کہ جس کی چلمن سے لگیں تو بارش کی پہلی بوندوں کو چھوتی ہو۔ اور وہی بادل جب بچا ہوا ابر میرے شہر میں برساتیں ہیں تو میں ان بادلوں میں تمھارا پری رو چہرہ بناتا ہوں۔

تمھاری زلفوں کا گرہ گیر، تمھارا اسیر

شعیب شاہد

Published: 14 Aug 2020, 6:40 PM
next