آہ! برصغیر کے معروف فکشن نگار پروفیسر حسین الحق کا انتقال

ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ معروف فکشن نگار پروفیسر حسین الحق کا بروز جمعرات پٹنہ کے میدانتا اسپتال میں صبح تقریباً 9 بجے انتقال ہو گیا، بعد نماز جمعہ آبائی شہر سہسرام میں تجہیز و تکفین عمل میں آئے گی۔

 پروفیسر حسین الحق، تصویر بشکریہ ریختہ
پروفیسر حسین الحق، تصویر بشکریہ ریختہ
user

قومی آوازبیورو

شگفتہ دلدار

ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ برصغیر کے معروف فکشن نگار پروفیسر حسین الحق نے بھی اس دنیائے فانی کو الوداع کہہ دیا۔ جمعرات کی صبح یہ اندوہناک خبر ملی کہ پٹنہ کے میدانتا اسپتال میں انھوں نے آخری سانس لی۔ پروفیسر حسین الحق افسانہ نگاری کے تیسرے دور سے لکھ رہے ہبں۔ یہ وہ دور تھا جب افسانہ نگاری میں نئے نئے تجربے ہو رہے تھے علامت نگاری کا بول بالا تھا، شعور کی روکی تکنیک کے ساتھ کہانیاں لکھنا ایک فیشن بن چکا تھا یہی وجہ ہے کہ انھوں نے بھی اس رجحان اور اس رویے کو اپنایا، لیکن اس ڈھنگ سے اپنایا کہ دیکھتے ہی دیکھتے جدید افسانوں کی دنیا میں ان کا نام اہمیت کا حامل بن گیا۔ انہیں اردو افسانوں میں اظہار کی تیز ترین دھار، نئے نئے الفاظ کے انتخاب اور جملوں کی تخلیقی سطح کی وجہ سے اپنے ہم عصروں میں سبقت حاصل ہے اور معاصر فکشن نگاروں میں جن لوگوں نے نوجوان قلمکاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا ان میں حسین الحق صاحب کا نام ناگزیر ہے۔

حسین الحق صاحب کا تعلق شیر شاہ کے شہر سہسرام کے عظیم صوفی خاندانِ مشائخ سے ہے۔ ان کے والد حضرت مولانا انوارالحق شہودی نازش سہسرامی تھے جو خود ایک مشہور عالم دین، خطیب، شاعر اور ادیب تھے۔ ان کی والدہ محترمہ شوکت آرا کا بھی تعلق سہسرام سے ہی تھا۔ حسین الحق صاحب 2 نومبر1949 کو سہسرام میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم خانوادے کی روایات کے مطابق ان کے والد کے زیر سایہ دینی تعلیم سے ہوئی، اس کے بعد انھوں نے مدرسہ کبیریہ سے مولوی کا امتحان پاس کیا، بعدازاں آرا ضلع اسکول آرا سے1963ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1968 میں ایس پی جین کالج سے گریجویشن مکمل کیا اور یونیورسٹی میں اوّل ہوئے۔ بعد ازاں پٹنہ یونیورسٹی سے 1970 میں اردو میں ایم اے کیا اور اس میں بھی ٹاپ ہوئے۔ 1972 میں مگدھ یونیورسٹی بودھ، گیا سے فارسی میں بھی ایم اے کی سند حاصل کی، بعد ازاں گورو گووند سنگھ کالج، پٹنہ میں عارضی طور پر بحیثیت لیکچرار ملازمت بھی کی، بعد ازاں یو جی سی سے جونیر فیلوشپ ملی اور غالباً 1974ء تک ریسرچ فیلو کی حیثیت سے پٹنہ یونیورسٹی میں تحقیقی و تدریسی کاموں میں مصروف رہے، ان کے اس زمانے کے شاگردوں میں پروفیسر شاداب رضی، ڈاکٹر انیس صدری، ڈاکٹر نعیم فاروقی اور آج کے کانگریسی لیڈر شکیل الزماں کا نام قابلِ ذکر ہے'


1977ء میں ان کی شادی سیّد محمد اسرارالحق کی صاحبزادی نشاط آرا خاتون سے ہوئی۔ اللہ نے انہیں دو بیٹی اور دو بیٹوں سے نوازا۔ اسی درمیان ایس پی کالج، دمکا میں ان کی پوسٹنگ ہوئی اور 1981ء میں شعبہ اردو پوسٹ گریجویٹ مگدھ یونیورسٹی بودھ گیا (بہار) میں ان کا تبادلہ ہو گیا۔ مگدھ یونیورسٹی بودھ گیا سے ہی صدرشعبہ کی حیثیت سے2013 میں وظیفہ یاب ہوئے۔

والد صاحب کی رہنمائی میں لکھنے کا کام تو دس برس کی عمر سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ حسین الحق صاحب کی پہلی کہانی عزت کا انتقال غالباً 1964 یا 1965 میں ماہنامہ کلیاں لکھنو میں صوفی بلیاوی کے نام سے شائع ہوئی۔ اسی سال ماہنامہ جمیلہ دہلی میں ان کا پہلا افسانہ پسند شائع ہوا۔ 1966ء میں انہوں نے بچّوں کا ایک رسالہ انوار صبح سہسرام سے نکالا۔ 1969 میں ان کا پہلا مضمون بعنوان اردو شاعری پر گاندھی جی کے اثرات بہار کی خبریں پٹنہ میں شائع ہوا۔


اردو فکشن کے آبرو جناب حسین الحق صاحب کو صرف کہانی کار کہنا شاید ان کے ساتھ زیادتی ہوگی، در حقیقت وہ ایک معلم، مفکر، فلسفی، تاریخ داں، متصوّف، ماہرنفسیات، مصلح اور عالمی ادبیات کے عارف بھی ہیں۔ ان کی شخصیت کے یہ پہلو ان کے ناولوں اور افسانوں میں بخوبی نظر آتے ہیں، یہی خصوصیات انھیں ہم عصر فکشن نگاروں سے الگ کرتی ہیں اور ان کی کہانیاں صرف کہانیاں نہیں رہتیں وہ ہمارے ادب عالیہ کا اہم فن پارہ بن جاتیں ہیں۔ نامور افسانہ نگار، ناقد اور محقق کلام حیدری صاحب فرماتے ہیں کہ ”حسین الحق صاحب کے پاس روایات کا خزانہ ہے اور وہ انہیں عہد جدید کے Relevant بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مذہب ان کی تربیت کا پسِ منظر ہے۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ حسین الحق کے یہاں حق و باطل کی کشمکش ایک خاص موضوع ہے، لیکن یہ کشمکش تو ازلی ہے لیکن حسین الحق اسے حالاتِ حاضرہ پر منطبق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، چنانچہ کوئی بھی تاریخی واقعہ نئے منظرنامے کا جزو بن جاتا ہے اس لیے کہ یہ کشمکش لافانی ہے۔“

حسین الحق صاحب کا ایک افسانہ ”وَقِنَا عَذَابَ النّارِ“ جو میں نے بہت پہلے پڑھا تھا اس کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ تیس برسوں سے ایک لاش کمرے میں گل سڑ رہی تھی۔ اب لوگوں کو اس کا احساس ہوا ہے۔ لوگ اس سے نجات حاصل کرنے کی فکر میں ہیں کہ لاش غائب ہو جاتی ہے اور دو حصّوں میں تقسیم ہوکر وقت بے وقت گھروں پر دستک دیتی ہے اور انھیں اپنا شکار بناتی ہے۔ ہو سکتا ہے حسین الحق صاحب ہندو مسلم نفاق کا استعارہ لاش کو بنائے ہوئے ہوں کہ دونوں ایک دوسرے کی زندگی کے درپے ہیں۔ یہ لاش ہندو-مسلم فساد کی ہے۔ یہ لاش انسانیت کی ہے جو برسوں سے لوگوں کی بے حسی سے تنگ آکر اب خود انھیں جگانے چلی آتی ہے۔


طارق سعید صاحب ان کے بارے میں اظہارِ خیالات کرتے ہیں کہ: ”حسین الحق صاحب کا فن علامت، استعارہ اور تمثیل کے بوتے پر مہملیت سے کنارہ کشی اور ماورائی کائنات اور اقدار کی کہانی عبارت ہے خارجی حالات کی نامساعد کیفیات کا لامتناہی سلسلہ ایک طرف اور ہزاروں خواہشات کی تکمیلیت دوسری طرف ایسی صورت میں انسانی زندگی میں تضاد کا پیدا ہو جانا کوئی تعجّب کی بات نہیں۔“

گزشتہ دو عشروں میں حسین الحق صاحب فکر و فن اور علم و بصیرت کے اس بلند مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان کے ہم عصروں میں شاید ہی کوئی ہو۔ حسین الحق صاحب کو شاعری سے بھی خوب لگاﺅ رہا۔ انھوں نے لاتعداد غزلیں اور نظمیں لکھی ان کی نظموں کا مجموعہ ”آخری گیت1971ء میں شائع ہوا، ڈیڑھ سو سے زیادہ افسانوں اور تین عہدساز ناولوں کے خالق حسین الحق کے افسانوی مجموعوں میں (1) پش پردہ شب 1981، (2) صورتِ حال 1982، (3) بارش میں گھرا مکان 1984، (4) گھنے جنگلوں میں 1989، (5) مطلع 1995، (6) سوئی کی نوک پر رکا لمحہ 1997، (7) نیو کی اینٹ 2009 قابلِ ذکرہیں۔


غور سے دیکھیں تو ایک سو سے زیادہ حسین الحق صاحب کے افسانے اردو فکشن کی آبرو قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ لیکن افسانہ نیو کی اینٹ، چپ رہنے والا کون، ندی کنارے دھواں، استعارہ، ایندھن، مورپاؤں، جلیبی کا رس، کربلا، زخمی پرندے، گونگا بولنا چاہتا ہے، سبحان اللہ، وَقِنَا عَذَابَ النّارِ، انحد، کہاسے میں خواب، مردہ راڈار، لڑکی کو رونا منع ہے اور جلتے صحرا میں ننگے پیروں رقص وغیرہ ایسی تخلیقات ہیں، جنھیں افسانوی ادب میں دوام کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ان کی کہانیوں کے متعلق یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ تاریخ، کلچر، مذہب اور اساطیر سے کم آگاہ قاری ان سے پوری طرح محظوظ نہیں ہوسکے گا۔ دراصل ان کا تخصص یہ ہے کہ انھوں نے ماضی کے واقعات اور اساطیر کے حوالے سے اپنے عہد کی سنگین حقیقتوں کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ افسانہ نیو کی اینٹ میں بھی انہوں نے مسلمانوں کے حالات پر روشنی ڈالی ہے خصوصاً اس نقطہ نظر سے کہ کس طرح انھیں Fundamentalism کی آڑ میں بدنام کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یہ سازش مسلمانوں کی اہمیت پر ضرب لگانے کی ایک نامشکور کوشش ہے۔

حسین الحق صاحب نے اس موضوع کو کسی عامیانہ انداز میں پیش نہیں کیا بلکہ فنی صورت اس طرح دی کہ اثرات دورس ہو جاتے ہیں۔ دراصل بابری مسجد کی شہادت پر لاتعداد کہانیاں لکھیں گئی ہیں۔ حسین الحق صاحب کا لازوال افسانہ ”نیو کی اینٹ“ بھی اسی المیہ پر مبنی ہے لیکن نیو کی اینٹ کو اس لیے بابری مسجد المیہ کے ضمن میں شاہکار کا درجہ حاصل ہے کہ یہ واحد تخلیق ہے جو حیرت ناک طور پر اکثریتی اور اقلیتی طبقہ کے سماجی اور تہذیبی رشتوں کے روایتی استحکام کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ بہار کے گیا شہر کے شیو پوجن اور سلامت اللہ کی دوستی کی کہانی ہے۔


حسین الحق صاحب نے ہندوستانی مسلمانوں کی قدیم روایات، سماجی اقدار و زوال اور تباہی کی کبھی نہ بھولنے والی کہانیاں تخلیق کی ہیں۔ آج کے ہندو مسلم افتراق کی جو غیر فطری صورت حال پیدا ہوتی ہے وہ کسی بھی افسانہ نگار کو مسلسل پریشان کرنے کے لئے کافی ہے۔ وہ تخلیقی سطح پر بیدار ہوکر اسے برتنے کی سعی میں مصروف نظرآتا ہے۔ اسی سلسلے کی کہانی ’مورپاؤں‘ بھی ہے جس میں غیر فطری طور پر جس طرح ہندوستان اور مسلمانوں کے درمیان دیوار کھینچنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کلچرل طریقے پر ان کی تقسیم کا بگل بجایا جارہا ہے وہ حسین الحق کے کرب کی ایک صورت ہے۔ جسے وہ تخلیقی طور پر برت کر ایک طرح کی کتھارسس کرتے نظر آتے ہیں۔ افسانہ ’گونگا بولنا چاہتا ہے‘ میں بھی انہوں نے گلوبل ایشوز کے موضوع پر سوالات کھڑے کئے۔ اسی طرح دوسرے افسانوں میں بھی بعض ایسے حالات کو کہانی کی شکل دی گئی ہے، جس میں عالمی مسائل در آئے ہیں، فی زمانہ عالموں کا ایک جم غفیرہے، جس میں چند عالم با عمل ہیں اور زیادہ تعداد بے عمل عالموں کی ہے۔ یہ حالات کا جبر ہے، عالم ِباطل مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔ ایسی تصویر دیکھنی ہو تو افسانہ ”زخمی پرندہ“ پر ایک نگاہ ڈالنی چاہیے۔

حسین الحق صاحب کا افسانہ ”جلیبی کا رس“ سیاست کے میدان میں کامیابی اور عہدوں کی آرزو میں ضمیر کا سودا کرنے والے کرداروں کی کہانی ہے۔ انھوں نے ہندوستانی معاشرے کے جس پہلو پر بھی افسانہ لکھا ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔ بہر حال یہ کچھ کم نہیں کہ شترمرغ کی طرح حالات کی دھوپ سے بچنے کے لئے غفلت کی ریت میں سر چھپانے والی جماعت میں سے ایک شخص نے سچائی بیان کرنے کی جرات و شجاعت کی ہے۔ مذہب فلسفہ، تاریخ، تصوف، سیاست اور پھر عہدحاضر کے رجحانات ان سب سے آگہی کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے حسین الحق صاحب نے جو دعوتِ فکر دی ہے وہ فوری طور پر قابلِ قبول نہ ہو مگر قابلِ غور ضرور ہے۔ حسین الحق صاحب کے نوک قلم سے اب تک تین شاہکار ناولوں کی بھی تخلیق ہو چکی ہے۔ (1) بولو مت چپ رہو 1990، (2) فرات 1992، (3) اماوس میں خواب 2017 قابلِ ذکر ہیں۔


ان کا پہلا ناول بولو مت چپ رہو (1991) آج کی دنیا میں تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کے مسائل پر یہ اردو ادب کو حسین الحق صاحب کی فکر انگیز دین ہے۔ ”بولو مت چپ رہو“ ناول کا بہترین تعارف یہ ہے کہ بولومت چپ رہو!! ناول میں جس فنکارانہ خلوص اور مفکرانہ اسلوب میں ہندوستان کے تعلیمی نظام کا محاکمٰہ کیا ہے وہ بڑا ہی دلچسپ ہے۔ یہ اس موضوع پر اب تک کا سب سے اچھا ناول ہے، لیکن ان کا شہرہ آفاق ناول ”فرات“ اردو کی عصری ناول نگاری میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ناول ’فرات‘ کو ملک گیرسطح پر مقبولیت حاصل ہے۔ حسین الحق صاحب نے تاریخی، تہذیبی، ثقافتی اور معاشرتی شعور سے اپنا تخلیقی نظام قائم کیا ہے۔ انھوں نے فکشن کے رائج سانچوں کو توڑ کر اظہار کے نئے رویوں کو فروغ دیا ہے۔ ناول فرات اس کی واضح مثال ہے جو تشنہ لب انسانیت کا اعلامیہ ہے۔ حسین الحق صاحب نے اپنے ناول کے کردار وقار احمد کے توسط سے پانچ نسلوں پر مشتمل ایک کہانی قاری کے سامنے پیش کردی اور سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے کے نئے در کھول دیئے۔ اس عبرت ناک کہانی کا مرکزی کردار وقار احمد ہے جن کی پشت پر اباجان اور دادا حضرت کی یادیں، سامنے بیٹے، بیٹی، پوتے، پوتی اور درمیان میں خود وقار احمد اور ان کی پچھتّر سالہ زندگی کے نشیب و فراز ہیں۔

”فرات“ کی کہانی بظاہر ایک خاندان کی کہانی کی طرح ابھرتی ہے لیکن آہستہ آہستہ اس کا کینوس وسیع ہوتا جاتا ہے اور پھر اس میں ماضی کا جبر، جنریشن گیپ، مذہبی رویّے، سیاستِ تہذیب، ثقافت غرض زندگی کے مختلف پہلووں کے در کھلتے چلے جاتے ہیں اور وہ بھی اس تخلیقی خوبی اور فنی چابک دستی کے ساتھ کہ قاری کی دلچسپی ناول کے آخری صفحات تک مسلسل برقرار رہتی ہے۔ ناول اس کرب کا بھی شدت سے احاطہ کرتا ہے جس میں ہندوستانی مسلمان تقسیمِ وطن کے بعد سے آج تک عدم تحفظ کے حالات سے دوچار ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات کس طرح صرف مسلمانوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچاتے ہیں اور پولیس اس میں برابر کی شریک رہتی ہے۔ یہ ناول اس بات کی نشاندہی کرتا ہے اور لاشعوری طور پر یہ بھی احساس دلاتا ہے کہ مسلمانوں کے پاس یا توعظمت رفتہ کی داستانیں ہیں یا حال کی بدحالیاں اور وہ ان ہی کے وسیلوں سے جی رہیں ہیں۔


حسین الحق صاحب کا تیسرا ناول ”اماوس میں خواب“ جو کہ اکتوبر2017 میں منظر عام پر آیا۔ انہوں نے ایک شعر کے ذریعہ ہم قارئین سے ناول کی پہچان کرائی ہے۔

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

دیا جل رہا ہے، ہوا چل رہی ہے

ناول تقسیم کی کوکھ سے جنم لینے والے ایسے انسان کی کہانی ہے، جو تہذیب کی شکست و ریخت سے نہیں بلکہ تہذیب کے ہر پل بدلتے منظر نامے سے پریشان ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار اسمٰعیل مرچنٹ نام کا ایک شخص ہے جو بھیونڈی، مہاراشٹر کے دوسرے علاقوں میں ہونے والے فسادات سے پریشان در بدر بھٹکتا ہوا اپنی آبائی ریاست بہار کا رخ کرتا ہے، لیکن رفتہ رفتہ یہاں کے حالات بھی خراب ہوتے جاتے ہیں اور ایک دن وہ کسی بم دھماکے کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسمٰعیل کی ناگہانی موت کے بعد اسمٰعیل کی اولادوں کو جن حالات سے گزرنا پڑا ان کا بیان یا تو ناول نگار کے اس احساس کی پیداوار کہا جا سکتا ہے کہ نئی نسل بھی کم و بیش پرانے مسائل سے ہی دوچار ہوتی ہے، میں نے محسوس کیا ہے کہ عہدحاضر کے چھوٹے چھوٹے واقعات و حادثات پر بھی ناول نگار کی نگاہ ہے۔ ناول اماوس میں خواب میں مابعد جدید تکنیک کا زبردست استعمال کیا گیا ہے۔ اماوس میں خواب بنیادی طور پرمابعد جدید عہد کا نمائندہ ناول ہے۔ اس میں بین المتونیت، استعاراتی زبان، شعورکی رو اور واقعات کو درج کرنے میں خالص ہندوستانی ذہن کارفرما ہے۔ حسین الحق کو ان کے اسی بہترین ناول پرساہتیہ اکادمی کا ایوارڈ دینے کااعلان کیا گیا ہے۔

آج تقریباً دو سو افسانے، ڈیڑھ سو مضامین، سات افسانوی مجموعے، تین عہدساز ناول، چار نثری کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جس میں’مطلع‘ کو بہار اردو اکیڈمی نے پہلے انعام اور ناول ”فرات“ کو دوسرے انعام سے نوازا، اور افسانوی مجموعوں ’پس پردہ شب‘ اور ’صورتِ حال‘ کو بھی دوسرے انعام کا مستحق سمجھا۔ 2017 میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کی طرف سے ان کو مغربی بنگال اردو اکادمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ حسین الحق صاحب کو 2018 کا غالب ایوارڈ برائے اردو نثر، غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے بھی سرفراز کیا گیا، یہ ایوارڈ 12 دسمبر2018 کو بین الاقوامی غالب تقریبات کے افتتاحی جلسے میں عطا کیا گیا۔


انھوں نے تصوّف و روحانیت کے موضوع پر بھی مسلسل مقالات تحریر کئے۔ آپ نے (1) آثار حضرت وحید تصنیف حضرت سرور اورنگ آبادی (2) غیاث الطالبین تصنیف حضرت مولانا غیاث الدین اصدقی (3) فوز و فلاح کی گمشدہ کڑی تصنیف مولانا انوار الحق شہودی (4) شرفِ آدم کا نقطہ عروج تصنیف مولانا انوار الحق شہودی کی ازسر نو تالیف و تدوین کی۔ برگزیدہ دینی و روحانی شخصیت حضرت وصی کی سوانح اور عظیم مجاہد بزرگ حضرت قاضی علی حق کا تذکرہ ”آثار بغاوت“ ان کی مشہور تالیفات ہیں۔ انھوں نے اپنے والد حضرت مولانا انوار الحق شہودی سہسرامی کے دو شعری مجموعے مرتب کرکے شائع کیے۔ انھوں نے قاضی علی حق اکیڈمی کے نام سے باقاعدہ اشاعتی ادارہ ” آمڈاری ہاوس“ سہسرام میں قائم کیا، جہاں سے اپنی اور اپنے والد محترم کی نگارشات کے علاوہ شعراء و ادباء کی معیاری کتابیں بھی شائع کیں۔ ان سب کے علاوہ اتحاد، اساتذہ کی اہمیت، نثر کی اہمیت، اور اردو فکشن ہندوستان میں ان کی گراں قدر تنقیدی و تحقیقی تصانیف ہیں۔

درس و تدریس کی اہم ذمہ داریوں کے ساتھ تصنیف و تالیف میں وہ آج تک پورے ذہنی شعوری اور تخلیقی توانائی کے ساتھ مشغول ہیں۔ فی الوقت حسین الحق صاحب سر سیّد کالونی، نیو کریم گنج، گیا، بہار میں مستقل قیام پذیر تھے۔ بحیثیت اردو ادب کی ایک ادنیٰ طالبہ کے میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ حسین الحق صاحب کے فن اور شخصیت پر یہ باقاعدہ مضمون نہیں یہ محض چند تعارفی جھلکیاں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔