حسین الحق کی موت نے شمس الرحمن فاروقی کی موت سے ملے زخم کو تازہ کر دیا... جمال عباس فہمی

حسین الحق کی خصوصیت ان کی تحریروں میں تصوف کی چھاپ اور کربلائیت کا غالب عنصر ہے۔ ان کے بیشتر افسانوں اور ناولوں میں واقعات کربلا کی جھلک، کربلائی استعارے، کنایہ اور تلمیحات جا بجا نظر آتے ہیں۔

حسین الحق
حسین الحق
user

جمال عباس فہمی

23 دسمبر2021 نے 25 دسمبر 2020 کا زخم تازہ کر دیا۔ 23 دسمبر 2021 کو اردو فکشن نگاری کو شاہکار بنانے والا حسین الحق دنیائے ادب کو داغ مفارقت دے گیا۔ اور 25 دسمبر 2020 کو اردو ادب کی آبرو شمس الرحمٰن فاروقی کی وفات ہوئی تھی۔ حسین الحق کی نا وقت موت نے شمس الرحمن فاروقی کی موت سے ملے زخم کو پھر سے تازہ کر دیا۔ یہ دونوں سانحے جدید اردو ادب کو سخت صدمہ پہنچانے والے واقع ہوئے۔ دسمبر 2020 اور دسمبر 2021 کے درمیان اردو ادبی دنیا کئی قدآور قلمکاروں سے محروم ہوئی۔ مشرف عالم ذوقی، ان کی اہلیہ تبسم فاطمہ، بیگ احساس، شوکت حیات، علی جاوید، انجم عثمانی، ترنم ریاض، ناقد، مصنف اور شاعر شمیم حنفی جیسی قیمتی ہستیوں سے اردو ادب کا دامن خالی ہو گیا۔ 2021 کا دسمبر جاتے جاتے حسین الحق کے تخلیقی وجود سے محروم کرگیا۔

حسین الحق کو چند ماہ قبل ہی ساہتیہ اکادمی نے باوقار ایوارڈ سے نوازہ تھا۔ حسین الحق کا نام بر صغیر ہند و پاک میں فکشن نگاری کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل تھا۔ انہوں نے فکشن نگاری کو نئے زاویوں اور جہتوں سے نوازہ۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب فکشن نگاری نئے نئے تجربات سے گزر رہی تھی، حسین الحق نے اپنے لئے بالکل نئی راہیں متعین کیں۔ انہوں نے اردو ادب میں سنگ میل کی حیثیت کے حامل تین ناول تحریر کئے۔ انہوں نے اپنے قلمی سرمایہ میں ڈیڑھ سو سے زائد افسانے چھوڑے۔ حسین الحق اپنی تحریر کے آئینے میں ایک صوفی منش فرد، ایک فلسفی، ایک مفکر، ایک ماہر تعلیم، ماہر تاریخ، ماہر نفسیات، ایک مصلح قوم و ملت، ایک شاعر اور سب سے بڑھ کر محمد و آل محمد کے ایک سچے عاشق کے طور پر ابھرے ہیں۔ انہی حوالوں سے وہ اپنے عہد کے دیگر قلمکاروں میں منفرد اور ممتاز نظر آتے ہیں۔


حسین الحق کی قلمی کارگزاریوں پر گفتگو کرنے سے پہلے آئیے ان کے خاندانی پس منظر، پرورش و پرداخت اور علمی لیاقت کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ حسین الحق 2 نومبر 1949 کو سہسرام میں پیدا ہوئے، حسین الحق کا تعلق شیر شاہ کے شہر سہسرام کے عظیم صوفی خاندانِ مشائخ سے ہے۔ ان کے والد مولانا انوارالحق شہودی نازش سہسرامی ایک مشہور عالم دین، خطیب، شاعر اور ادیب تھے۔ ان کی والدہ شوکت آرا کا تعلق سہسرام کے ہی ایک علمی اور مذہبی گھرانے سے تھا۔

خانوادے کی روایات کے مطابق حسین الحق کی تعلیم و تربیت کی ابتدا اپنے والد کے زیر سایہ دینی تعلیم سے ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے مدرسہ کبیریہ سے مولوی کا امتحان پاس کیا۔ ضلع اسکول آرا سے 1963 میں میٹرک کیا۔ 1968 میں بی اے کیا وہ یونیورسٹی میں اوّل آئے۔ پٹنہ یونیورسٹی سے 1970 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1972 میں فارسی میں ایم اے کیا، گرو گوبند سنگھ کالج، پٹنہ میں عارضی طور پر بحیثیت لیکچرار ملازمت بھی کی۔ ریسرچ فیلو کی حیثیت سے پٹنہ یونیورسٹی میں تحقیقی و تدریسی کاموں میں شامل رہے۔ 1977 میں سیّد محمد اسرارالحق کی دختر نشاط آرا خاتون سے ان کی شادی ہوئی۔ 1981 میں شعبہ اردو پوسٹ گریجویٹ مگدھ یونیورسٹی بودھ گیا میں ان کا تبادلہ ہو گیا۔ مگدھ یونیورسٹی بودھ گیا سے ہی صدرشعبہ کی حیثیت سے 2013 میں خدمات سے سبکدوش ہوئے۔


قلم اور قرطاس سے حسین الحق کا جو رشتہ نو دس برس کی عمر سے جڑا تو وہ آخر عمر تک برقرار رہا۔ انہوں نے اپنی پہلی کہانی 'عزت کا انتقال' صوفی بلیاوی کے فرضی نام سے تحریر کی تھی جو لکھنؤ سے شائع ہونے والے ماہنامہ 'کلیاں' میں 1964-1965میں شائع ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک زمانے میں بچوں کا ایک رسالہ 'انوار صبح' کے عنوان سے سہسرام سے نکالا تھا۔ اس دوران ان کی تحریروں کی اشاعت کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔' اردو شاعری پر گاندھی جی کے اثرات' کے عنوان سے ان کا ایک مضمون پٹنہ سے شائع ہونے والے 'خبریں' میں شائع ہوا جس نے ادبی حلقوں کو ان کی جانب متوجہ کیا۔ ان کی تحریروں پر معروف افسانہ نگار، محقق اور ناقد کلام حیدری کی رائے یہ ہے''حسین الحق کے پاس روایات کا خزانہ ہے اور وہ انہیں عہدجدید کے لئے Relevant بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مذہب ان کی تربیت کا پسِ منظر ہے'۔ کلام حیدری کہتے ہیں کہ حسین الحق کے یہاں حق و باطل کی کشمکش ایک خاص موضوع ہے، لیکن یہ کشمکش تو ازلی ہے لیکن حسین الحق اسے حالاتِ حاضرہ پر منطبق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، چنانچہ کوئی بھی تاریخی واقعہ نئے منظرنامے کا جزو بن جاتا ہے اس لیے کہ یہ کشمکش لافانی ہے۔“

حسین الحق نے صرف تین ناول تحریر کئے لیکن وہ تمام کے تمام ادبی شاہکار قرار پائے۔ 'بولو مت چپ رہو' 1990 میں 'فرات' 1992 میں اور 'اماوس میں خواب' 2017 میں شائع ہوا۔ 'اماوس میں خواب' ایک ایسا شاہکار ناول ہے کہ ساہتیہ اکادمی نے اسے ایوارڈ کا مستحق سمجھا۔ حسین الحق کے افسانوی مجموعوں میں 'پس پردہ شب' 'صورتِ حال' 'بارش میں گھرا مکان ' 'گھنے جنگلوں میں' 'مطلع' 'سوئی کی نوک پر رْکا لمحہ اور 'نیو کی اینٹ' کو باذوق قارئین نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔


حسین الحق کی خصوصیت ان کی تحریروں میں تصوف کی چھاپ اور کربلائیت کا غالب عنصر ہے۔ ان کے بیشتر افسانوں اور ناولوں میں واقعات کربلا کی جھلک، کربلائی استعارے، کنایہ اور تلمیحات جا بجا نظر آتے ہیں۔ محمد و آل محمد اور بالخصوص مولا علی سے اپنی بے پناہ عقیدت کا ثبوت انہوں نے اپنے ناول 'فرات' کو خوشبوئے بوتراب کے نام نذر کرکے دیا۔ انہوں نے لکھا کہ یہ ناول خوشبوئے بوتراب کے نام جو میری روح میں رچی بسی ہوئی ہے۔ اس کےساتھ ہی انہوں نے اپنا شعر بھی تحریر کیا

بوترابی کو تراب رہ جاناں ہونا

خاک اوقات ہے اوقات بچا کر رکھنا

اسی ناول کی ابتدا میں انہوں نے یہ شعر بھی لکھا

دونوں کو پیاسا مار رہا ہے کوئی یزید

یہ زندگی فرات ہے اور میں حسین ہوں

اسی ناول فرات میں ایک جگہ لکھتے ہیں۔ 'اماں نے نادعلی پڑھ کر دم کیا اور وہ ابا کے ساتھ جلسہ گاہ کی طرف چل پڑے۔' ناد علی وہ دعا ہے جو رسول اللہ نے ایک جنگ کے موقع پر پڑھی تھی۔ مولا علی کے عقیدت مند جب مشکل میں گرفتار ہوتے ہیں تو ناد علی کا ورد کرتے ہیں۔ حسین الحق نے اپنے ناول 'بولو مت چپ رہو' کی ابتدا مولا علی کے اس مشہور قول سے کی کہ 'میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے شکستہ ہونے سے پہچانا۔' ان کی تحریروں میں کربلا، تعزیہ، محرم، محرم کے جلوس، نذر و نیاز اور عرس کا جا بجا ذکر مختلف کرداروں کی زبانی پڑھنے کوملتا ہے۔ مثال کے طور پر افسانہ 'بہ امید آں کے روزے' میں محرم کے جلوس کا ذکر یوں ملتا ہے۔ ''محلے کے خلیفہ طاہر نعرہ حیدری بلند کرتے ہوئے تعزیے بلموں، چھریوں اور نیزوں کے سائے میں گشت کے لئے روانہ ہوتے ہیں اور ہوا کے دوش پر نعرے گونجتے ہیں۔ حسین حسین امام حسین''


افسانہ 'کربلا' میں ایک کردار کی زبانی' میں آہستہ سے نظریں اٹھا کر دیکھتا ہوں میرا شہر شہر شام شام غریباں کی تمثیل ہے۔ 'مقبول افسانے' ربّا ربّا' میں ایک کردار کی زبانی یہ جملہ ''اور پھر یوں ہوا کہ میں دریچے کے شگاف سے جھان کا ایک شخص سر سے پیرتک لہو لہان زخموں سے چور چور اکہتر پیاروں کو اپنے سامنے قتل ہوتا دیکھنے والا دشمنوں میں گھرا ہوا گھٹنوں کے بل اپنے خیمے کی طرف بڑھ رہا ہے اور دشمنوں کے نیزے بار بار اس کا راستہ روک رہے ہیں اور وہ ہر بار مقابلہ کر رہا ہے، دشمنوں کی یلغار شدید اور اس کی پیش قدمی جاری۔'

ناول 'اماوس میں خواب' ان کا شاہکار ناول ہے اس ناول کی بدولت انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا ہے۔ اس میں بھی کربلائی استعاروں کے وسیلے سے خیالات کی ترسیل نظر آتی ہے۔ ''ہزاروں میل کی دوری سے ایک نحیف سی بہت مدھم مگر چھٹپٹاتی آواز کا گمان ہوا، کان لگایا العطش العطش کی آواز آرہی تھی۔ پھر ایک زوردار قہقہ ہا ہا ہا میں زندہ ہوں''

’وہ جو العطش العطش پکار رہا تھا وہ کون تھا مرنے والا یا بچنے والا کیا کوئی مر کر بھی زندہ رہتا ہے۔ خیال کی ایک لہر دوسری لہر کو کاٹتی رہی‘۔

''دشمنوں میں گھرے شخص کی روانگی کی رات ناقہ پر لاش رکھ کر گمنام سمتوں میں روانہ کرنے والی رات شمعیں بجھا دینے والی رات مقتل کو تنہا کر دینے والی رات'' اس ایک جملے میں کئی تلمیحات موجود ہیں۔ جن کی حقیقت بڑی دردناک ہے۔ حسین الحق جا بجا کربلا کے پس منظر میں اپنے کرداروں کو استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ کربلائیت ان کے تحت الشعور میں بسی ہوئی ہے۔


حسین الحق اپنے افسانوں اور ناولوں میں موجودہ حالات کو اسلامی تاریخی واقعات پر منطبق کرکے قاری کو ماضی میں حال تک پہنچانے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں۔ حسین الحق کا مسائل تصوف اور روحانیت پر کتنا گہرا مطالعہ تھا ان کے ناول 'فرات' کے ایک اقتباس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، 'وجود کے مختلف مظاہر کا مسئلہ۔ کائنات اور اشیا و مظاہر کے حدوث و فنا کی بحث ذات باری وحدت الوجود ہے اور صفات باری ممکن الوجود تو ممکن واجب کا عین یا ظل۔ یہاں سے بات وحدت الوجود اور وحدت الشہود کی طرف مڑتی اور پھر جبر و قدر فنا و بقا خیر و شر دنیا جہان کے مسائل زیر بحث آتے۔''

اسی ناول میں ایک جگہ لکھتے ہیں ''یہ کائنات جسے تم دنیا قرار دے رہے ہو در اصل زمان و مکان نام کے دو عناصر پر مبنی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مکان و زمان پر محیط ہے مگر غور کروگے تو ملے گا کہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔'' حسین الحق کے اندر تصوف اور روحانیت کی گہری سمجھ صوفیا اور اولیا کے خانوادے کے ماحول کا اثر ہی تھا۔


انھوں نے تصوّف اور روحانیت کے موضوع پر بھی خیالات سپرد قلم کئے۔ آثار حضرت وحید تصنیف حضرت سرور اورنگ آبادی، غیاث الطالبین تصنیف حضرت مولانا غیاث الدین اصدقی، فوز و فلاح کی گمشدہ کڑی تصنیف مولانا انوار الحق شہودی، شرفِ آدم کا نقطہ عروج تصنیف مولانا انوار الحق شہودی کی، انہوں نے ازسر نو تالیف و تدوین کی۔ برگزیدہ دینی و روحانی شخصیت حضرت وصی کی سوانح اور عظیم مجاہد بزرگ قاضی علی حق کا تذکرہ ”آثار بغاوت“ اسی سلسلے کی نگارشات ہیں۔ حسین الحق نے اپنے والد مولانا انوار الحق شہودی سہسرامی کے دو شعری مجموعے مرتب کرکے شائع کئے۔ انھوں نے سہسرام میں باقاعدہ اشاعتی ادارہ ”آمڈاری ہاوس“ قائم کیا، جہاں سے اپنی، اپنے والد اور دیگر شعرا اور ادیبوں کی تصانیف شائع کیں۔

ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کے علاوہ بھی ان کی قلمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اعزات سے نوازہ گیا۔ افسانوی مجموعہ ’مطلع‘ کو بہار اردو اکیڈمی نے پہلے انعام اور ناول ”فْرات“ کو دوسرے انعام سے نوازا۔ ان کےافسانوی مجموعات ’پس پردہ شب‘ اور ’صورتِ حال‘ کو بھی انعامات کا مستحق سمجھا گیا۔ مغربی بنگال اردو اکاڈمی ان کو مغربی بنگال اردو اکادمی ایوارڈ سے بھی نواز چکی ہے۔ حسین الحق کی تحریروں کو سمجھنے کے لئے پڑھنے والے کا اسلامی تاریخ، تصوف اور روحانیت کا شد بد رکھنا ضروری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔