مذہبی شاعری کا وقار افتخار الشعرا معجز سنبھلی

معجزسنبھلی کا اصل قلمی سرمایہ ان کی مذہبی شاعری ہے، ان کے کلام کا بغور مطالعہ کرنے سے معجزسنبھلی ایک ایسے جرت مند اور بے باک شاعر کے روپ میں نظر آتے ہیں جو معاشرے میں آعلیٰ قدروں کے قیام کا خواہاں ہے۔

معجز سنبھلی
معجز سنبھلی
user

جمال عباس فہمی

مغربی اتر پردیش میں سنبھل نام کا شہر ویسے تو بہت بڑا شہر نہیں ہے لیکن اس کی سرزمین علم و ادب کی امین رہی ہے۔ دلّی کی ٹکسالی زبان کے استاد شاعر داغ دہلوی کے چہیتے شاگرد اور جانشین باغ سنبھلی نے اسی شہر کی ادبی فضا میں پرورش پائی اور سنبھل میں دہلی اسکول کی داغ بیل ڈالی۔ اسی سرزمین نے محفوظ سنبھلی جیسا استاد شاعر اردو ادب کو دیا۔ اسی سرزمین سے منور سبزواری جیسا جدید لہجے کا شاعر اور ناول نگار اردو ادب کو میسر ہوا۔ قمر سنبھلی اور مخمور جمالی بھی اسی سرزمین کے نمائندہ اہل قلم رہے، لیکن سنبھل کی ادب کی تاریخ معجز سنبھلی کے نام کے بغیر نا مکمل رہے گی۔

معجز سنبھلی بالکل اسی طرح ادب کے حوالے سے سنبھل کی شناخت بنے جس طرح جگر مراد آبادی مراد آباد کی۔ معجز سنبھلی اپنے لہجے کے اعتبار سے منفرد طرز کے شاعر تھے۔ انہوں نے اردو شاعری کی کوئی صنف مشق سخن کئے بغیر نہیں چھوڑی۔ سخن گوئی انہیں اپنے ننیہال سے ورثے میں ملی تھی۔ ان کے نانا کندرکی میں اپنے دور کے استاد شاعر تھے اور بلیغ تخلص رکھتے تھے اور ماموں عنایت نبی ارشد کندرکوی بھی صاحب کمال شاعر تھے۔ ننیہال کی سخن گفتنی کا اثر معجز سنبھلی پر لڑکپن میں ہی پڑنا شروع ہو گیا تھا۔ معجز سنبھلی کی ادبی خدمات اور ان کی قلمی کاوشوں کا تفصیل سے ذکر کرنے سے پہلے ان کے بارے میں جان لینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ سنبھل کی نوریوں سرائے میں 18اپریل 1910 کو سید جواد حسین کے گھر میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی، والدین نے نام تجویز کیا معجز حسین۔


معجز حسین کو بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے کا شوق رہا، ابتدائی تعلیم رواج کے مطابق مدرسے میں ہوئی، پھر مڈل کیا۔ معجز حسین کے اندر خود درس لیتے لیتے درس دینے کا شوق کب پیدا ہو گیا، پتہ ہی نہیں چلا۔ یہی شوق انہیں مڈل کے بعد ٹیچرس ٹریننگ پی ٹی سی کرا گیا اور وہ جلد ہی ایک سرکاری اسکول سے وابستہ ہو گئے۔ درس و تدرس کے ساتھ ان کی سخن گوئی کا شوق بھی پروان چڑھتا چلا گیا۔ پندرہ سولہ برس کی عمر میں باقاعدہ غزلیں کہنے لگے تھے۔ معجز حسین نے اپنے نام کو ہی تخلص کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے اپنی شاعری کے فن کو نکھارنے کے لئے ایک استاد کی ضرورت محسوس کی تو جانشین داغ دہلوی۔ باغ سنبھلی کے پاس پہنچ گئے۔ یہ ان کی طالب علمی کا زمانہ تھا۔ وہ ساتویں جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ شہر میں ایک طرحی مشاعرہ ہونے والا تھا۔ معجز نے جس طرح میں جو غزل کہی تھی باغ سنبھلی کے سامنے اصلاح کے لئے رکھ دی۔ باغ سنبھلی نے غزل دیکھی۔ کچھ اصلاح فرمائی اور وہاں موجود احباب سے کہا کہ ابھی ان کی طالب علمی کا زمانہ ہے، انہیں شاعری تو نہیں کرنی چاہئے لیکن معاملہ یہ ہے کہ شاعر بنتا نہیں ہے بلکہ پیدا ہوتا ہے۔ معجز سنبھلی کا ایک شعر اسی پس منظر میں ہے، فرماتے ہیں۔

عطا جسے بھی ہو معجز عطا ہے یہ حق کی

ہر اک کو ملتا نہیں ہے سخںوری کا مزاج

معجز سنبھلی بہت زیادہ عرصہ تک باغ سنبھلی کی شاگردی کا فیض نہ اٹھا سکے۔ ان کے انتقال کے بعد معجز سنبھلی متقی سرسوی سے مشورہ سخن کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ وہ غزلوں کے ساتھ ساتھ دیگر اصناف سخن میں بھی ہاتھ آزمانے لگے۔ انہوں نے نظم، رباعی، قطعہ، تاریخ گوئی، حمد، نعت، سلام، منقبت، قصیدہ، مسدس، نوحہ اور مرثیہ نگاری میں اپنی جودت طبع کے جوہر دکھائے ہیں۔ ان کی طرز نگارش، اسلوب سخن اور لفظوں کو برتنے کے ان کے سلیقے کی سخن شناسوں نے تعریف و توصیف کی ہے۔ معروف شاعر، صحافی اور دانشور مہدی نظمی کہتے ییں کہ معجز سنبھلی کی مذہبی شاعری انسان کو اعلیٰ کردار اور اعلیٰ اوصاف پیدا کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اردو ادب کے معروف ناقد پروفیسر سعادت علی صدیقی کہتے ہیں کہ معجز سنبھلی باکمال قادر الکلام فنکاروں میں ہیں جنہوں نے ستائش کی تمنا اور صلے کی پروا کئے بغیر شعرو ادب کی گراں بہا خدمت کی ہے۔ اے ایم یو کے استاد سید ابن الحسن زیدی مشورہ دیتے ہیں کہ معجز سنبھلی کا شمار ان شعرا میں نہیں ہونا چاہئے جو ہوا کے جھونکے کی طرح آئے اور چلے گئے، بلکہ ان کا شمار ان شعرا میں ہونا چاہئے جنہوں نے آنے والی نسلوں کے لئے نقش قدم چھوڑے ہیں۔


معجز سنبھلی کی کل جمع شعری کائنات سولہ مجموعوں پر مشتمل ہے، ان کے کلام کے بارہ مجموعے ان کی حیات میں ہی زیور طبع سے آراستہ ہوچکے تھے، بقیہ ان کی وفات کے بعد ان کے سعادت مند شاگردوں اور لائق فرزندوں کی کاوشوں کے نتیجے میں شائع ہوئے۔ نعتوں کے تین مجموعے جذبات معجز، تحفہ ربیع الاول اور سفینہ آخرت، غزلوں کے تین مجموعے آئینہ در آئینہ، معجز نما اور افکار معجز، نوحوں کے چار مجموعے، غم عام، صبح کربلا، تصویر کربلا اور مصور کربلا، مسدس نظیر کربلا، قطعات کا مجموعہ معجز بیانی، سلاموں کے دو مجموعے رہنمائے معجز اور تنویر کربلا، نوحہ و مسدس کا مجموعہ نوائے معجز، مجموعہ نعت و سلام کائنات معجز، مجموعہ سلام شاہکار معجز، مناقب کا مجموعہ کہکشان معجز اور بچوں کے لئے نظموں کا مجموعہ موتی اور جواہر دیوناگری میں موجود ہے۔

معجز سنبھلی کا اصل قلمی سرمایہ ان کی مذہبی شاعری ہے، ان کے کلام کا بغور مطالعہ کرنے سے معجز سنبھلی ایک ایسے جرت مند اور بے باک شاعر کے روپ میں نظر آتے ہیں جو معاشرے میں آعلیٰ قدروں کے قیام کا خواہاں ہے۔ جو مذہبی آثار پر قوم و ملت کی تشکیل کا تمنائی ہے۔ معجز سنبھلی کی شاعری محض ان کے جذبات کی تسکین کا باعث نہیں تھی۔ انہوں نے شاعری برائے شاعری نہیں کی بلکہ اپنی شاعری کے ذریعے کردار سازی کی کوشش کی۔ معجز سنبھلی نے ایک نصب العین کے تحت اصلاح معاشرہ اور محمد و آل محمد کے اخلاق و تعلیمات کی ترویج اور فروغ کے لئے اپنی شاعری کو ایک وسیلہ بنایا۔ پیغام کربلا کی تبلیغ و اشاعت کو انہوں نے اپنے فرائض منصبی کے طور پر ادا کیا۔


اس کے لئے انہوں نے جو اسلوب اختیار کیا وہ نہایت سادہ اور سلیس ہے، روز مرہ ان کی شاعری کا خاصہ ہے، وہ بھاری بھر کم الفاظ اور تراکیب کے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔ معجز سنبھلی نے امام حسین کے بے عمل عزاداروں، دنیا پرست اور زر پرپرست ذاکروں اور خطیبوں تک کو نہیں بخشا، وہ فرماتے ہیں۔

پیغام کربلا تو دیئے جا رہے ہیں ہم

لیکن عمل کے نام سے گھبرا رہے ہیں ہم

بزم عزا میں شوق سے تو آرہے ہیں ہم

سوچیں یہاں سے کچھ بھی لئے جا رہے ہیں ہم

کیوں دشت کربلا میں بہتر کا خوں بہا

خود بھی یہ راز سمجھے جو سمجھا رہے ہیں ہم

ایک سلام کے ذریعے معجز سنبھلی نے امام حسین کے عزاداروں کو اعلیٰ کردار کا نمونہ بننے کی نصیحت کی، وہ فرماتے ہیں۔

جن ہاتھوں سے آتا ہے علم تم کو سجانا

ان ہاتھوں کو ظالم کے نہ ہاتھوں سے ملانا

جن ہاتھوں سے تم کرتے ہو شبیر کا ماتم

وہ ہاتھ کبھی ظلم و ستم پر نہ اٹھانا

ہے دل میں اگر حضرت عباس کی الفت

اس دل سے خبردار کوئی دل نہ دکھانا

جس سینے پہ شبیر کے ماتم کے نشاں ہیں

اس سینے کو کینے کی خراشوں سے بچانا

ہے سر میں اگر الفت شبیر کا سودا

باطل کے کبھی سامنے وہ سر نہ جھکانا

ہے یاد جو عاشور کے دن خیموں کا جلنا

دشمن کے بھی گھر کو نہ کبھی آگ لگانا

گر اسوہ شبیر کو اپنانا ہے معجز

بیدار ہو خود پہلے پھر اوروں کو جگانا


معجز سنبھلی نے عشق محمد و آل محمد میں ڈوب کر شاعری کی ہے، ان کے نوحے درد و الم کی داستان اس طور سے بیان کرتے ہیں کہ سننے اور پڑھنے والا اشک بہائے بغیر رہ نہیں سکتا۔

ہر لاش پہ زینب روتی تھیں منہ اشکوں سے اپنا دھوتی تھیں

ہر لاش کے چہرے پر چھڑکا ان اشکوں کا پانی مقتل میں

.....

شادی کی گھڑی آئے کنبے کو تمنا تھی

سہرا تو ذرا اپنا دکھلاؤ علی اکبر

.....

زینب نے کہا رو کر عباس خدا حافظ

تم بھی نہ رہو سر پر عباس خدا حافظ

معجز سنبھلی نے دو مرثیے بھی نظم کئے۔ ایک جناب عباس اور دوسرا حسنین علیہ السلام کے حال کا ہے۔ معجز سنبھلی کی غزلوں کا رنگ بھی جداگانہ ہے، وہ روایتی عشقیہ شاعر نہیں ہیں۔ ان کی غزلوں میں بلند ہمتی کا سبق ہے، اعلی ظرفی کی ترغیب ہے، ماضی سے سبق لے کر مستقبل تعمیر کرنے کے مشورے نظر آتے ہیں۔

زندگی چلتی رہے وقت کی رفتار کے ساتھ

حال کو دیکھئے ماضی کو بھلائے رکھئے

ان کے کچھ اشعار تو آج کے سیاسی منظر نامے میں بہت موزوں نظر آتے ہیں مثال کے طور پر یہ شعر

جن کا مقصد خود نمائی کے سوا کچھ بھی نہیں

رات دن سنتے ہیں معجز ایسی تقریریں بہت

.....

انہی کے ہاتھوں میں تنظیم میکدہ دیدیں

جو میکدے کا سلیقے سے انتظام کریں


معجز سنبھلی کی غزلیں بھی کربلائیت کے اثر سے اچھوتی نہ رہ سکیں، جا بجا کربلائی استعارے اشعار میں نظر آتے ہیں۔

اپنے ہی ظلم کا اعلان کیا خود اس نے

وہ جو سر کو میرے نیزے پہ چڑھا کر نکلا

.....

نہر سے پانی وہ پینے کو نہیں آیا تھا

اس کو جو پیاس تھی وہ پیاس بجھا کر نکلا

جو لا سکو تو سمندر کو کاٹ کر لاؤ

یہ نہر تو مری تشنہ لبی سے ہار گئی

.....

میں پرانا رند ہوں میخانہ اسلام کا

آپ نے شاید ابھی معجز کو پہچانا نہیں

بجھادو ان چراغوں کو بجھا دو

اندھیرا کردیا ہے روشنی نے

معجز سنبھلی کے کلام کی تازگی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، وہ نسلوں کی رہنمائی کی قوت رکھتی ہے، معجز سنبھلی 1995 میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے ان کا شعری سرمایہ تو مشعل راہ کے طور پر موجود ہے ہی انہوں نے اپنی زندگی میں جس طرحی مسالمے کی بنیاد رکھی تھی بیاسی برس بعد بھی وہ اسی شان و شوکت کے ساتھ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ معجز سنبھلی نے لائق اور فرماں بردار شاگردوں کی ایک بڑی تعداد چھوڑی جو ان کی تربیت کے سبب ادب کی خدمت کرنے میں مصروف ہیں۔ کیفی سنبھلی، جلال افسر، رفیق راہی، حسین افسر، ظفر سنبھلی اور مراد نقوی اپنے استاد کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ان کی شعری وراثت ان کے دو پوتے سفیر اور علی تنویر سنبھالے ہوئے ہیں۔

ان کایہ شعر ادب کے باذوق افراد کو ان کی شاعری کا مطالعہ کرنے پر آمادہ کرتا رہے گا۔

اگر فرصت ملے تو پڑھتے رہنا

ہزاروں شعر چھوڑے جا رہا ہوں

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔