مرزا غالب: آنے والی صدیوں کا نمائندہ شاعر ...علی جاوید

غالب کی شاعری نہ صرف اپنے دور کی تہذیبی تاریخ کی ضامن ہے بلکہ اس دور کی کھتونی کی روشنی میں امکانات کے نئے دریچے بھی کھولتی ہے اور اپنی تخلیق کے آئینے میں آنے والے دور کی نبض پر بھی قادر نظر آتی ہے

مرزا غالب / تصویر بشکریہ ڈان ڈاٹ کام
مرزا غالب / تصویر بشکریہ ڈان ڈاٹ کام
user

علی جاوید

غالب 27 دسمبر 1797 کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام اسداللہ خاں تھا۔ شاعری کے لیے اسد تخلص کا انتخاب کیا، لیکن بعد میں جب پتہ چلا کہ کوئی اور شخص بھی اسد کا تخلص استعمال کرتا ہے تو اپنا قلمی نام بدل کر غالب منتخب کیا اور اسی نام سے عالمی شہرت حاصل کی۔

جیسا کہ عام نظریے کے تحت مانا جاتا ہے کہ ادب سماج کا آئینہ دار ہوتا ہے، غالب کی شاعری اسی کی مصداق ہے جو نہ صرف اپنے دور کی تہذیبی تاریخ کی ضامن ہے بلکہ اس دور کی کھتونی کی روشنی میں امکانات کے نئے دریچے بھی کھولتی ہے اور اپنی تخلیق کے آئینے میں آنے والے دور کی نبض پر بھی قادر نظر آتی ہیں۔ انھوں نے انیسویں صدی کے تاریخی انقلابات اور سماجی اقدار کی پامالی کا ماتم کرتے ہوئے کہا:

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

1857 کے انقلابی جذبے کے تحت انھوں نے انگریزوں کی طرف سے ڈھائے گئے مظالم کی تصویر کشی کرتے ہوئے اپنی نثر کے ذریعے بھی خوں ریزی اور بربریت کا ماتم کیا اور کہا کہ:

’’ہائے اتنے یار مرے کہ اب جو میں مروں گا تو میرا رونے والا بھی نہیں ہوگا۔ بچھڑے ہوئے قیامت کو ملیں سو ملیں۔ سو، وہاں کیا خاک ملیں گے، شیعہ الگ، سنی الگ، نیک جدا، بد جدا!‘‘

ان کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو یہ تھا کہ وہ خلق خدا کو ہندو، مسلمان یا عیسائی کی حیثیت سے نہیں بلکہ صرف انسان کی نظر سے دیکھتے تھے۔ حالات کا ماتم ضرور کرتے تھے لیکن زندگی سے مایوسی کبھی اختیار نہیں کی اور مستقبل پر نظریں جمائے بہتر سے بہتر امکانات کی طرف آگے بڑھنے کی تحریک دیتے ہیں جس کی بھرپور عکاسی عہد ساز ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کی شاعری میں نظر آتی ہے۔ فیض کے مطابق ان کی نظریں قطرے میں دجلہ دیکھتی تھیں جس کے ذریعے آنے والی نسلوں کو اپنے دور سے صدیوں آگے دیکھنے کا جذبہ عطا کرتی ہے۔ انھوں نے کہا:

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب

ہم نے دشت امکاں کو ایک نقش پا پایا

ان کی شاعری ہر عہد کی ناہمواریوں اور ظلمت کدے کی نقاب کشائی کرتی ہے اور ان کے دل کا درد اپنے زمانے کے ہر فرد کا درد بن جاتا ہے۔

دردِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلا دوں

انگلیاں فگار اپنی، خامہ خوں چکاں اپنا

آج کے سماجی حالات پر غور کیجیے اور غالب کے اپنے دور کا ماتم خود ان کی زبانی سنیے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی یہ باتیں انیسویں صدی کی نہیں بلکہ حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ نظر آتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

’’کیسے کمپنی بہادر آئے ہیں! کہیں کوئی شہر بک رہا ہے، کہیں کوئی ریاست بک رہی ہے، کہیں فوجوں کی ٹکڑیاں بیچی جا رہی ہیں، خریدی جا رہی ہیں، یہ کیسے سوداگر آئے ہیں اس ملک میں، سارا ملک پنساری کی دکان بن گیا ہے۔ معلوم نہ تھا کہ اتنا کچھ ہے گھر میں بیچنے کے لیے۔ زمین سے لے کر ضمیر تک سب بک رہا ہے، سب بکتا جا رہا ہے۔‘‘

غور کیجیے کہ غالب اپنے دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاجرانہ کمینگیوں کا ذکر کر رہے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ اشارہ ہمارے دور کی حکومت کے ذریعے کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں موجودہ ہندوستان کی بے ضمیری کا ماتم ہے کہ سارا ملک گروی رکھا جا رہا ہے اور عوام مجبور ہو کر اس کے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

غالب کی انفرادیت یہ بھی تھی کہ وہ بڑے ہلکے پھلکے انداز میں گہری سے گہری بات کر دیتے تھے۔ ان کے عزیز ترین شاگردوں میں منشی ہرگوپال تفتہ کا نام بھی شامل ہے۔ اپنے ایک خط میں ان کو لکھتے ہیں:

’’11 مئی 1857 کو چند گورے چھت سے چھلانگ لگا کر میرے گھر میں اترے۔ مجھے، میرے بچوں اور چند نیک کردار پڑوسیوں کو پکڑ کر کرنل براؤں کے سامنے لے چلے۔ راستے میں پوچھا مسلمان ہو؟ میں نے کہا آدھا مسلمان! پوچھا- آدھا مسلمان کیسا؟ میں نے کہا شراب پیتا ہوں، سور نہیں کھاتا۔‘‘

یوں ہی ہلکے پھلکے انداز میں ان کے قول میں مزاح کا پہلو نظر آتا ہے لیکن غور کریں تو اس کے پس پردہ ایک نہایت سنجیدہ سطح کا احتجاج محسوس ہوتا ہے کہ مجھے میرے مذہب کی بنیاد پر مت پہچانو بلکہ میری پہچان ایک انسان کی حیثیت سے کرو۔

المیہ یہ ہے کہ وہ غالب جو عالمی انسانی برادری کا شاعر ہے اور جو مذہب اور قومیت کی بندشوں سے آزاد ہے، اور جس کا شمار عالمی شاعروں میں ہوتا ہے، اسے اپنے ہی ملک میں ایک تنگ نظر حلقہ مسلمان اور اردو تک محدود کر کے رکھتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سلسلے کی بنیاد عہد حاضر کے حکمرانوں نے نہیں بلکہ آزادی کے بعد اس طرح کا ذہنی دیوالیہ پن پنپ رہا تھا جو بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچا ہے۔ ہمارے اردو شعراء نے اس رویے کا اظہار جا بہ جا اپنی شاعری میں کیا ہے اور اہل اقتدار کی بے حسی کو بے نقاب کیا ہے۔ 1947 میں ملک کی آزادی کے بعد اردو زبان کو لے کر جس طرح کا تعصب برتا گیا، وہ ہمارے ملک کی سیکولر اقدار کی نفی ہی نہیں کرتا بلکہ ہمارے ملک کے ایک خاص حلقے کی تنگ نظری کے چہرے سے نقاب اٹھاتا ہے۔ اس ضمن میں غالب کی وفات کے سو سال پورے ہونے پر 1969 میں جب غالب صدی تقریبات کا اعلان کیا گیا تو اپنے دل کے درد کا اظہار ساحر لدھیانوی نے کچھ اس طرح کیا:

اکیس برس گزرے آزادیٔ کامل کا

تب جا کے کہیں ہم کو غالب کا خیال آیا

تربت ہے کہاں اس کی، مسکن تھا کہاں اس کا

اب اپنے سخن پرور ذہنوں میں سوال آیا

سو سال سے جو تربت چادر کو ترستی تھی

اب اس پہ عقیدت کے پھولوں کی نمائش ہے

اردو کے تعلق سے کچھ بھید نہیں کھلتا

یہ جشن، یہ ہنگامہ، خدمت ہے کہ سازش ہے

جن شہروں میں گونجی تھی غالب کی نوا برسوں

ان شہروں میں اب اردو بے نام و نشاں ٹھہری

آزادیٔ خامل کا اعلان ہوا جس دن

معتوب زباں ٹھہری، غدار زباں ٹھہری

جس عہد سیاست نے یہ زندہ زباں کچلی

اس عہد سیاست کو مرحوموں کا غم کیوں ہے

غالب جسے کہتے ہیں اردو ہی کا شاعر تھا

اردو پہ ستم کر کے، غالب پہ کرم کیوں ہے

یہ جشن مبارک ہو پر یہ بھی حقیقت ہے

ہم لوگ حقیقت کے احساس سے عاری ہیں

گاندھی ہو کہ غالب ہو، انصاف کی نظروں میں

ہم دونوں کے قاتل ہیں، دونوں کے پجاری ہیں

ان حالات کے باوجود اردو کے قاری کی حیثیت سے اور غالب کے مداح کی حیثیت سے ہم ناامید نہیں ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ تعصب کی یہ چادر ایک دن ضرور ہٹے گی جو ہمیں اس ظلمت سے اجالے کی طرف لے جائے گی جہاں ہمارے ذہنوں کو یہ خیال روشن کرے گا کہ زبانوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا بلکہ سماجی ضرورتوں کے نتیجے کے طور پر جنم لیتی ہیں جو تخلیق کار کے جذبات و خیالات کی ترجمانی کرتی ہیں اور جب اس کا تخیل زمان و مکان کی بندشیں توڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے تو وہ کسی ایک زبان اور علاقے تک محدود نہیں رہ جاتا اور آفاقی تخلیق کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔

چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگی

سائل ہوئے تو عاشق اہل قلم ہوئے

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 27 Dec 2020, 8:47 AM
next