غالب اکیڈمی میں کلیّاتِ سرسیّد کی ابتدائی تین جلدوں کی رونمائی

کلیات سرسیّد کی تمام پچیس جلدیں اپریل 2021 تک منظر عام پر لانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اشاعت کے اعلان سے ہندوستان، پاکستان اور دیگر ممالک کے اردوں داں طبقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

سر سید احمد خاں تصویر سوشل میڈیا
سر سید احمد خاں تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: 25 جلدوں میں سترہ ہزار صفحات پر مشتمل کلیاتِ سر سیّد کی ابتدائی تین جلدوں کی یہاں ایک مخصوص اور معتبر نشست میں رونمائی کی گئی۔ کلیات میں سر سید کی عربی فارسی تحریروں اور ان کے تراجم کے علاوہ کئی دیگر مضامین اور مقالات پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آ رہے ہیں۔ کلیات کے مرتّب مشہور قانون داں اور عالمی اردو ٹرسٹ کے چیٔرمین اے رحمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 1974 میں سر سیّد اکیڈمی قائم کی گئی جس کا مقصدِ قیام ہی یہی تھا کہ سر سیّد کے جملہ علمی و ادبی کارناموں کو یکجا کر کے منظرِ عام پر لائے جائیں لیکن حیرت ہے کہ اس سلسلے میں اکیڈمی کی جانب سے ایسی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

اے رحمان نے کہا کہ شیخ محمد اسماعیل پانی پتی جو سرسید کے بہت بڑے مدّاح تھے اور تقسیمِ ملک کے وقت پاکستان ہجرت کر گئے تھے، انھوں نے نہایت نا مساعد حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے سرسیّد کے علمی سرمائے کو جتنا بھی ان سے مہیّا ہو سکا، جمع کر کے مقالاتِ سر سیّد کے عنوان سے سولہ جلدوں میں شائع کرایا۔ یہ 1963 کی بات ہے۔ اس وقت وہ سولہ جلدیں کانٹے کی چھپائی میں شائع ہوئیں۔ اگرچہ وہ سر سید کا مکمل کام نہیں تھا لیکن سر سیّد اکیڈمی نے ان جلدوں کو نستعلیق میں شائع کرنا بھی بظاہر ضروری نہیں سمجھا۔ یہ کام بھی بیس پچیس سال بعد پاکستان میں ہی انجام دیا گیا۔

اے رحمان نے یہ کہتے ہوئے کہ وہ سر سیّد کے عاشق و مدّاح ہیں اور ان کو محسنِ ملک و ملّت سمجھتے ہیں، استدلال کیا کہ اگر سرسید نے اپنی تعلیمی تحریک کامیابی کے ساتھ نہ چلائی ہوتی تو آج ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت اور بھی بدتر ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً سرسید کی کلیات کا سوال اٹھاتے رہے ہیں اور ان کی شدید خواہش تھی کہ کسی نہ کسی طور یہ کام ہونا چاہیے۔ 2017 میں جب عالمی پیمانے پر سرسیّد کی دوصد سالہ تقریبات منائی جا رہی تھیں تو دہلی کی علی گڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی جامعہ ملیّہ کے شعبۂ انجینیرنگ کے آڈیٹوریئم میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں بحیثیت چیٔرمین عالمی اردو ٹرسٹ اے۔رحمان نے اعلان کیا کہ کلیّاتِ سرسید ٹرسٹ کے ذریعے تیّار اور شائع کی جائے گی۔

انھوں نے یہ کام خود اپنے ذمّہ لیا اور فوراً مواد جمع کرنے میں لگ گئے۔ ڈھائی سال کی محنت شاقّہ کے بعد یہ کام انجام پذیر ہوسکا اور اب کلیات کی طباعت شروع ہو گئی ہے۔ آج 2020 میں یونیورسٹی صدی کی تقریبات کے حوالے سے تین ابتدائی جلدوں کا اجرا عمل میں لایا جا رہا ہے۔ جلد اوّل سر سید کی تفسیر القران ہے جو دو حصّوں میں ہے اور تیسری جلد خطباتِ احمدیہ یعنی سیرۃ النبی ہے۔ اے۔رحمان نے مزید بتایا کہ کلیات میں سرسید کی عربی اور فارسی تحریروں کو ان کے اردو تراجم کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ان زبانوں سے نابلد اردو طبقہ بھی سر سید کے خیالات و نظریات سے مستفیض ہو سکے۔

اس سے قبل ان تحریروں کے جو بھی مجموعے شائع ہوئے تو ان میں ترجموں کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا۔ مذکورہ تحاریر کے ترجمے کے لئے جیّد پروفیسران اور ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کلیات پچیس جلدوں پر مشتمل ہو گی اور ہر جلد میں چھ سو سے سات سو تک صفحات ہوں گے، جہاں موضوع کے صفحات سات سو سے زائد ہیں جیسا کہ تفہیم القران میں ہوا تو وہاں اس جلد کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جہاں پہلی جلد تفہیم القران اور دوسری سیرۃ النبی ہے وہاں آخری جلد میں سرسیّد کے ایسے متفرّق مضامین و مقالات ہیں جن میں سے بیشتر سرسید کی حیات میں اشاعت کے بعد کسی دیگر جگہ شائع نہیں ہوئے اور پہلی مرتبہ سامنے لائے جا رہے ہیں۔

تقریب کی مجلسِ صدارت میں مولانا آزاد یونیورسٹی (جودھپور) کے صدر (وائس چانسلر) پدم شری پروفیسر اختر الواسع اور قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (NCPUL ) کے ڈائریکٹر شیخ عقیل احمد شامل تھے۔ ان کے علاوہ بھی اردو درس و تدریس سے وابست کئی اہم شخصیات نے تقریب سے خطاب کیا۔ صدرِ شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی پروفیسر ابنِ کنول نے کہا کہ بحیثیت فردِ واحد اے۔رحمان نے وہ کام کر ڈالا جو اداروں کے لئے بھی مشکل تھا۔ انھوں نے کہ وہ تنہا کئی اداروں پر بھاری ہیں۔ وہ بیس سال سے ان کو اردو کی بے لوث خدت کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور جس طریقے سے وہ اپنا وقت، قوت اور ذاتی پیسے اردو کے لئے خرچ کرتے ہیں ایسا کرتے ہوئے انھوں نے کسی اور کو نہیں دیکھا۔ جواہر لال یونیورسٹی کے پروفیسر اخلاق آہن نے کہا کہ رحمان صاحب نے ایک عظیم تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے۔اس کے لئے وہ قابلِ صد مبارکباد ہیں۔ اردو روزنامہ انقلاب کے ایڈیٹر شکیل حسن شمسی نے کہا کہ رحمان صاحب میرے قریبی دوست ہیں اور اچانک لوگوں کو اپنے کام سے متحیّر کر دینے کے ماہر ہیں۔ ان کا یہ کارنامہ بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ اپنے صدارتی کلمات میں پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ اے۔رحمان نے وہ کام کیا ہے کہ قیامت تک ان کا نام سرسید کے نام کے ساتھ لیا جائے گا اور یہ ان کے اس کام کا سب سے بڑا انعام ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ رحمان صاحب کو ان اداروں کا مشکور ہونا چاہیے جنہوں نے غفلت یا کسی اور وجہ سے اپنا یہ فرض انجام نہیں دیا ورنہ رحمان صاحب کو یہ سعادت کہاں سے نصیب ہوتی۔ ان پر اور ہم پر سرسید کا جو قرض تھا وہ رحمان صاحب نے ادا کر دیا۔ دوسرے صدر ڈاکٹر شیخ عقیل نے حاضرین کو بتایا کہ کلیاتِ سرسید کے مرتّب ہو جانے کی خبر سن کر انہوں نے رحمان صاحب کو پیشکش کی کہ کلیات کونسل کے ذریعے شائع کر دی جائے گی لیکن رحمان صاحب نے یہ پیشکش نامنظور کردی تھی شاید اسی لئے کہ وہ کلیات کی اشاعت کا مکمّل کریڈٹ لینا چاہتے تھے۔ بہر حال انہیں یہ کریڈٹ دیا جانا چاہیے۔ یہ ایک تاریخ ساز کام ہے اور ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اس تقریب کی ایک دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ مارچ میں لاک ڈاؤن سے ایسی تقریبات کا سلسلہ منقطع ہو جانے کے بعد یہ پہلی اردو تقریب تھی جو آن لائن نہیں تھی اور جس میں لوگوں نے اصالتاً شرکت کی۔ شرکا میں زیادہ تر سینیٔر علیگ حضرات اور دہلی کی اہم اردو شخصیات شامل تھیں۔ سرسیّد کی کلیّات بلا کسی تعاون یا اشتراک عالمی اردو ٹرسٹ کے ذریعے شائع کی جا رہی ہے اور اپریل 2021 تک تمام پچیس جلدیں منظر عام پر لانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اشاعت کے اعلان سے ہندوستان، پاکستان اور دوسرے ممالک کے اردوں داں طبقے میں عموماً اور علیگ برادری میں خصوصاً خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next